’’ میخانے کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہے‘‘۔۔’’ کم ظرف کے ہاتھوں میں ۔۔‘‘ کہاں بھٹو کہاں نواز شریف کہاں بے نظیر ، کہاں مریم نواز ،آصف علی زرداری کا شاعرانہ تبصرہ 

  بدھ‬‮ 11 جولائی‬‮ 2018  |  23:49

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنے اوپر لگائے تمام الزمات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ڈیڑھ کروڑ کے نوٹس پر 40ارب کا ڈھول بجایا جارہا ہے ہے، یہ انتخابات کا وقت ہے احتساب کا نہیں احتساب انتخابات کے بعد بھی ہو سکتا ہے، جو بھی ہونے والا ہے اسے جمہوری انداز میں روکیں گے، انتخابات کا بائیکاٹ سب سے بڑی سیاسی غلطی ہوگی پیپلزپارتی کی غیر جمہوری عناسر کے ساتھ نہیں جو بھی حکومت بنائے گا اسے پیپلزپارتی سے بات کرنا ہوگی،سب کی سنتا ہوں کروں گا وہی جو پارٹی اور ملک کے مفاد میں

ہوگا، حسین لوائی پر ٹارچر کی مذمت کرتا ہوں، ڈنک مارنا نواز شریف کی خصلت میں شامل ہے، حالات بتائیں کے کہ نواز شریف کا کیا بنتا ہے، نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں آصف علی زرداری نے پشاور دھماکے میں شہید ہارون بلور کیلئے مٖغفرت کی دعا کرتے ہوئے کہا کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے ہم نے پہلے بھی مقدمات کا سامنا کیا اب بھی کریں گے، انہوں نے کہا کہ ہمیں ڈیڑھ کروڑ کا نوٹس آیا اور 35،40ارب کا ڈھول پیٹا جارہا ہے، مقدمات کا سامنا کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ہو سکتا مخالف بیٹھ کر کوئی چال چلائیں ان کا کہنا تھا کہ حسین لوائی کو ٹارچر کیا جارہا ہے اس کی مذمت کرتا ہوں اور اپنے اوپر لگائے تمام الزامات کو مسترد کرتا ہوں، انہوں نے کہا کہ کسی کو50لاکھ روپے دے دیں تو واپس لینا مشکل ہوجاتا ہے میں سینیٹر تھا محترمہ اپوزیشن لیڈر تھیں تو بھی ہم پر مقدمات چلے ہم نے مقدمات کا سامنا کیا، اب بھی مقدمات کا سامنا کروں گا، انہوں نے کہا کہ سنوں گا سب کی مگر کروں گا وہی جو پیپلزپارتی اور پاکستان کیلئے اہم ہے عدالت کا براہ راست نوٹس ملے تو اگلے دن پیش ہو جاؤں گا، انہوں نے کہا کہ سیاستدان کبھی سیاسی موت نہں مرتا، انتخابات کے بائیکاٹ کا نہیں سوچا نہیں انتخابی بائیکاٹ کرنا سب سے بڑی سیاسی غلطی ہوگی الیکشن کا بائیکاٹ کرکے کسی کو فری ہینڈ نہیں دی گے،انہوں نے کہا کہ یہ وقت انتخابات کا ہے احتساب کا نہیں احتساب تو انتخابات سے پہلے اور بعد میں ہو سکتا ہے، پیپلزپارٹی کسی غیر جمہوری طاقت کے ساتھ نہیں ایک سوال پر کہا کہ نواز شریف کی سیاست کا انحصار حالات پر ہے، نواز شریف سے کہا تھا کہ ساتھ مل کر جمہوریت کو چلاؤ مگر وہ نہیں مانا ہم نے تو ایک بار نواز شریف کو بچایا بھی تھا، انہوں نے کہا کہ جس نے بھی حکومت بنانی ہے اسے پیپلزپارٹی سے بات کرنی ہوگی، پاکستان پیپلزپارٹی نے کسی بھی غیر جمہوری عناصر سے اتحاد نہیں کیا جو بھی ہونے والا ہے اسے جمہوری انداز میں روکیں گے،انہوں نے کہا کہ مشرف اقتدار میں تھا اور بی بی شہید واپس آئیں تو ہمیں اکثریت مل تھی، ہمیں کسی کی حمایت حاصل نہیں تھی، نواز شریف کو تو حمایت حاصل تھی، انہوں نے کہا کہ حکومت چلانے کیلئے بھی اپوزیشن کی ضرورت ہے ان کا کہنا تھا کہ شرجیل میمن میرا وزیر تھا دوست نہیں، ڈاکٹر عاصم میرے دوست ہیں، منظور کاکا دوست نہیں، انہوں نے کہا کہ جس نے تیرہ سال جیل کاٹی ہو وہ اپنی اپنی پارٹی اور ملک کی سوچ پر چلے گا، انوہں نے کہا کہ کونسا مقدمہ ہے جو مجھ پر نہیں بنایا گیا ایک بار تفتیش کے دوران میری ٹانگوں پر بم باندھ دیا گیا تھا،انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کے موازنے پر آصف زرداری نے شعر سناتے ہوئے کہا کہ ’’مہخانے کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہے‘‘ ’’ کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے‘‘ کہاں بھٹو اور کہاں نواز شریف کہاں بے نظیر اور کہاں مریم نواز ہے، ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے سی کلاس جیل کاٹی ہے نواز شریف نے مقدمہ میں ٖغلطیاں کیں ان کا دفاع صحیح نہیں تھا، ان کو غلطیوں کا خمیازہ بھگتنا پڑا، انہوں نے کہا کہ میر مرتضیٰ بھٹو کیس میں بھی میرے خلاف جے آئی ٹی بنی تھی فوجی آتے تھے پولیس والے تفتیش کرکے چلے جاتے تھے، انہوں نے کہا کہ جس ملک کے ادارے ٹوٹ جائیں وہ ملک ٹوٹ جاتا ہے،عراق، افغانستان اور دیگر ملکوں کی مثالیں موجود ہیں ادارے ملک کا سب سے ضروری حصہ ہوتے ہیں، اداروں کے بغیر ملک نہیں چلتے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں