نوازشریف نے استعفیٰ نہ دیا تو پھر بھی وزیراعظم نہیں رہیں گے،پیپلزپارٹی نے حیرت انگیز حکمت عملی کا اعلان کردیا

  پیر‬‮ 17 جولائی‬‮ 2017  |  20:44

اسلام آباد (این این آئی)چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نوازشریف وزیراعظم رہنے کا قانونی اور اخلاقی جواز کھو بیٹھے ہیں، ہم جے آئی ٹی رپورٹ کی بنیاد پر ان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں، نوازشریف کے فیصلوں سے ملک مفلوج ہو گیا ہے اب ان کا استعفیٰ ملک و قوم کے مفاد میں ہے، جمہوریت کے استحکام کیلئے بھی ضروری ہے کہ نوازشریف فوری اپنا عہدہ چھوڑ دیں تاکہ سازشوں کے نظریہ کا خاتمہ ہو، سازش ہو رہی ہے تو حکومت بتائے کیا سازش ہو رہی ہے۔اب صرف مولانا فضل الرحمن جیسے چند

لوگ ہی وزیراعظم کے حمایتی رہ گئے ہیں وہ بھی جلد نوازشریف کی حمایت چھوڑ دیں گے، نوازشریف نے استعفیٰ نہ دیا تو انہیں گھر بھیجنے کا لائحہ عمل ہمارے پاس ہے تاہم وہ میں ابھی نہیں بتاؤں گا۔ نوازشریف کا رہنا پورے نظام کیلئے خطرہ ہے ان کا استعفیٰ اب پوری قوم کی آواز بن چکا ہے،حکومت نے عدالتی فیصلہ نہ مانا تو سڑکوں پر نکلیں گے، شریف خاندان نے قانون کی حکمرانی تسلیم نہ کی تو ہمارے پاس بھی کئی آپشن ہیں، ہم قومی اسمبلی میں استعفوں سمیت تمام آپشن کھلے رکھنا چاہئیں گے، پیپلزپارٹی کا ماضی میں بھی احتساب ہوا مزید احتساب کرنا ہے تو اس کیلئے بھی ہم تیار ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے نیشنل پریس کلب کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا اور یادگاری پودا لگایا۔ اس موقع پر سیکرٹری پریس کلب عمران یعقوب ڈھلوں نے چیئرمین پیپلزپارٹی سے پریس کلب کے عہدیداروں کا تعارف کرایا اور انہیں نیشنل پریس کلب کی تاریخ سے آگاہ کیا۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ انسانی حقوق کی بات کی ہے۔ ہمارے دور میں ہی انسانی حقوق کا بل منظور ہوا اور اب بھی ہمارا مطالبہ ہے کہ انسانی حقوق کمیشن کی خودمختاری اور اطلاعات تک عوام کے حق تک رسائی کے بل کا نفاذ کیا جائے، انہوں نے کہا کہ حکومت شفافیت نہیں چاہتی۔ اس لئے اطلاعات تک رسائی کے بل کا نفاذ نہیں کر رہی۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ صحافی برادری نے جمہوریت کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا، ہم نے حکومت سے صحافیوں کے تحفظ کیلئے قانون سازی کرنے کا مطالبہ کیا ہے کہ لیکن صورتحال یہ ہے کہ اب تک کئی صحافیوں کے قتل کیسز پر تحقیقات شروع نہیں ہو سکیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت احتساب اور شفافیت پر یقین نہیں رکھتی اگر کوئی سازش ہو رہی ہے تو بتایا جائے کہ کون سازش کر رہا ہے۔نوازشریف کا رہنا پورے نظام کیلئے خطرہ ہے۔ انتخابات 2018ء کی تیاریوں کے حوالے سے چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ جلد پارٹی کا منشور مکمل کر لیں گے اور اسے قوم کے سامنے پیش کریں گے۔ اگلے انتخابات میں پیپلزپارٹی کا اچھا رزلٹ ہوگا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری جماعت نے ہمیشہ مزدور اور صحافیوں کا ساتھ دیا ہے۔ہماری کوشش ہے کہ اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صحافیوں کو آئینی تحفظ فراہم کریں۔ اس موقع پر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی غریبوں اور بے بسوں کی جماعت ہے ہم مزدوروں اور قلم کے مزدوروں کے ساتھ ہیں۔ پیپلزپارٹی نے ہر مارشل لاء اور آمریت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کو سیاست نہیں آتی وہ ناتجربہ کار ہیں۔مزدور اور صحافی پیپلزپارٹی کا اثاثہ ہیں اور پارٹی کیلئے ان کی حیثیت جسم میں خون جیسی ہے۔ تقریب میں پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماؤں شیری رحمن، نیئر حسین بخاری، فیصل کریم کنڈی، فرحت اللہ بابر، مصطفیٰ نواز کھوکھر نے بھی شرکت کی۔ خطبہ استقبالیہ میں صدر نیشنل پریس کلب شکیل انجم نے کہا کہ آج کے دن مجھے بڑی خوشی ہے کہ میرے سامنے محترمہ بینظیر شہید کا بیٹا ہے جسے مجھے گود میں کھلانے کا اعزاز حاصل ہے۔پیپلزپارٹی نے ہمیشہ میڈیا فرینڈلی کردار ادا کیا ہے اور گزشتہ سال بھی ہمیں گرانٹ دی تھی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر افضل بٹ نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے رہنما ہمارے فٹ پاتھ کے ساتھی ہیں اور انہوں نے ہر جدوجہد میں صحافیوں کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ پیپلزپارٹی ویج بورڈ ایوارڈ کے نفاذ کے لئے اپنا کردار ادا کرے گی۔تقریب کے آخر میں صدر نیشنل پریس کلب، سیکرٹری نیشنل پریس کلب، صدر پی ایف یو جے افضل بٹ، فنانس سیکرٹری اسحاق چوہدری، نائب صدور آصف بھٹی، نوید اکبر، ابراہیم کھنبمر نے بلاول بھٹو کو یادگاری شیلڈ پیش کی اور انہیں اجرک اور ٹوپی بھی پہنائی گئی۔ صدر نیشنل پریس کلب نے اپنی دو تصانیف بھی بلاول بھٹو کو پیش کیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

روزانہ کی دس بڑی خبریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

بذریعہ ای میل آپ کو دس بڑی خبروں کے ساتھ ساتھ کرنسی اور سونے کے ریٹس بھی بھیجے جائیں گے۔