تحریک انصاف کی مخالفت نے مولانا فضل الرحمان کو بڑا نقصان پہنچادیا،پہلی بار ایسا کام ہوگیا جس کی کسی کو توقع تک نہ ہوگی،تاریخ بدل گئی

  ہفتہ‬‮ 11 اگست‬‮ 2018  |  0:01

کوئٹہ (آن لائن) بلوچستان عوامی پارٹی اور ان کے اتحادیوں نے جمعیت علماء اسلام اور بلوچستان نیشنل پارٹی کو مخلوط حکومت میں نہ لینے کا اصولی فیصلہ کر لیا ذرائع کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی اور ان کے اتحادی عوامی نیشنل پارٹی تحریک انصاف بی این پی عوامی اور ہزارہ ڈیموکریٹک کا گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں اہم اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان میں بننے والی نئی مخلوط حکومت میں بلوچستان نیشنل پارٹی اور جمعیت علماء اسلام کو شامل نہیں کریں گے کیونکہ 6 جماعتوں پر مشتمل اتحاد صوبہکو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن

کرے گا ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے اختلاف کے باعث صوبہ میں ان کی جماعت کو حکومت میں شامل نہیں کریں گے اور بلوچستان نیشنل پارٹی ان کی اتحادی ہونے کے ناطے حکومت میں شامل نہیں ہوگی۔واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف)کسی نے کسی طورپر ہر حکومت میں شامل رہی ہے اور پہلی بار ایسا ہورہاہے کہ مرکز سمیت کسی ایک صوبے میں بھی جمعیت علمائے اسلام حکومت میں شامل نہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں