’’وزیراعظم کو چیئرمین سینٹ کیخلاف بیان دینا گلے پڑ گیا ‘‘ کتنے رکن قومی اسمبلی نے ایک ساتھ ’ن لیگ‘ چھوڑ دی ؟معاملہ گھمبیر ہو گیا

  پیر‬‮ 2 اپریل‬‮ 2018  |  16:44

کوئٹہ ( آن لائن ) بلوچستان متحدہ محاذ کے چیئرمین وپاکستان پرست رہنماء نوابزادہ میر سراج رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے تین اراکین قومی اسمبلی نے چیئرمین سینیٹ سے متعلق وزیراعظم کی بیان پر مسلم لیگ(ن) کی رکنیت سے مستعفی ہونے پر خوشی کا اظہا رکر تے ہوئے کہا ہے کہ تینوں اراکین اسمبلی نے بلوچستان کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے جو فیصلہ کیا ہے یہ خوش آئند اقدام ہے کیونکہ بلوچستان کے عوام محب وطن اور اصولوں پر ڈٹے ہو تے ہیںان خیالات کا اظہا رانہوں نے مختلف وفود سے بات چیت


کر تے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ نوابزادہ خالدمگسی ، سردار زادہ دوستین ڈومکی اور جام کمال نے قومی اسمبلی مسلم لیگ(ن) کی رکنیت سے استعفیٰ دے کر پاکستان اور بلوچستان دوستی کا ثبوت پیش کیا اور ہم اس فیصلے کو خراج عقیدت پیش کر تے ہیں شاہد اور بھی پارٹیاں اس اقدام کو سراہتے ہوئے مسلم لیگ(ن) کے خلاف میدان عمل میں آجائے اور ملک کے بڑے بڑے سیاستدانوں کو یہ معلوم ہونا چا ہئے کہ جو لوگ پاکستان کی بات کر تے ہیں ان کے خلاف اس طرح نہیں بولنا چا ہئے بلوچستان کے عوام محب وطن ہے اور ہمیشہ ملک کی ترقی وخوشحالی کے لئے اقدامات اٹھائے ہیں وزیراعظم اور نوازشریف نے چیئرمین سینیٹ کے بارے میں جو نا زیبا الفاظ استعمال کئے ہیں اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے بلوچستان کے عوام محب وطن ہے اور اصولوں پر ڈٹے ہو تے ہیں اور وہ اصولوں کی خاطر ہر عہدے کی قربانی دینے کے لئے تیار ہے انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ بلوچستان کے عوام کے مفادات کے خلاف جو بھی بولے گا اس کے خلاف ہمیں ڈٹ کر بولنا ہو گا اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور نوازشریف دونوں بلوچستان کے عوا م سے معافی مانگیں اور و زیراعظم اپنے زبان لگام دیں ایسا نہ ہوں کہ اگرہم نکلے تو پھر اس کے خطرناک نتائج برآمد ہونگے۔

موضوعات:

loading...