عمران خان عظیم بزرگ ہستیوں کی نظروں میں ہیں!!خانہ کعبہ میں متبرک ومقدس مقامات کے سامنے44سال گزارنے والی عظیم بزرگ ہستی نے کپتان کو وزیراعظم بننے کے بعد کیا کام کرنے کا پیغام بھیج دیا ؟

  جمعہ‬‮ 10 اگست‬‮ 2018  |  14:10

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )روزنامہ جنگ میں کالم نگار انور غازی اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ ہم حج پر آئے ہوئے ہیں۔ یہاں پر علماء، مشائخ، اولیاء اللہ اور بزرگانِ دین سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔حرمِ مکی کے معروف مدرّس سے ملاقات ہوئی۔ حرم مکی میں گزشتہ ساڑھے چودہ سو سال سے علمائے اسلام کے قرآن وحدیث اور فقہ وفنون کے حلقہ ہائے درس ایک شاندار روایت بن چکے ہیں۔تاریخِ اسلامی نے بڑے اہتمام سے ان مشاہیر واعلام کا تذکرہ محفوظ رکھا ہے جن کو بیت اللہ کے جوار میں حطیم، مقام ابراہیم اور حجر اسود جیسے متبرک ومقدس

شعائر کے سامنے قال اللہ اور قال الرسول کی سعادت ملی ہے۔ آج کا فضل ہے کہ یہ درس کے حلقے آج بھی قائم دائم ہیں۔ گزشتہ چار عشروں سے قائم اس حلقے نے ایک پوری دینی جامعہ کا کردار ادا کیا ہے۔ شاید ہی کسی اسلامی یونیورسٹی سے مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد کو فیض پہنچا ہو جتنا اس حلقے سے پہنچا۔ لاکھوں مسلمانوںنے توحید کے مفہوم کو سمجھا، اتباعِ سنت کی اہمیت جانی، عقائد درست ہوئے، اعمال واخلاق کی اصلاح ہوئی، بزرگانِ دین اور سلف صالحین کی مبارک محنتوں اور پاکیزہ سیرتوں سے آگاہی ہوئی۔ غرض ہر پہلو اور ہر جہت سے مسلمانوں پر جس قدر محنت اسی حلقہ درس میں ہوئی اس کے اثرات آج پورے عالم اسلام پر محسوس کئے جاسکتے ہیں۔ اس مبارک حلقہ کے مسند نشین حضرت مولانا محمد مکی حجازی ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں سے مدرسِ حرم ہیں۔انور غازی لکھتے ہیں کہ جب میں نے حضرت مولانا محمد مکی حجازی سے سوال کیا کہ پاکستان کی نومنتخب حکومت کے لئے کیا کہیں گے؟ لوگ بڑی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں کہ تبدیلی آرہی ہے۔ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہماری ان کو بھی یہی نصیحت ہے کہ وہ پہلے اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے تابع ڈھالیں اور اس کے بعد قرآن و سنتکے تمام احکامات کو ترجیح دیں۔ دین کے تمام مسائل کو ترجیح دیں اور دنیا کو دوسرے نمبر پر رکھیں۔ اگر انہوں نے دنیا کو دین کے تابع کردیا تو دنیا بھی بن جائے گی اور دین بھی بن جائے گا، لیکن اگر دین کو دنیا کے تابع کردیا، سیاست کے معنی یہ نہیں ہے کہ آدمی دین ہی کو چھوڑ دے… جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی… اصل سیاست تو دین ہے۔ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام نےجو طریق اور معاشرت و سبق سکھائے، اب بھی یہی کوشش کریں عدل کے نظام کو نافذ کرنے کے لئے ہر ممکن سعی و جدوجہد کریں۔اللہ تبارک وتعالیٰ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ پاکستان کے لئے ان کے نیک جذبات ہیں۔ مسلمانوں میں اجتماعیت عطا فرمائے، مسلمانوں کی پستی کا بنیادی سبب انتشار ہی ہے، اگر عالم اسلام کے مسلمان متفق ہوجائیں تو ناقابلِ تسخیر ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں