لگتا ہے ابھی کچھ سبق نہیں سیکھا، بھارتی دھمکیوں کے جواب میں چین نےبھی سخت پیغام دیدیا

  بدھ‬‮ 17 جنوری‬‮ 2018  |  17:44

بیجنگ (آئی این پی ) بھارتی مشرقی کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ابے کرشنا کے حالیہ بیان کا شدید نوٹس لیتے ہوئے چینی میڈیا کے حلقوں نے بھار ت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ چین کے خلاف تند و تیز اپنی بیان بازی کا لہجہ نرم رکھے ، چینی جریدہ گلوبل ٹائمز کے مطابق 2018ء کے آغاز کے بعد سے بھارتی فوج نے وقتاً فوقتاً چین کے بارے میں سخت بیانات دیئے ہیں، ڈوکلام بحران کے بعدبھارتی فوج سرحدی علاقوں میں سرگرم ہو گئی ہے ، اس نے سرحد کے ساتھ انفراسٹرکچر میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے

اور متنازعہ سرحدی علاقوں میں ہیلی کاپٹر تعینات کرے گا ، ایسا کر کے بھارت نے اس سرحدی علاقے میں چین کی انفراسٹرکچر تعمیر کا راستہ روکنے میں اپنی گہری دلچسپی دکھائی ہے۔دریں اثنا بھارتی میڈیا فوج سے حاصل ہونے والی ہر بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہا ہے اور فوج کے تندوتیز بیانات کی تعریف و توصیف کی ہے اور چین کے بارے میں دراندازی کرنے اور بھارت کو اشتعال دلانے کے مناظر گڑھے ہیں تا ہم یہ تمام رپورٹیں بھارتی وزارت خارجہ امور کے اس فیصلے سے مطابقت نہیں رکھتی ہیں کہ سرحد پر جوں کی توں صورتحال برقرار ہے۔ بھارتی فوج اور میڈیا کے درمیان مربوط رابطوں نے کئی بھارتیوں کے چین کے بارے میں منفی تاثرات کو تقویت پہنچائی ہے، یہ صورتحال چین اوربھارت کے رہنمائوں کے درمیان پائے جانیوالے اس اتفاق رائے سے انحراف ہے کہ دونوں ممالک اپنے تنازعات سے درست طورپر نمٹیں گے اور دوطرفہ تعلقات کو دوبارہ صحت مندانہ اور مستحکم ترقی کی پٹڑی پر گامزن کریں گے ، چین کے بارے میں جانتے ہوئے بھارتی معاشرے کو اپنے بجٹ میں اضافہ کرنے اور ملک کے بیرونی تعلقات میں بڑا کلائوٹ حاصل کرنے کی فوج کی خودغرضانہ خواہش کے ذریعے گمراہ کیا جارہا ہے، اس کے نتیجے میںبھارت میں چین کے بارے میں سخت گیر مطمع نظر میں سیاسی درستگی کی ضرورت ہے اور ملک کو امریکہ ، جاپان اور آسٹریلیا کی طرف سے دھکیل دیا گیا ہے ، راوات نے گذشتہ ہفتے کہا کہ بھارت اپنے ہمسائیوں کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ چین کی طرف مائل ہوں ، یہ ذہنیت جس میں ہمسائیوں کو بھارتی ڈومین کے طورپر دیکھا جاتا ہے ، بڑے پیمانے پر نئی دہلی میں اختیارکیا جارہا ہے، بھارت سفارتی طورپر نابالغ ہے اور وہ اضطراری قومیت کے لئے ترجیح اور اپنی ذات میں مرتکز انداز فکر کا حامل ہے، اس ملک کے ساتھ نمٹنے کیلئے قوانین کے ایک سیٹ سے زیادہ کی ضرورت ہے۔اخبار لکھتا ہے کہ بھارت کے بارے میں چین کو ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ اپنے اصولوںپر قائم رہے اور الجھنے سے باز رہے ، اسے چاہئے کہ وہ سرحدی امن برقرار رکھنےکیلئے قوانین کے مطابق سرحدی تنازعات کو نمٹائے اور اس کے ساتھ بھارت فوج کی اشتعال انگیزیوں کا ڈٹ کر جواب دے ۔اخبار لکھتا ہے بھارت اور چین کے ہمسائیہ ممالک ہیں اور یقیناً اس کا اثرورسوخ بعض شعبوں میں حاوی ہو گا ، بیجنگ کو چاہئے کہ وہ بھارت کو یہ باور کرائے کہ وہ دفاعی لحاظ سے کم فکر مند رہے ، دونوں ممالک کو اس بات کو اپنا مشترکہ نصب العین بنانا چاہئےکہ ہمسائیہ خطے میں سٹرٹیجک تنازعات سے گریز کیا جائے ، بھارت کو احساس ہونا چاہئے کہ وہ اپنا خصوصی اثر قائم نہیں کر سکتا اورنہ ہی جنوبی ایشیاء میں مون روئی ڈاکٹرائن مسلط کرسکتا ہے ، چین کو چاہئے کہ وہ جنوبی ایشیاء کے ممالک کے ساتھ چین بیجنگ کے فرو غ پذیر تعلقات کے خلاف بھارتی چوکسی پر پوری طرح نظر رکھے تا ہم بھارت اسی لحاظ سے اس پوزیشن میںنہیں ہے کہ وہ چین سے یہ کہہ سکے کہ وہ جنوبی ایشیاء سے پرے رہے ۔اخبار لکھتا ہے کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بھارتی فوج ڈوکلام بحران سے سبق حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے ، اگر بھارت اشتعال انگیزیاں کرتا رہا تو اسے چینی فوج کی طرف سے سخت سزا کی توقع رکھنی چاہئے ، چین کا مقابلہ کرنے سے بھارت کو ناقابل برداشت اعلیٰ سٹرٹیجک قیمت ادا کرنی پڑے گی ، بھارت کو چاہئےکہ وہ چین کی اختیار کردہ قابل عمل پالیسی کو اپنائے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں