کپتان کو لینے کے دینے پڑ گئے عمران خان کے خصوصی طیارے کی فوجی ہوائی اڈے سے سعودی عرب روانگی، عدالت نے بڑا قدم اٹھا لیا

  جمعہ‬‮ 22 جون‬‮ 2018  |  16:10

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا نجی جہاز فوج کے زیر انتظام نور خان ایئربیس سے اڑنے اور پھر سعودی عرب سے واپسی پر وہیں لینڈ کرنے کے معاملے پر وزارت دفاع کے جوائنٹ سیکرٹری کو 27 جون کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔عمران خان کے طیارے کی فوجی ہوائی اڈے سے روانگی اورلینڈنگ کے معاملے پر درخواست گزار نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنے وکیل انعام الرحیم ایڈووکیٹ کے ذریعے درخواست دائر کر رکھی تھی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایک سیاستدان


کا پرائیویٹ جہاز فوج کے زیر انتظام ایئربیس سے کیسے اڑ سکتا ہے۔درخواست پرسماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کیسے فوج کے زیر انتظام ایئربیس کو ایک سیاستدان کو استعمال کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے، اسی ایئر بیس سے عمران خان کے قریبی ساتھی ذلفی بخاری کا نام صرف دو گھنٹے میں بلیک لسٹ سے نکال کر انھیں سعودی عرب جانے کی اجازت دی گئی۔درخواست گزار نے مزید کہاکہ نگراں وزیر داخلہ اعظم خان عمران خان فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر ہیں تو ایسے میں شفاف انتخابات کی توقع کیسے رکھی جاسکتی ہے۔دوران سماعت نیب کے پراسکیوٹر مظفر عباسی نے عدالت کو بتایا کہ اُنھوں نے ذلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے لیے کہا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اُنھوں نے کہا کہ نیب نے ذلفی بخاری کو پیش ہونے کے لیے متعدد نوٹس بھیجے ہیں لیکن اُنھوں نے کسی نوٹس کا جواب نہیں دیا۔سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ جسٹس عامر فاروق نے عدالت میں موجود وزارت داخلہ کے اہلکار کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ جیسے اس کیس میں پھرتی دکھائی گئی ویسے عام عوام کے لیے بھی سہولت ہونی چاہیے۔دیگر کیسز میں عدالتی حکم پر عملدرآمدپر ہفتے لگا دیے جاتے ہیں لیکن ذلفی بخاری کا معاملہ صرف دو گھنٹے میں حل کرتے ہوئے ان کا نام بلیک لسٹ سے نکال دیا گیا۔عدالت نے وزارت داخلہ کے اہلکار سے استفسار کیا کہ جب کسی کا نام بلیک لسٹ میں شامل کیا جاتا ہے تو سفری دستاویزات (پاسپورٹ)تحویل میں لے لی جاتی ہیں لیکن کیا ذلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ میں شامل کرتے ہوئے سفری دستاویزات کو تحویل میں لیا گیا؟جس پروزارت داخلہ کے اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ پاسپورٹ ذلفی بخاری کے پاس تھا، تحویل میں نہیں لیا گیا۔ عدالت نے وزارت داخلہ سے اس معاملے پر تفصیلی جواب طلب کرتے ہوئے وزارت دفاع کے جوائنٹ سیکرٹری کو 27 جون کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

موضوعات:

loading...