حکومت تحریک انصاف کی ہوگی مگر عمران وزیر اعظم نہیں ہوگا‎ مبشر لقمان کے شو میں ہولناک انکشافات‎

  بدھ‬‮ 13 جون‬‮ 2018  |  17:13

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت تحریک انصاف کی ہو گی مگر وزیراعظم عمران خان نہیں ہونگے، نجی ٹی وی کے پروگرام میں مبشر لقمان کے سوالات پر سینئر صحافیوں نے چیلنج دے ڈالا۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں معروف اینکر مبشر لقمان نے پروگرام میں موجود دو رکنی سینئر صحافیوں کے پینل سے سوال پوچھا کہ آئندہ حکومت کس کی بن رہی ہے جس پر پینلمیں موجود نجی ٹی وی کے اینکر عمران خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ حکومت تحریک انصاف کی بن رہی ہے ۔ جس پر مبشر لقمان نے دوسرا سوال کیا کہ تحریک انصاف

کی حکومت کا وزیراعظم کون ہو گا جس پر اینکر عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ہی ہونگے جبکہ ساتھ موجود سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ یہ بات آپ شاہ محمود قریشی سے پوچھیں ۔ مبشر لقمان نے اس موقع پر سوال پوچھا کہ کیا یہ صحیح کہ شاہ محمود قریشی دو مرتبہ آصف زرداری سے مل چکے ہیں، پینل کی جانب سے جواب دیا گیا کہ شاہ محمود قریشی کو جہانگیر ترین بھی دیکھ رہے ہیں جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین تو اس گیم سے باہر ہو چکے ہیں جس پر جواب دیا گیا کہ آئندہ وزیراعظم کیلئے پارٹی ہی کسی کو نامزد کرے گی ، اینکر عمران خان کا کہنا تھا کہ جو کچھ مرضی ہو جائے مگر شاہ محمود قریشی وزیراعظم نہیں بنیں گے ۔مبشر لقمان نے سوال کیا کہ تو کیااسد عمر وزیراعظم ہونگے جس پر اینکر عمران خان کا کہنا تھا کہ کوئی بن جائے گا مگر شاہ محمود قریشی نہیں بن سکتے۔ اس موقع پر پینل میں موجود سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ معاملہ ایسا پھنس جائے کہ کوئی 15بیس سیٹوں والا وزیراعظم بن جائے۔ اینکر عمران خان نے اس موقع پر اس خیال کو رد کرتے ہوئے کہا کہ کیا ایسا ہو گا کہ کوئی پرویز مشرف ایم کیو ایم کیساتھ مل کر سیٹیں نکال لے گاجس پر وہاں موجود سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ یہاں اور بھی کئی پرویز ہیں۔ اینکر عمران خان کا کہنا تھا کہ پرویز الٰہی جو کہ صوبائی سیٹ پر بھی الیکشن لڑ رہے ہیں اگر پنجاب میں کوئی سینگ پھنس گئےاس طرح تو حکومت بنتی نہ ہوئی اور شہباز شریف کو موقع مل گیا دوبارہ ادھر ادھر سے حکومت بنانے کا تو پرویز الٰہی اس صورتحال میں اہمیت اختیار کر جائیں گے۔ مبشر لقمان نے اس موقع پرکہا کہ میں لکھ کر دینے کیلئے تیار ہوں کہ شہباز شریف کو موقع نہیں ملے گا۔ اینکر عمران خان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی مخالفت میں سب پرویز الٰہی کو ووٹ دے دینگے۔ سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ اگر الیکشن فیئر ہو گئے تو پھر کیا کرینگے۔ ن لیگ تو پھر گیم میں ہو گی ۔ اینکر عمران خان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ فیئر الیکشن کے حوالے سے میں آپ کو بتاتا چلوں کہ مسلم لیگ ن میں میرےکئی دوست ہیں جن کا یہ کہنا ہے کہ ہم حلقوں میں آئے تو لوگ ہمیں منہ ہی نہیں لگا رہے۔ مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ان پر ختم نبوتؐ اور توہین رسالتؐ کا الزام ہے۔ سینئر صحافی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ عید کے بعد احتساب کا خوفناک عمل باقی ہے ۔ مبشر لقمان نے 100سے زائد امیدواروں کے ڈیفالٹر نکلنے کے حوالے سے پینل سے سوال پوچھا کہ یہ جو 100سے زائد امیدوار ڈیفالٹر نکل آئے ان کا کیا بننا ہے۔اینکر عمران خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جہاں سے جو بھی ہے الیکشن کمیشن کو چاہئے وہ ان کو الیکشن نہ لڑنے دے، قانون بھی کوئی چیز ہوتی ہے، مذاق تو نہیں یہ، سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ 35،40دن رہ گئے ہیں ،میں اپنی زندگی میں یہ پہلا الیکشن دیکھ رہا ہوں کہ حلقوں میں کوئی پوسٹر لگا ہوا ہے ، نہ کوئی بینر لگے ہوئے ہیں، نہ ہی الیکشن آفسز میں کرسیاں لگی ہوئی ہیں۔ مبشر لقمان نے اس موقع پر کہا کہ یہ الیکشن مار دھاڑ والا ہو گا جبکہ اینکر عمران خان کا کہنا تھا کہ اس الیکشن میں اتنا پیسہ چلنے والا ہے کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا، سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ میں ان دونوں باتوں سے اتفاق کرتا ہوں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں