احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ قانون اور ضمیر کے مطابق سنایا ،اگر جج بدل بھی دیاگیا تو کیا ہوگا؟ اعتزاز احسن کے انکشافات

  پیر‬‮ 16 جولائی‬‮ 2018  |  23:39

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ ہائی کورٹ جج محمد بشیر کی معذرت قبول کرنے کی تابع نہیں احتساب عدالت کے جج نے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ سنایا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اعتزازا حسن نے کہا کہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ قانون اور ضمیر کے مطابق سنایا اور نواز شریف کو کرپشن کے الزامات سے بری کیا ہے۔ہائی کورٹ جج محمد بشیر کی معذرت قبول کرنے کی تابع نہیں اور تاخیر کو روکنے کے لئے انہیں دیگر 2ریفرنسز کی

سماعت کا حکم دے سکتی ہے اگر جج کا تبادلہ بھی ہو جائے اور دوسرا جج بھی آ جائے تو مقدمہ کی سماعت نئے سرے سے نہیں ہو گی۔واضح رہے کہ قبل ازیں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت سے معذرت کر لی ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کو جج محمد بشیر کا خط موصول ہو گیا میڈیا رپورٹس کے مطابق نواز شریف کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے والے جج محمد بشیر نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ وہ ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ کر چکے ہیں ۔ العزیزیہ اور فیلگ شپ ریفرنس کسی دوسری عدالت میں منتقل کر دیں اگر چاہیں تو ان کا تبادلہ بھی کر سکتے ہیں ملزم کے وکیل نے بھی مجھ پر اعتراض کر دیا ہے اور اعتراض کے بعد ریفرنس کی سماعت کرنا مناسب نہیں ہے۔  اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ ہائی کورٹ جج محمد بشیر کی معذرت قبول کرنے کی تابع نہیں احتساب عدالت کے جج نے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ سنایا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اعتزازا حسن نے کہا کہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ قانون اور ضمیر کے مطابق سنایا اور نواز شریف کو کرپشن کے الزامات سے بری کیا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں