کلبھوشن یادیو کا کیس،عالمی عدالت میں کیا ہوا؟افتخار محمد چوہدری نے حکومت کی ناکامیوں سے پردہ اُٹھادیا،افسوسناک انکشافات

  جمعہ‬‮ 19 مئی‬‮‬‮ 2017  |  22:42

اسلام آباد (آئی این پی) پاکستان جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ کلبھوشن یادیو دہشت گرد اور جاسوس ہے، عالمی عدالت انصاف کو کلبھوشن کا مقدمہ سننے کا اختیار حاصل نہیں،عالمی عدالت نے پاکستان کے ساتھ ناانصافی کی، عالمی عدالت انصاف نے اپنے قوانین کے بر خلاف بینچ کی تشکیل کے وقت فریقین سے منظوری نہ لی ،بھارتی شہریت کے حامل جسٹس بھنڈاری کو بینچ میں شامل کیا گیا ،افتخار محمد چوہدری نے کہا  کہ ضروری تھا کہ پاکستان کی طرف سے نامزد کردہ ایڈہاک جج بھی اس بینچ کا

حصہ ہوتے،وفاقی حکومت نے مقدمہ کو درست طور پر پیش نہ کر کے ساری قوم کو مایوس کیا، حکومت کی طرف سے عالمی عدالت انصاف کو اپنا نامزد کردہ ایڈہاک جج بینچ میں شامل کرانا چاہیے اور اس بات کی وضاحت طلب کرنی چاہیے کہ چونکہ پاکستان نے عالمی عدالت انصاف کے دائرہ اختیار سماعت کو تسلیم نہیں کیا، اس کے باوجود عالمی عدالت انصاف نے کس طرح یہ فیصلہ جاری کر دیا کہ ایک دہشت گرد کو پھانسی نہ دی جائے۔ وہ جمعہ کو یہاں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔اس موقع پر پارٹی کے دیگر رہنماء بھی موجود تھے۔ انہوں نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا جس میں اُس نے اپنے دائرہ اختیار سماعت کا حتمی تعین کیے بغیر ریاستِ پاکستان کو کلبھوشن یادیو کو پھانسی دینے سے روک دیا، جو ’’را‘‘ کا ایجنٹ اور انڈین نیوی کا حاضر سروس کمانڈر جو پاکستان میں جاسوسی و دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھا۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ عالمی عدالت انصاف کو انڈیا کی درخواست سننے کا اختیار سماعت حاصل نہ تھا کیونکہ یہ متنازعہ مسئلہ کی تعریف میں نہیں آتا ہے جس پر عالمی عدالت انصاف نے اپنا فیصلہ دیا۔ افتخار چوہدری نے کہاکہ عدالت کا بینچ جو کہ 10جج صاحبان پر مشتمل تھاان پر یہ فرض تھا کہ وہ بھارت کی درخواست کو مسترد کرتے کیونکہ پاکستان نے دوسرے فریق کے طور پر عالمی عدالت انصاف کے دائر اختیار سماعت کو تسلیم نہ کیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ معاہدہ جو کہ کونسلر تعلقات سال 2008ء ہے پر عالمی عدالت انصاف نے اس کو اپنے اختیار سماعت حاصل کرنے کے لیے (جو اُسے حاصل نہ تھا) نظرانداز کردیا۔جس کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ مزید براں عالمی عدالت انصاف نے آرٹیکل 26(2)(قانون عالمی عدالت انصاف ) کے مطابق بینچ کی تشکیل کے وقت فریقین سے منظوری نہ لی اور جسٹس بھنڈاری جو کہ بھارتی شہری ہیں ان کو بینچ میں شامل کیا۔ جبکہ آرٹیکل 31(2) کے تحت یہ ضروری تھا کہ پاکستان کی طرف سے نامزد کردہ ایڈہاک جج بھی اس بینچ کا حصہ ہوتے۔ جس طرح اس سے پہلے سال 2000ء میں ایک پاکستانی ایئرکرافٹ کی تباہی کا مقدمہ جو کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تھا، میں پاکستان اور بھارت نے اپنے اپنے نمائندہ ایڈہاک جج صاحبان نامزد کیے تھے۔لہٰذا اس مقدمہ میں بھی عالمی عدالت انصاف کو چاہیے تھا کہ یا تو وہ جسٹس بھنڈاری کو بینچ میں نہ بیٹھنے دیتی یا پھر انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے پاکستان کو بھی اپنا اپنی نمائندگی کے لیے نمائندہ ایڈہاک جج نامزد کرنے کی اجازت دیتی۔انہوں نے بھارتی شہریت کے حامل جسٹس بھنڈاری کے رویہ پر بھی تنقید کی جنہوں نے اپنا علیحدہ نوٹ لکھا جس سے پاکستان کے خلاف یک طرفہ فیصلہ ہونے کی بُو آتی ہے۔ انہو ں نے ریاستِ پاکستان کی جانب سے پیش ہونے والے نمائندوں کو اس بات پر تنقیدکا نشانہ بنایا کہ انہیں کیس کی مناسب تیاری کرنا چاہیے تھی جو انہوں نے نہ کی ۔اُن کے مطابق پاکستان کے پاس ایک مضبوط مقدمہ تھا اور بھارت کی درخواست خارج ہونا اس بنا پر یقینی تھا کہ عالمی عدالت انصاف کو اختیار سماعت حاصل نہ تھا اور اس کے ساتھ ساتھ آپشنل پروٹوکولز کے آرٹیکل 1جوکہ کونسلر تک رسائی کے متعلق ہے وہ بھی دہشت گردی اور جاسوسی کی کارروائیوں میں ملوث شخص کو حاصل نہ ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی طرف سے پیش ہونے والے کونسل کو اس سے پہلے سابقہ مقدمے کا فیصلہ جو کہ ریاست نیکاراگوا اور ریاست متحدہ ہائے امریکہ کے درمیان تھا جس میں عالمی عدالت انصاف نے قرار دیا کہ ’’عالمی عدالت انصاف کے دائرہ اختیار سماعت کے سوال کے متعلق یہ قرار دیاکہ عالمی عدالت انصاف کو اتنا ہی اختیار حاصل ہے جتنا فرقین تسلیم کریں وغیرہ‘‘۔انہوں نے عالمی عدالت انصا ف کے اس فیصلے کے آنے میں حکومت پاکستان کو بھی ذمہ ٹھہرایا جس نے اس مقدمہ کو درست طور پر پیش نہ کر کے ساری قوم کو مایوس کیا۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کو اپیل کا حق حاصل نہ ہے تاہم حکومت پاکستان عالمی عدالت انصاف کو اپنا نامزد کردہ ایڈہاک جج شامل کرانا چاہیے اور اس بات کی وضاحت طلب کرنی چاہیے کہ چونکہ پاکستان نے عالمی عدالت انصاف کے دائرہ اختیار سماعت کو تسلیم نہیں کیا۔ اس کے باوجود عالمی عدالت انصاف نے کس طرح یہ فیصلہ جاری کر دیا کہ ایک دہشت گرد کو پھانسی نہ دی جائے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں