وزیراعظم جے آئی ٹی سے بھی بچ جائیں گے، نوازشریف کانام تواصغرخان کیس میں بھی تھا؟ اعترازاحسن نے پاناماکیس پرردعمل دیتے ہوئے بہت کچھ کہہ ڈالا

  جمعرات‬‮ 20 اپریل‬‮ 2017  |  18:24
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنمااورسینیٹراعتزازاحسن نے کہاہے کہنوازشریف صادق اورامین نہیں رہے کیونکہ پانامالیکس کے مقدمے میں دو سینئرججزنےیہ بات کہہ دی ہے اوراس پرہی سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلہ سنایاہے ۔میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے اعتزازاحسن نےپانامالیکس کے مقدمے کے فیصلے پرردعمل دیتے ہوئے کہاکہ جے آئی ٹی کی تشکیل نوازشریف کوراہ فراردینے کےمترادف ہے ۔انہوں نے کہاکہ عدالتوں نے ہمیشہ شریف خاندان کے حوالے سے نرم رویہ رکھاہے ۔اعتزازاحسن نے کہاکہ آئی جے آئی کے فنڈنگ کیس کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ نے اصغرخان کافیصلہ بھی دیاتھالیکن آج تک اس پربھی عمل درآمد نہیں ہوسکا۔اعتزازاحسن نے کہاکہ عدالت عظمی کے دوسینئرججزنے کہا کہ نوازشریف صادق
اور امین نہیں رہےجبکہ اس بینچ میں موجود تین ججوں نے ان کی اس رائے کومستردبھی نہیں اورنہ ہی اس کی تردیدکی اوریہی سپریم کورٹ کاپانامالیکس کے حوالے سے فیصلہ ہے ۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے پانامہ کیس کا تاریخی سنا دیاہے جن میں سے دو ججز نے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فیصلہ سنایا جبکہ تین ججز اختلافات کرتے نظر آئے۔سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے دونوں صاحبزادوں حسن اور حسین کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ ججز نے کہا ہے کہ نیب اور دیگر ادارے اپنا کام کرنے میں ناکام رہے اس لئے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا۔ رپورٹ کے مطابق 540صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس اعجاز افضل نے تحریر کیا فیصلے میں ججز کی رائے تقسیم کا شکار دکھائی دی۔ تین ججز فیصلے میں ایک طرف اور دو ججز اختلاف کرتےنظر آئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

0

روزانہ کی دس بڑی خبریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

بذریعہ ای میل آپ کو دس بڑی خبروں کے ساتھ ساتھ کرنسی اور سونے کے ریٹس بھی بھیجے جائیں گے۔