سانحہ ماڈل ٹائون، پاکستان کے تین بڑے خفیہ اداروں سپیشل برانچ، آئی ایس آئی اور آئی بی نے کس کس کوقتل عام کا ذمہ دار ٹھہرایا، باقر نجفی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات

  بدھ‬‮ 6 دسمبر‬‮ 2017  |  14:08

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)باقر نجفی رپورٹ میں سانحہ ماڈل ٹائون پر خفیہ اداروں کے دعوئوں نے کیس کو الجھا کر رکھ دیا، سپیشل برانچ عوامی تحریک کی سیاسی سرگرمیوں کا ذکر کر کے خاموش، آئی ایس آئی نے ہلاکتوں کی ذمہ داری پولیس پر ڈال دی، آئی بی نے فائرنگ کا ذمہ دار عوامی تحریک کے سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کو قرار دیدیا۔ نجی ٹی وی ڈان نیوز کی رپورٹ کےمطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں سانحہ ماڈل ٹائون پر بنائے گئے کمیشن کی رپورٹ میں خفیہ اداروں کے متضاد بیانات سامنے آگئے ہیں جنہوں نے کیس

کو مزید الجھا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق باقر نجفی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسپیشل برانچ نے اس سانحے کے حوالے سے جو رپورٹ پیش کی اس میں صرف پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کی سیاسی سرگرمیوںکو موضوع بنایا ہے جبکہ سانحہ سے متعلق کوئی بات نہیں کی گئی ۔ انٹرسروسز انٹیلی جنس یعنی آئی ایس آئی کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں ہلاکتوں کا ذمہ دار پولیس کو قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس کی وجہ سے 10 افراد ہلاک اور 70 زخمی ہوئے تھے جن میں سے 51 افراد کو گولیوں کے گہرے زخم آئے تھے۔آئی ایس آئی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ منہاج القرآن کے محافظ اور سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں کی جانب سے فائرنگ کے کوئی ثبوت نہیں ملے جبکہ دوسری جانب سول خفیہ ادارے آئی بی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس منہاج القرآن کے سیکریٹیریٹ کی طرف بڑھ ہی رہی تھی کہ طاہر القادری کی رہائش گاہ کی پہلی منزل پر تعینات ان کے سیکیورٹی گارڈ نے پولیس والوں پر گولیاں برسا دیں جس کی وجہ سے 2 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے جس کی وجہ سے پولیس اہلکاروں میں غصہ پھیل گیا اور جب وہ مزید آگے بڑھے تو عوامی تحریکسے ہمدردی رکھنے والوں نے ان پر پتھروں کی بارش کردی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے مظاہرین پر فائرنگ کی جس کی وجہ سے کئی افراد زخمی ہوئے اور کچھ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔آئی بی کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عوامی تحریک کے 10 افراد اس سانحے میں ہلاک جبکہ 96 زخمی ہوئے تھے جبکہ زخمیوں میں 26 پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں