عقیدہ ختم نبوت ، پابندی کے باوجود مذہبی مناظرے کے لیے درجنوں افراد کی آمد، پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی، حکومت کا مذہبی رہنماﺅں کیخلاف سخت اقدام کا فیصلہ

  جمعرات‬‮ 12 اکتوبر‬‮ 2017  |  23:09

لاہور( این این آئی )پولیس نے دفعہ 144کے نفاذ کے باوجود مذہبی مناظرے کیلئے آنے والے تحریک صراط مستقیم کے سربراہ ڈاکٹر اشرف آصف جلالی سمیت درجنوں کو گرفتار کر لیا ، مشتعل کارکنوں نے پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی او ر دھکم پیل بھی کی ،کارکنوں نے گرفتاریوں کے خلاف پنجاب اسمبلی کے سامنے مال روڈ پر احتجاج کیا جس سے ٹریفک کا نظام معطل ہو گیا جبکہ پولیس نے مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے ترجمانحافظ بابر فاروق رحیمی کی قیادت میں علماء کے وفد کو لاہور پریس کلب کے باہر آصف ا شرف جلالی کیساتھ مناظرے کے لیے

جانے سے روکتے ہوئے حراست میں لے لیا۔تفصیلات کے مطابق مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سربراہ پروفیسر ساجد میر نے قومی اخبارات کے ذریعے چیلنج کیا تھا کہ پارلیمنٹ میں عقیدہ ختم نبوت کے لحاظ سے انتخابی اصلاحات بل میں کوئی ترمیم نہیں ہوئی، مذہبی رہنما بلا وجہ بد گمانیاں پیدا کررہے ہیں جس پر تحریک صراط مستقیم کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے ساجد میر کو مناظرے کا چیلنج کرتے ہوئے کہا تھاکہ وہ جگہ اور تاریخ کا تعین کریں اور اس کے بعد انہوں نے خود ہی12 اکتوبر شام 5 بجے لاہور پریس کلب کے سامنے مناظرے کے مقام کا تعین کر دیا۔ پنجاب حکومت کی جانب سے مذہبی جذبات کو ابھارنے والے معاملات، مذہبی مناظرے اور مباحثے پر پابندی عائد کرتے ہوئے 11اکتوبر سے 9نومبر تک دفعہ 144نافذ کی گئی تھی اور اسی تناظر میں پولیس کی بھاری نفری لاہور پریس کلب کے باہر پہنچ گئی ۔گزشتہ روز ڈاکٹر اشرف آصف جلالی کی آمد سے قبل ہی کارکن وہاں پہنچ گئے اور نعرے لگاتے رہے ۔ ڈاکٹر اشرف آصف جلالی کی آمد پر کارکنوں نے لبیک یارسول اللہؐ،غلامی رسول ؐ میں موت بھی قبول ہے کے نعرے لگائے ۔ اس دوران پولیس نے تحریک صراط مستقیم کے سربراہ کو دفعہ 144کے نفاذ کے حوالے سے آگاہ کیا تاہم وہاں موجود کارکن مشتعل ہو گئے اور پولیس سے ہاتھا پائی اور دھکم پیل کی ۔اس دوران پولیس کی مزید نفری طلب کر لی گئی اور ڈاکٹر اشرف آصف جلالی سمیت تمام کارکنوں کوگرفتار کر کے گاڑی میں ڈال کر سی آئی اے کوتوالی سمیت مختلف پولیس اسٹیشنز میں منتقل کر دیا گیا ۔ اس موقع پر پریس کلب کے باہر ٹریفک کا نظام بھی معطل رہا ۔گرفتاری سے قبل گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر اشرف آصف جلالی نے کہا کہ ساجد میر نے مناظرے کا چیلنج دیا لیکن بھاگ گئے ۔وزیر قانون رانا ثنا اللہ قادیانیوں سے متعلق دئیے گئے بیان پر معافی مانگیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم گرفتاریوں سے ہرگز خوفزدہ نہیں ہوں گے۔علاوہ ازیں پولیس نے مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے ترجمان حافظ بابر فاروق رحیمی کی قیادت میں علماء کے وفد کو لاہور پریس کلب کے باہر آصف ا شرف جلالی کے ساتھ مناظرے کے لیے جانے سے روک دیا۔ڈی ایس پی شفیق آباد د اعجاز ڈھلوں نے مناظرے کے لیے جانے والے وفد کو مذاکرات کے لئے بلایا جہاں سے انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ ترجمان حافظ بابر فاروق رحیمی نے کہا کہ ہمیں مذاکرات کے بہانے بلاکر تھانے میں بند کردیا گیا۔ حکومت نے اس مناظرے پر پابندی لگاکر اشرف جلالی کو راہ فرار کا موقع فراہم کیا۔ہم اپنے قائد پروفیسر علامہ ساجد میر کے شانہ بشانہ ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں ہمارے کارکن اپنے قائد کے اشارے کے منتظر ہیں ۔ ہم قانون کا احترام کرتے ہیں، حکومتی رٹ کو چیلنج نہیں کرنا چاہتے۔اس وقت بھی پولیس نے ہمارے مرکز106 راوی روڈ کاگھیراؤ کر رکھا ہے ۔ ہمارے کارکنوں کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے ۔انتظامیہ کی ہدایات پر کسی بھی نا خوشگوار واقعہ سے بچنے کے لئے تحریک صراط مستقیم کے مرکز تاج باغ کے باہر بھی سینکڑوں پولیس اہلکار تعینات کر دئیے گئےجبکہ کنٹینر لگا کر مرکز کو آنے والے راستے کو بھی بند کر دیا گیا ۔اشرف آصف جلالی اور ساتھیوں کی گرفتاریوں کی اطلاع ملتے ہی کارکن ٹولیوں کی شکل میں سی آئی اے کوتوالی کے باہر اور مال روڈ پر پہنچ گئے اور حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا ۔ رات کے وقت پنجاب اسمبلی کے سامنے مال روڈ پر کارکنوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی جس کے باعث دونوں اطراف کی ٹریفک مکمل طو رپر بند ہو گئیاور ملحقہ شاہراہوں پر ٹریفک کا دباؤ بڑھنے سے گاڑیوں کی قطاریں لگی رہیں۔ایس پی سول لائنز اور دیگر پولیس افسران نے مظاہرین سے مذاکرات کئے تاہم تحریک کے رہنماؤں نے ڈاکٹراشرف آصف جلالی اور کارکنوں کی رہائی تک احتجاج ختم کرنے سے انکار کر دیا ۔علاوہ ازیں پولیس نے ڈاکٹر اشرف آصف جلالی اور دیگر رہنماؤں سے بھی مذاکرات کے کئی دور کئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں