26 ویں آئینی ترمیم کے بل 2017کی کثرت رائے سے منظوری دیدی گئی،حیرت انگیزتفصیلات جاری

  پیر‬‮ 16 اکتوبر‬‮ 2017  |  22:27

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف کے اجلاس میں 26 ویں آئینی ترمیم کے بل 2017کی کثرت رائے سے منظوری دے دی ،پی ٹی آئی ، ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی نے ترمیم کی مخالفت میں ووٹ دیا ، وفاقی وزیرقانون زاہد حامد نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے وزرائے مملکت بھی وفاقی کابینہ کا حصہ ہوں گے، وفاقی کابینہ اپنے اختیارات کسی بھی ماتحت افسر یا اتھارٹی کو تفویض کرسکے گی،آئین کے آرٹیکل 99 اور 139 کو اصل شکل میں بحال کیا جارہا ہے، موجودہ صورتحال میں ہر فیصلے کی منظوری

وفاقی کابینہ سے لی جانی ضروری تھی، صوبوں میں بھی اسی طرز پر ترمیم کرکے تبدیلی لائی جائے گی۔وفاقی کابینہ اپنے روز مرہ امور چلانے مختص کرنے اور ٹرانزیکشن کے قوائد بنائیں گے ، صوبائی کابینہ اپنے روز مرہ امور چلانے مختص کرنے اور ٹرانزیکشن کے قوائد بنائیں گے۔کمیٹی نے قبائلی علاقوں میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی بجائے پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ کار بڑھانے کی منظوری دے دی ،کمیٹی نے وزیرقانون کی 2 روز کی مہلت کی درخواست مسترد کردی۔اجلاس میں مولانا شیرانی اور علی محمدخان میں تلخ جملوں کا تبادلہ ، مولانا شیرانی نے کہا کہ ہمارے اداروں نے فاٹا میں دہشت گردی لائی ، ہمارے اداروں نے کولیشن سپورٹ فنڈ لینے فاٹا میں دہشت گردی لائی، میں اپ کے بیان کی مذمت کرتا ہوں کہ ہمارے ادارے دہشت گردی لاتے ہیں ، علی محمد خان نے کہا کہ آئی ایس ائی اور پاک فوج کے خلاف بات سننے کو تیار نہیں ہوں ۔ ایسے شخص کو کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا جس کا کشمیر سے دور دور تک واسطہ نہیں ، دونوں اپنے مفادات کی سیاست کر رہے ہیں ۔ کمیٹی نے 29 ویں آئینی ترمیم کا بل موخر کردیا۔قائمہ کمیٹی نے کشور زہرا کا نوجوانوں کو قدرتی آفات اور بیرونی جارحیت سے نمٹنے کے لئے لازمی تربیت دینے کے آئینی ترمیم بل مسترد کردیا۔کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ یہ تربیت نوجوان پہلے بھی حاصل کر رہے تھے ،اس وقت بھی آئین میں ذکر نہیں تھا ۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا کااجلاس چوہدری بشیر محمود ورک کی صدارت میں ہوا ۔ اجلاس میں کمیٹی نے 29 ویں آئینی ترمیم کا بل موخر کردیاوزیرقانون زاہد حامد نے کہا کہ بل کے تحت ایگزیکٹومجسٹریسٹی نظام کی بحالی اور ہائی کورٹ کے لئے جج بننے کی عمر کی حد 40 سال مقرر کرنا تھی ،مجسٹریسٹی نظام کا معاملہ سپریم کورٹ اور مشترکہ مفادات کونسل میں زیرالتوا ہے،ہائیکورٹ کے لئے جج بننے کی عمر کی حد تک 45 سے کم کرکے 40 کرنا چاہتے ہیں، ہائیکورٹ کے لئے جج کی عمر کی حد کم کرنے میں حکومت کی کوئی بدنیتی شامل نہیں تھی، وزیرقانو ن نے کہا سیا سی جماعتیں اگر مخالفت کرتی ہیں تو ہم بل پر زور نہیں دیتے، کمیٹی نے 26 ویں آئینی ترمیم کے بل کی منظوری دے دی ،وزیرقانون زاہد حامد نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ وفاقی کابینہ وزیراعظم اور وفاقی وزرا پر مشتمل ہوگی،وزرائے مملکت بھی وفاقی کابینہ کا حصہ ہوں گے،وفاقی کابینہ اپنے اختیارات کسی بھی ماتحت افسر یا اتھارٹی کو تفویض کرسکے گی، وزیرقانون نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 99 اور 139 کو اصل شکل میں بحال کیا جارہا ہے، موجودہ صورتحال میں ہر فیصلے کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جانی ضروری تھی، صوبوں میں بھی اسی طرز پر ترمیم کرکے تبدیلی لائی جائے گی۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھانے سے متعلق بل پر غورکے موقعہ پر اجلاس میں حاجی شاہ جی گل آفریدی اور شہاب الدین نے بھی شر کت کی ،وزیرقانون زاہد حامد نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ فاٹا میں اصلاحات کے سلسلے میں قبائلی علاقوں تک سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا دائرہ کار بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، مرحلہ وار طریقے سے فاٹا کو خیبرپختونخواہ میں ضم کیا جانا ہے، رواج ایکٹ قبائلی عوام کی خواہش کے مطابق بنایا گیا تھا،مگر فاٹا کی عوام اور ارکان پارلیمنٹ بھی رواج ایکٹ کے حوالے سے زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے،فاٹا کے خیبرپختونخواہ میں انضمام تک قبائلی علاقوں میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا دائرہ سماعت ہوگا،آئین کے آرٹیکل 247 میں ترمیم کرکے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھا دیا جائے گا،اس ضمن میں آئین میں ترمیم لائی گئی ہے ۔رکن کمیٹی شہاب الدین نے کہا کہ صرف مولانا فضل الرحمن کو خوش کرنے کے لئے پشاور کی بجائے اسلام آباد ہائیکورٹ تک دائرہ کار بڑھایا جارہا ہے، پی ٹی آئی کے علی محمد خان کی بھی مولانا فضل الرحمن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے شخص کو کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا جس کا کشمیر سے دور دور تک واسطہ نہیں ، محمود خان اچکزئی اور فضل الرحمان اپنے مفادات کی سیاست کر رہے ہیں ۔نوجوانوں کو قدرتی آفات اور بیرونی جارحیت سے نمٹنے کے لئے لازمی تربیت دینے کے آئینی ترمیم بل ایم کیو ایم کی کشور زہرا نے پیش کیا16 سے 25 سال عمر کے تمام نوجوان طلبا وطالبات کو قدرتی آفات اور بیرونی جارحیت سے نمٹنے کے لئے لازمی تربیت دی جائے، کشور زہرا نے کہا کہ نوجوان پہلے بھی تعلیمی اداروں میں تربیت لیتے رہے، چیئرمین کمیٹی محمودبشیر ورک قائمہ کمیٹی نے کہا کہ آئین میں ترمیم کی ضرورت نہیں، چیئرمین نے آئین میں ترمیم کا کشور زہرا کا بل مسترد کردیا، ، مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ ایف سی آر سستے انصاف کا واحد ذریعہ ہے، مولانا محمد خان شیرانی فاٹا میں ہمارے اداروں نے دہشتگردوں کو بسایا۔ جس پر علی محمد خان نے کہا کہ میں اداروں کے خلاف اس بیان کی مذمت کرتا ہوں،پاک فوج اور دیگر اداروں کے خلاف بات سننے کو تیار نہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں