مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 5سال میں قرضوں کا نیا ریکارڈ قائم ،صرف پانچ سال میں پاکستان کی تاریخ کی تمام حکومتوں کے مجموعی قرضے سے بھی زیادہ قرض لے لیا،افسوسناک انکشافات

  بدھ‬‮ 23 مئی‬‮‬‮ 2018  |  23:49

اسلام آباد(آن لائن) مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 5سال میں قرضوں کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے، موجودہ حکومت نے قرضوں کے بوجھ میں ریکارڈ 14ہزار ارب روپے کا اضافہ کر دیا ہے، ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ28 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے، قیام پاکستان سے لیکر2013ء تک مجموعی قرضے 14ہزار 318ارب روپے تھے ملک پر مقامی قرضوں کا بوجھ 16ہزار240ارب روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے، سرکاری دستاویزات کے مطابق غیر ملکی قرضے بھیتاریخ کی بلند ترین سطح 10ہزار ارب روپے سے بڑھ گئے ہیں جبکہ سرکاری اداروں کی قرضوں کا

بوجھ 888ارب روپے ہو گیا ہے، موجودہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو قرضوں کا بوجھ14ہزار318ارب روپے تھا جبکہ مشرف کے 9سالا دور حکومت میں قرضوں میں3ہزار 200ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا اور پیپلزپارٹی کی گزشتہ 5سالا دور حکومت میں قرضوں کا بوجھ8ہزار 200ارب روپے بڑھا تھا دستاویزات کے مطابق1999میں ملک پر قرضوں کا مجموعی حجم2ہزار 946ارب روپے تھا جس میں ملکی قرضے 1ہزار389ارب اور غیر ملکی قرضے 1ہزار 557ارب روپے تھے، اس طرح 2008ء تک قرضوں کا مجموعی حجم6ہزار126ارب روپے ہو گیا تھا جس میں ملکی قرضے 3ہزار 275ارب روپے ہو گئے تھے، قانون کے مطابق قرضوں کاحجم جی ڈی پی کے 60فیصد سے زیادہ نہیں ہو نا چاہئے لیکن اس وقت قرضے جی ڈی پی کے تقریباً 75فیصد تک پہنچ گئے ہیں جو فیکل ریپانسبیلٹی اینڈ ڈیٹا لی منٹیشن ایکٹایکٹ 2005ء کی خلاف ورزی ہے، واضح رہے کہ1971میں قرضوں کا مجموعی حجم معض 30ارب روپے تھے جو 1990ء تک بڑھ کر 711ارب روپے اور 1996ء میں ایک ہزار 704ارب روپے ہو گیا تھا، موجودہ حکومت نے قرضوں کا نیا ریکارڈ قائم کر کے چلتے چلتے نیا بجٹ بھی پیش کر دیا ہے جس سے نئے آنے والے حکومت کے لئے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گے جسکا اظہار چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پہلے ہی اپنے بیان میں کر چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں