چھوٹا ڈکٹیٹر بننے کی کوشش کی جا رہی ہے، مجھے اندر رکھنے پر کن افراد کو فائدہ پہنچے گا، نواب زادہ گزین مری کاانکشاف

  جمعرات‬‮ 12 اکتوبر‬‮ 2017  |  18:06

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک ) انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کوئٹہ ون کے جج جناب داؤد ناصر نے سال 2015ء میں درج کئے گئے مقدمہ میں نواب زادہ گزین مری کو 7روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کے احکامات دے دئیے ۔گزشتہ روز عدالت کے روبرو کیس کی سماعت کے موقع پر پولیس کی جانب سے نواب زادہ گزین مری کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تو عدالت کے جج نے نواب زادہ گزین مری کو 7روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کے احکامات صادر کئے ،جمعرات کو سماعت کے بعد میڈیا نمائندوں سے بات

چیت کرتے ہوئے نواب زادہ گزین مری کاکہناتھاکہ اگر چہ وہ پرویز مشرف کے دور میں ملک سے باہر تھے تاہم میڈیا کے ذریعے انہیں پتہ چلتا تھا کہ میری طرح دوسروں کو بھی اسی دور میں سیاسی مقدمات میں الجھایاجاتا رہا پہلے وفاقی سطح پر جبکہ اب یہ سلسلہ صوبائی سطح پر چل رہاہے جس سے واضح ہوتاہے کہ چھوٹا ڈکٹیٹر بننے کی کو شش کی جا رہی ہے، ڈاکٹر ما لک دور میں میرے ساتھ برا ہ راست کو ئی با ت چیت نہیں کی گئی ،سیاسی جما عتوں کی جا نب سے گھر واپس آ نے پر مجھے ویلکم کیا جا رہا ہے اور مبا رک با د دی جا رہی ہے ،اپنے خلا ف دائر مقد ما ت کو قا نونی طریقے سے لڑ رہے ہیں مجھے اندر رکھنے سے دو تین افراد کو فا ئدہ مل رہا ہے یہ پو رے صو بے یا قومی سطح کا مسئلہ نہیں ہے ،اس میں حکومت کی کو ئی بات نہیں ہے میں پر امن بلو چستان کے تھرو نہیں آ یا نہ ہی وہ میرے سپا نسرز ہیں میں برا ہ راست خود آ یا ہوں نئی سیاسی جما عت کے عندیہ دینے سے متعلق پو چھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس وقت جیل میں لو گوں کو ان سے را بطہ کر نے میں مشکلا ت کا سا منا ہے وہ با ہر آئیں گے تو پھراس سلسلے میں بات چیت یا کام کرینگے ،انہوں نے کہاکہ مجھے کہا گیا کہ ہتھیا ر ڈا لو تو میں نے کہا کہ دبئی میں تو میں چا قو بھی نہیں رکھ سکتا میں دبئی سے جہا ز میں آؤں گا مجھے ہتھیا ر دیں میں ٹیبل پر رکھ دوں گا ۔نوا بزا دہ گزین مری کے وکیل ارباب طاہر ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ صبح ہم نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج V کی عدالت سے نوا بزا دہ طا رق مگسی کی ضما نت قبل از گرفتا ری حا صل کر لی ہے انہوں نے کہاکہ دوسرے ایف آئی آر نمبر 84/2015 کی سماعت انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت ون کے جج کے روبرو ہوئی اس میں جو افراد نامزد ہے اس میں میرے موکل نامزد نہیں نا ہی اس کی انویسٹی گیشن میں ہمارے خلاف کچھ آیا تھا ہمیں پہلے دن مذکورہ ایف آئی آر میں مشتبہ ہونے کا بتایاگیالیکن آج عدالت میں کہا گیاکہ میرے موکل اکیوزڈ ہے اکیوزڈ کے متعلق عدالت شواہد طلب کرتی ہے اور دیکھتی ہے کہ وہ کس طرح اکیوزڈ ہے وہ کچھ پیش نہ کرسکے اس وقت ڈسیژن پینڈنگ ہے دیکھتے ہیں کہ عدالت کیا فیصلہ دیتی ہے جو فیصلہ ہوگا ہم اس سے تسلیم کرینگے بلکہ ہر فیصلے کے خلاف اپیل کا بھی حق ہوا کرتاہے جس اکیوزڈ کو حراست میں رکھا جاتاہے اس کے خلاف شواہد بھی ہوتے ہیں لیکن میرے موکل کے کیس میں ایسا نہیں ابھی تک میرے موکل کے خلاف 3مقدمات دائر ہیں اس کے علاوہ کوئی اور نہیں ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں