بجلی کی پیداوار کے لیے شفاف مسابقتی بولی کے ذریعے ٹھیکے دینے کا اعلان، وزیر توانائی اویس لغاری نے اہم اعلان کر دیا

  جمعرات‬‮ 14 دسمبر‬‮ 2017  |  1:21

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت نے قابل تجدید توانائی کے ذرائع سے بجلی کی پیداوار کیلئے شفاف مسابقتی بولی کے ذریعے ٹھیکے دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ وزیر توانائی سر دار اویس خان لغاری نے کہاہے کہ ملک میں کہیں لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی، جہاں بجلی چوری ہو ہو گی وہاں لوڈشیڈنگ بھی ہوگی ٗخیبرپختونخوا میں لوڈشیڈنگ کی ذمہ دار صوبائی حکومت ہے، جب بجلی زیادہ استعمال کریں گے تو بل بھی زیادہ ہو گا، سیاسی یا صوبائی بنیاد پر بجلی تقسیم نہیں کی جائے گی ٗگردشی قرضوں کا مسئلہ جلد حل کر لیا جائے گا ۔وہ بدھ کو

وزیر مملکت برائے توانائی عابد شیر علی کے ہمراہ پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ گذشتہ روز وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں ہونے والے پالیسی فیصلوں سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی مؤثر پالیسیوں کی بدولت ملک میں اضافی بجلی موجود ہے اور وزارت توانائی پرامید ہے شدید گرمیوں میں بجلی کی پیداوار میں اضافہ کا یہ عمل جاری رہے گا، پاکستان اس وقت ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے، ملک میں اضافی بجلی موجود ہے، اب زیادہ قیمت پر بجلی خریدنے کے ٹھیکے دینے کی ضرورت نہیں ہے، ہم نے صارفین کی سہولت کیلئے سستی بجلی پیدا کرنی ہے جس کیلئے ہوا، سولر، بائیو گیس اور چھوٹے پن بجلی منصوبوں کے ذریعے بجلی کے حصول کیلئے مسابقتی بولی کے ذریعے ٹھیکے دیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کو بجلی پیدا کرنے کیلئے مخصوص منافع دیا جا رہا ہے تاہم اب کم سے کم قیمت پر بجلی حاصل کرنے کیلئے مسابقتی بولی کے ذریعے سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کی دعوت دی جائے گی تاکہ صارفین کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔ وفاقی وزیر نے امید ظاہر کی کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت صارفین کو سستی بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے خواب کو عملی جامہ پہنائے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت تمام صوبوں کی بجلی کی طلب اور آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے سستی بجلی کے حصول کیلئے لائحہ عمل تیار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آئندہ مہینوں میں ایسے اقدامات کر رہی ہے جس سے پاکستان کا توانائی کا شعبہ دنیا کے جدید ترین شعبوں میں شامل ہو جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک کے کسی حصہ میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہو رہی، سوائے ان فیڈرز میں جہاں لائن لاسز بہت زیادہ ہیں، 10 فیصد سے کم لائن لاسز والے علاقوں میں بلاتعطل بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت توانائی کو لائن لاسز کی مد میں 135 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے،خیبرپختونخوا کے 126 فیڈرز 85 فیصد نقصان پر چل رہے ہیں، صوبائی حکومت چکدرہ، مردان، مالاکنڈ اور سوات میں کم وولٹیج کے مسئلہ کے حل کیلئے زمین کی خریداری میں اپنا کردار ادا نہیں کر رہی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ انہوں نے چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے بجلی چوری کی روک تھام کیلئے متعلقہ اداروں سے مل کر حکمت عملی وضع کرنے کیلئے خط لکھا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بجلی ڈویژن کمپیوٹرائزڈ نظام وضع کر رہا ہے جس کے بعد ہر صارف اپنے میٹر اور بجلی کے استعمال سے متعلق آگاہی حاصل کر سکے گا جس سے اوور بلنگ کا مسئلہ حل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ گردشی قرضوں کا مسئلہ جلد حل کر لیا جائے گا ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں