farhat-ullah-baber

اہم سیاسی جماعت 34ممالک کے اتحاد کی سربراہی کیلئے جنرل (ر)راحیل شریف کی تقرری کی مخالفت میں کھل کرسامنے آگئی

  بدھ‬‮ 11 جنوری‬‮ 2017  |  22:38
اسلام آباد(آئی این پی)پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سینیٹ میں بحث میں حصہ لیتے ہوئے سعودی عرب کی سربراہی میں 34ممالک کے اتحاد کی سربراہی کے لئے جنرل (ر)راحیل شریف کی تقرری کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اس کے دوررس مضمرات پاکستان پر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اتحاد دہشتگردی کے خلاف لڑنے کے لئے بنایا گیا تھا تاہم جان بوجھ کر اس اتحاد میں شیعہ ممالک ایران، عراق اور شام کو شامل نہ کرنے سے اسے سنی ممالک کا ایک ایسا اتحاد سمجھا گیا ہے جو علاقے میں شیعہ

(خبر جا ری ہے)

مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لئے ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر آئندہ ایران بھی اسی طرح کا ایک اتحاد شیعہ ممالک کو ملا کر بنا لے اور پاکستان کے کسی سینئر فوجی کمانڈر کو اس کی سربراہی کے لئے دعوت دے تو کیا ہوگا؟ انہوں نے خبردار کیا کہ جنرل راحیل شریف کی یہ تقرری تباہی کی ترکیب ہوگی۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں متفقہ طور پر اس فوجی اتحاد میں شمولیت کو مسترد کر دیا تھا۔ اگر حال ہی میں ایک ریٹائر ہونے والا جنرل جی ایچ کیو سے سیدھا

(خبر جا ری ہے)

اس اتحاد کی سربراہی کے لئے چلا جائے تو اس کے بہت ہی تکلیف دہ اور غلط پیغام جائے گا۔ جنرل راحیل شریف نے قوم سے جو احترام حاصل کیا ہے وہ پہلے کسی جنرل نے حاصل نہیں کیاا ور کسی نئے فوجی اتحاد کی سربراہی ان کے احترام میں اضافہ نہیں کرے گی۔انہوں نے جنرل راحیل شریف سے کہا کہ وہ اس دعوت کو خود ہی ٹھکرا دیں۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ جب جنر ل راحیل نے اپنی ریٹائرمنٹ سے دس ماہ قبل ہی اپنے ریٹائر ہونے کا اعلان کر دیا تھا تو انہیں بہت سراہا گیا تھا۔ اگر انہوں نے ریٹائرمنٹ کے اتنے تھوڑے عرصے بعد اس فوجی اتحاد میں شمولیت کی تو اس کو سراہنے کا عمل دم توڑ دے گا اور لوگ باتیں کرنا شروع ہو جائیں گے۔ بعدازاں عوام مفاد کے نقطے پر بات کرتے ہوئے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے فوجی عدالتوں کو توسیع دینے کی بھی مخالف کی۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا جامع تجزیہ ہونا چاہیے کہ جن لوگوں کو موت کی سزائیں ہوئیں ان میں سے کتنے دہشتگرد تھے جن کے لئے یہ عدالتیں قائم کی گئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ ان عدالتوں کے طریقہ کار اور اس میں شہادتیں جمع کرنے والے طریقوں کا بھی تجزیہ ہونا چاہیے۔ اس بات کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے کہ کے پی کے کے انٹرنمنٹ سنٹرکے انٹرنیز کو بھی سزائے موت دی گئی۔ انہوں نے اس جانب توجہ دلائی کہ کچھ عرصہ قبل مالاکنڈ کے سنٹر سے 35انٹرنیز غائب ہوگئے تھے جن میں صرف سات کو سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں فوجی عدالتوں کے لئے کوئی جگہ نہیں۔

اسلام آباد(آئی این پی)پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سینیٹ میں بحث میں حصہ لیتے ہوئے سعودی عرب کی سربراہی میں 34ممالک کے اتحاد کی سربراہی کے لئے جنرل (ر)راحیل شریف کی تقرری کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اس کے دوررس مضمرات پاکستان پر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اتحاد دہشتگردی کے خلاف لڑنے کے لئے بنایا گیا تھا تاہم جان بوجھ کر اس اتحاد میں شیعہ ممالک ایران، عراق اور شام کو شامل نہ کرنے سے اسے سنی ممالک کا ایک ایسا اتحاد سمجھا گیا ہے جو علاقے میں شیعہ مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لئے ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر آئندہ ایران بھی اسی طرح کا ایک اتحاد شیعہ ممالک کو ملا کر بنا لے اور پاکستان کے کسی سینئر فوجی کمانڈر کو اس کی سربراہی کے لئے دعوت دے تو کیا ہوگا؟ انہوں نے خبردار کیا کہ جنرل راحیل شریف کی یہ تقرری تباہی کی ترکیب ہوگی۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں متفقہ طور پر اس فوجی اتحاد میں شمولیت کو مسترد کر دیا تھا۔ اگر حال ہی میں ایک ریٹائر ہونے والا جنرل جی ایچ کیو سے سیدھا اس اتحاد کی سربراہی کے لئے چلا جائے تو اس کے بہت ہی تکلیف دہ اور غلط پیغام جائے گا۔ جنرل راحیل شریف نے قوم سے جو احترام حاصل کیا ہے وہ پہلے کسی جنرل نے حاصل نہیں کیاا ور کسی نئے فوجی اتحاد کی سربراہی ان کے احترام میں اضافہ نہیں کرے گی۔

انہوں نے جنرل راحیل شریف سے کہا کہ وہ اس دعوت کو خود ہی ٹھکرا دیں۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ جب جنر ل راحیل نے اپنی ریٹائرمنٹ سے دس ماہ قبل ہی اپنے ریٹائر ہونے کا اعلان کر دیا تھا تو انہیں بہت سراہا گیا تھا۔ اگر انہوں نے ریٹائرمنٹ کے اتنے تھوڑے عرصے بعد اس فوجی اتحاد میں شمولیت کی تو اس کو سراہنے کا عمل دم توڑ دے گا اور لوگ باتیں کرنا شروع ہو جائیں گے۔ بعدازاں عوام مفاد کے نقطے پر بات کرتے ہوئے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے فوجی عدالتوں کو توسیع دینے کی بھی مخالف کی۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا جامع تجزیہ ہونا چاہیے کہ جن لوگوں کو موت کی سزائیں ہوئیں ان میں سے کتنے دہشتگرد تھے جن کے لئے یہ عدالتیں قائم کی گئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ان عدالتوں کے طریقہ کار اور اس میں شہادتیں جمع کرنے والے طریقوں کا بھی تجزیہ ہونا چاہیے۔ اس بات کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے کہ کے پی کے کے انٹرنمنٹ سنٹرکے انٹرنیز کو بھی سزائے موت دی گئی۔ انہوں نے اس جانب توجہ دلائی کہ کچھ عرصہ قبل مالاکنڈ کے سنٹر سے 35انٹرنیز غائب ہوگئے تھے جن میں صرف سات کو سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں فوجی عدالتوں کے لئے کوئی جگہ نہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

loading...

روزانہ کی دس بڑی خبریں بذریعہ ای میل حاصل کریں

بذریعہ ای میل آپ کو دس بڑی خبروں کے ساتھ ساتھ کرنسی اور سونے کے ریٹس بھی بھیجے جائیں گے۔