زلفی بخاری بیرون ملک کیسے گئے؟ بلیک لسٹ میں شامل افراد کا نام وزارت داخلہ اس متعلقہ ادارے کی اجازت کے بغیر نہیں نکال سکتی،چونکا دینے والے انکشافات

  بدھ‬‮ 13 جون‬‮ 2018  |  22:31

اسلام آباد(این این آئی)وزارت داخلہ نے پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق وزیراعظم کے نوٹس پر رپورٹ تیار کرکے وزیراعظم ہاؤس بھجوادی۔زلفی بخاری کا نام ای سی ایل پر تھا اور دو روز قبل انہیں عمران خان اور ان کی اہلیہ کے ہمراہ چارٹرڈ طیارے کے ذریعے عمرے کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب روانا ہونا تھا تاہم ایف آئی حکام نے انہیں نام ای سی ایل میں ہونے کے باعث روک دیا تھا۔زلفی بخاری نے اپنا نام ای سی ایل سے نکلوانے کیلئے کافی تگ و دو کی اور وزارت داخلہ

کے حکام سے اجازت ملنے پر وہ عمران خان کے ساتھ سعودی عرب روانہ ہوئے۔ذرئع کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ نے زلفی بخاری کو 6 دن کے لیے عمرے پر جانے کی اجازت دی تھی۔نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی دوست زلفی بخاری کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کے معاملے پر وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب کی تھی۔ذرائع کے مطابق زلفی بخاری دوہری شہریت رکھتے ہیں اور ان کے پاس پاکستان کے علاوہ برطانوی شہریت بھی ہے۔ذرائع کے مطابق زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکالے جانے سے متعلق وزیراعظم کے نوٹس پر وزارت داخلہ میں اجلاس ہوا جس میں اس معاملے کی رپورٹ تیار کی گئی جو وزیراعظم ہاؤس کو بھی بھجوادی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا کہ جن لوگوں کا نام ای سی ایل کی بلیک لسٹ میں شامل ہو انہیں ون ٹائم پرمیشن بھی نہیں ملتی تو پھر زلفی بخاری کو کس طرح پرمیشن دی گئی۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بلیک لسٹ میں شامل افراد کا نام وزارت داخلہ اس متعلقہ ادارے کی اجازت کے بغیر نہیں نکالتی جس نے اس شخص کا نام شامل کرایا ہو جب کہ ایسے شخص کو متعلقہ ادارے کی اجازت کے بغیر ون ٹائم پرمیشن بھی نہیں دی جاسکتی۔ذرائع کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیاکہ نیب نے زلفی بخاریکا نام بلیک لسٹ کرنے کا کہا تھا تاہم ان کا نام نکالتے وقت نیب کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور انہیں براہ راست بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ای سی ایل کی بلیک لسٹ سے نام نکالنے کیلئے وزارت داخلہ کو تین سے چار روز درکار ہوتے ہیں لیکن زلفی بخاری کو صرف 26 منٹ میں ہی اجازت دے دی گئی۔ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ کی رپورٹ کو وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں