ملکی ادارے سیاست میں مداخلت کر کے ملک کو بحران سے دوچار کرنا چا ہتے ہیں،محمود خان اچکزئی نے سنگین الزامات عائد کردیئے

8  اگست‬‮  2018

اسلام آباد/کوئٹہ (آن لائن)پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ملک کی تمام سیاسی وجمہوری جماعتیں جمہوریت اور آئین کو بچانے کے لئے نکلی ہیں ملکی ادارے سیاست میں مداخلت کر کے ملک کو بحران سے دوچار کرنا چا ہتے ہیں صوبے میں جمہوری حکومت پر شب خون مار کر ایک ایسے حکومت کو تشکیل دی گئی جو حقیقی معنوں میں غیر جمہوری حکومت تھی اور اس کے بعد ایک سیاسی جماعت تشکیل دی گئی جن کا کوئی وجود نہیں تھا

لیکن انتخابات میں ان کو صوبے کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بنا دی اور آج ایوان بالا میں ایسے شخص کو چیئرمین سینیٹ بنایا گیا جو شاید یونین کونسل کا سیٹ بھی نہ جیت سکے ان خیالات کا اظہار محمود خان اچکزئی نے اسلام آباد میں احتجاجی دھرنے سے خطاب اور غیر ملکی خبر رساں ادارے سے بات چیت کر تے ہوئے کیا محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ آج تمام سیاسی وجمہوری جماعتیں ملک اور آئین کو بچانے کے لئے نکلی ہیں ہم یہاں کسی کو گالی دینے نہیں آئے اور نہ ہی ایسے کوئی غیر جمہوری کام کریں گے جس سے جمہوریت کو نقصان ہو پاکستان ایک فیڈریشن ہے یہاں پر تمام اقوام اپنے اپنے مادر وطن پر آباد ہے یہ رضا کارانہ فیڈریشن یہاں کوئی آقا اور غلام کا رشتہ نہیں 73 کا آئین بنا ہم کہیں گے کہ تین لوگ ملک میں حلف لیتے ہیں اور حلف کی پاسداری کرنا چا ہتے ہیں مگر یہاں پر آئین کی پاسداری کا احترام نہیں کیا جا رہا اور ہمارے ادارے مداخلت کر کے آئین کی پاسداری نہیں کر تے جس کی وجہ سے عام انتخابات میں مداخلت کر کے حقیقی نمائندوں کو نظرانداز کیا گیا ہم سمجھتے ہیں کہ ہم پارلیمنٹ میں جانا نہیں چا ہتے مگر جولوگ منتخب ہوئے ہیں ان کو آئین کی پاسداری کرنا چا ہئے جب ادارے سیاست میں مداخلت کر تے ہیں تو پھر فیڈریشن کو خطرہ ہو تا ہے اور ہم ہو تے ہوئے کسی کو بھی ہر گز اجازت نہیں دیں گے کہ وہ آئین کا مذاق اڑائیں انہوں نے کہا ہے کہ صوبے میں ایک سیاسی جماعت کو تشکیل دیا گیا

جن کو عوام میں جڑیں نہیں تھی لیکن انتخابات ہو تے ہی ان کو سب سے بڑی سیاسی جماعت بنا دی اور اس سے قبل صوبے میں ایک منتخب اور جمہوری حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی اورایسے حکومت تشکیل دی گئی جن کا کوئی وجود نہیں تھاپھر سینیٹ انتخابات میں جو کھیل کھیلا گیا اور چیئرمین سینیٹ کو بنایا گیا آج بھی اگر حقیقی معنوں میں انتخابات ہو جائے تو وہی شخص یونین کونسل کی سیٹ بھی نہیں جیت پائے گا انہوں نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوری نظام کے خلاف سازشوں کو روکنا ہو گا اور تمام سیاسی جماعتیں ڈٹ کر حالات کا مقابلہ کرے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک جمہوریت سے ہی مضبوط ہو سکتی ہے اسی لئے یہاں پر خارجہ پالیسی نہ ہونے کے برابر ہے اور سیاسی جماعتوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے مگر ہم تمام سیاسی لوگ متحد ومتفق ہے اور جمہوریت کے خلاف ہونیوالے سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرینگے۔

موضوعات:



کالم



رِٹ آف دی سٹیٹ


ٹیڈکازینسکی (Ted Kaczynski) 1942ء میں شکاگو میں پیدا ہوا‘…

عمران خان پر مولانا کی مہربانی

ڈاکٹر اقبال فنا کوہاٹ میں جے یو آئی کے مقامی لیڈر…

بھکارستان

پیٹرک لوٹ آسٹریلین صحافی اور سیاح ہے‘ یہ چند…

سرمایہ منتوں سے نہیں آتا

آج سے دس سال قبل میاں شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ…

اللہ کے حوالے

سبحان کمالیہ کا رہائشی ہے اور یہ اے ایس ایف میں…

موت کی دہلیز پر

باباجی کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا تھا‘ ساہو…

ایران اور ایرانی معاشرہ(آخری حصہ)

ایرانی ٹیکنالوجی میں آگے ہیں‘ انہوں نے 2011ء میں…

ایران اور ایرانی معاشرہ

ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں ‘ ہم اگر…

سعدی کے شیراز میں

حافظ شیرازی اس زمانے کے چاہت فتح علی خان تھے‘…

اصفہان میں ایک دن

اصفہان کاشان سے دو گھنٹے کی ڈرائیور پر واقع ہے‘…

کاشان کے گلابوں میں

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے‘ یہ سارا…