بابر اعوان نے استعفیٰ دیا یا ان سے استعفیٰ لیا گیا؟ وزیراعظم عمران خان کیساتھ ملاقات میں ایسا کیا ہوا کہ بابر اعوان تیزی کیساتھ کسی سے بات کئے بغیرچلے گئے، معروف صحافی کے تہلکہ خیز انکشافات

  بدھ‬‮ 5 ستمبر‬‮ 2018  |  12:41

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک )بابر اعوان نے استعفیٰ دیا یا ان سے لیا گیا، معروف صحافی خاور گھمن اندر کی کہانی سامنے لے آئے، تہلکہ خیز انکشافات کر دئیے۔ تفصیلات کے مطابق معروف صحافی خاور گھمن نے نجی ٹی وی پر اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بابر اعوان نے استعفیٰ نہیں دیا بلکہ نیب کی جانب سے ریفرنس فائل کئے جانے کی خبر سامنے آنے کے بعد وزیراعظم کےمشیر برائے قانون و پارلیمانی امور کو مستعفی ہونے کا پیغام دیا گیا تھا۔ خاور گھمن اپنی رپورٹ میں لکھتے ہیں کہ تقریباً شام 7 بجکر 20 منٹ پر ڈاکٹر

بابر ا عوان نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر اعلان کیا کہ انہوں نے بحیثیت مشیر وزیر اعظم برائے پارلیمانی امور اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے اور وہ یہ انتہائی قدم قانون کی حکمرانی کے لیے اٹھا رہے ہیں۔ بابر اعوان نے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔دوسری جانب جب وزیر اعظم آفس کے مختلف ذرائع سے بات کی گئی تو معلوم ہوا کہ نیب کی ریفرنس فائل کرنے کی خبر آتے ہی ڈاکٹر بابر اعوان کو اپنے عہدے سے الگ ہونے کا کہا گیا، جواب میں بابر اعوان نے اپنے عہدے سے استعفی وزیر اعظم عمران خان سے ملکر دینے کی خواہش کا اظہار کیا تو وزیر اعظم نے فوری طور پر ملاقات کا کہا۔ ڈاکٹر بابر اعوان کے وزیر اعظم آفس پہنچنے پر ان کی وزیر اعظم سے اکیلے میں ملاقات کرائی گئی جس میں انہوں نے کہا کہ وہ استعفی اپنے ہاتھ سے لکھ دینا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم نے مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر ا عوان کی خواہش کا احترام کیا اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے استعفی لکھ کر دیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ استعفی دینے کے بعد بابر اعوان تیزی کے ساتھ وزیر اعظم آفس سے نکلے اور بغیر کسی سے بات کئے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر چل دئیے۔ تحریک انصاف ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں سب کے لیے یہیمعیار اپنایا جائے گا اور اگر کسی وزیر کے خلاف نیب ریفرنس دائر ہوتا ہے تو اسے بھی مستعفی ہونا پڑے گا۔ اس صورتحال پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی آن میڈیا افیئرز افتخار درانی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے بابر اعوان کی پارٹی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ نیب کلیئرنس کے بعد ڈاکٹر بابر ا عوان کو ان کے عہدے پر واپس بحال کر دیا جائے گا۔استعفیٰ دینے کے بعد میڈیا کوجاری بیان میں بابر اعوان نے کہا کہ نیب الزامات غلط ثابت کرنے کیلئے استعفیٰ دیا، قانون دان کی حیثیت سے عہدے سے چپکے رہنا مناسب نہیں سمجھتا۔ انہوں نے کہا کہ 2007 میں نندی پور منصوبہ بنا اور 2012 میں منظور ہوا، ان کی وزارت کے 16 ماہ میں نندی پور کی سمری آئی نہ ہی روکی گئی، ان کے خلاف تمام کارروائی دو کالی بھیڑوں نے سیاسی مخالفین کیساتھ ملکر کی، انہیں بے نقاب کروں گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں