ایم کیو ایم اور پی ایس پی کا اتحاد،اسٹیبلشمنٹ کے کردار کی حقیقت کیا ہے؟تحریک انصاف سے اتحاد کب ہورہاہے؟ جاوید چودھری کے انکشافات

  منگل‬‮ 14 ‬‮نومبر‬‮ 2017  |  21:55

خواتین وحضرات ۔۔ ہم جتنا چاہیں جانبدار ہو جائیں لیکن ہمیں کراچی کی چند حقیقتیں بہرحال ماننا ہوں گی‘ پہلی حقیقت مہاجر کمیونٹی ہے‘ کراچی میں اردو بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد (موجود) ہے اور ۔۔اس کمیونٹی کے ساتھ ماضی اور حال دونوں زمانوں میں زیادتی ہوتی رہی‘ ہمیں ۔۔ان کے وجود اور ۔۔ان کے استحصال دونوں حقیقتوں کو ماننا ہو گا‘ ہمیں یہ بھی ماننا ہو گا کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے‘یہ ملک کا اقتصادی دارالحکومت بھی ہے اور نیشنل ریونیو کا سب سے بڑا سورس بھی اور یہ سورس طویل عرصے سے ۔۔اگنور ہو

رہا ہے‘ کراچی کو ایک ایسی گائے بنا دیا گیا جس کا دودھ سب پی رہے ہیں ۔۔لیکن ۔۔اس کو چارہ ۔۔کھلانے‘ ۔۔اس کی ٹیک کیئر کیلئے کوئی تیار نہیں‘ ہمیں یہ بھی ماننا ہو گا ایم کیو ایم کراچی کی ایک بڑی سیاسی حقیقت ہے‘ اس کے پاس قومی اسمبلی کی 24‘ صوبائی اسمبلی کی پچاس اور سینٹ آف پاکستان کی آٹھ نشستیں ہیں‘ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کی میئر شپ بھی ۔۔اس کے پاس ہے‘ ہمیں ۔۔ان کے مینڈیٹ کی حقیقت کو بھی ماننا ہو گا‘ ہمیں یہ بھی ماننا ہو گا 22 اگست 2016ء کا دن ایم کیو ایم اور 9 نومبر 2017 ء کا دن فاروق ستار کی زندگی کا اہم ترین دن تھا‘ 22 اگست کو ایم کیو ایم نے خود کو ملک کی پہلی ایسی جماعت ثابت کیا جس نے اپنے بانی اور قائد سے لاتعلقی کا ۔۔اعلان کر دیا‘ فاروق ستار کی سیاست بھی 8 نومبر کو پی ایس پی کے ساتھ ملاقات اور ۔۔اس اعلان کے بعد تقریباً ختم ہو گئی تھی (‘ ایک نام/نشان/منشور) ۔۔ لیکن یہ نو ۔۔نومبر کی رات زیادہ طاقت کے ساتھ (دوبارہ) سامنے آئے اور پارٹی پر اب ۔۔ان کی گرفت پہلے سے زیادہ مضبوط ہے اور ہمیں یہ بھی ماننا ہو گا 8 نومبر کی شام ایک سیاسی اتحاد بنا اور یہ اتحاد 9 نومبر کو ٹوٹ گیا‘ یہ پاکستان کی تاریخ کا مختصر ترین سیاسی اتحاد تھا‘ ہمیں یہ حقیقت بھی ماننا ہو گی اور ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی سیاسی جماعت نے اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کا اپنے منہ سے اعتراف کیا (مصطفی کمال) ہمیں اعتراف کی ۔۔اس حقیقت کو بھی ماننا ہو گا اور ہمیں یہ بھی ماننا ہو گا ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی دونوں ایک ہی وجود کا حصہ ہیں اور جلد یا بدیر یہ دونوں دوبارہ ایک ہی وجود کا حصہ بن جائیں گے‘ یہ 2018ء کا الیکشن بہرحال اکٹھا لڑیں گے اور شاید شاید یہ 2018ء کے الیکشنوں کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد بھی بنا لیں‘ یہ ساری حقیقتیں بہرحال حقیقتیں ہیں ۔۔لیکن یہ حقیقتیں مانی کیوں نہیں جا رہیں‘ ۔۔ان حقیقتوں کو میلا کرنے کیلئے گرد کیوں (اڑائی) جا رہی ہے‘ یہ ہمارا آج کا موضوع ہو گا اور ڈاکٹر فاروق ستار ہمارے مہمان ہوں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں