پاکستان کے آئندہ وزیراعظم خادم حسین رضوی اور صدر مملکت حافظ سعید۔۔یاسمین راشد کے بجائے عمران خان کس کیلئے ووٹ مانگتے رہے

  منگل‬‮ 19 ستمبر‬‮ 2017  |  15:11

بزرگ صحافی اور تبصرہ نگار رعایت اللہ فاروقی اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں کہ امید ہے" قمر "درد والے چوہدری نثار علی خان کو یقین آگیا ہوگا کہ مریم اب بچی نہیں رہی۔ اس نے ماں باپ کی غیر موجودگی میں صرف دو ہفتے کی الیکشن مہم سے اس انتخاب میںکامیابی اپنے نام کی جس میں کلثوم نواز کے خلاف 43 امیدوار لائے گئے تھے۔ کہاں سے لائے گئے ؟ وہیں سے لائے گئے جہاں سے آوازیں آتی ہیں کہ ملک آئین اور قانون کے اصل راستے پر چل پڑا ہے۔ تبدیلی والوں کی طرف سے بظاہر تو اس

الیکشن میں یاسمین راشد کھڑی تھیں لیکن خان صاحب ہر تقریر میں ووٹ سپریم کورٹ کے لئے مانگتے نظر آئے۔ سپریم کورٹ نے اپنے لاڈلے سے یہ نہیں پوچھا کہ تم نے ہمارے لئے ووٹ مانگ کر ہمیں اپنی پارٹی کا امیدوار کیسے بنا دیا ؟ لھذا یہ مانے بنا چارہ نہیں کہ کلثوم نواز نے عمران خان کے اسی امیدوار کو شکست دی ہے جس کے لئے وہ پوری مہم کے دوران ووٹ مانگتے رہے۔ این اے 120 میں 43 روایتی امیدوار ہی نہیں پانچ رکنی بینچ بھی ہار گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی سے زیادہ ووٹ ملٹری مسلم لیگ اور ملٹری مسلم لیگ سے زیادہ ووٹ لبیک یارسول اللہ گروپ نے لے لئے۔ اگر مسلم لیگ اور پی ٹی آئی 2018 کا الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کرلیں تو ملک میں ایسی اسلامی حکومت قائم ہوسکتی ہے جس کا وزیر اعظم مولوی خادم حسین رضوی اور صدر حافظ سعید ہو ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں