کیس میں اب تک مشکلات ہی پیدا کی ہیں آپ کی بعض باتوں نے مجھے بہت دکھی کیا ہے ,نعیم بخاری

  بدھ‬‮ 11 جنوری‬‮ 2017  |  6:00

اسلام آباد(آئی این پی)پانامہ کیس کی سماعت کےدوران جسٹس شیخ عظمت سعید اور نعیم بخاری میں دلچسپ مکالمہ ہوا،جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہاکہ آپ چاہیں تو آپ کیلئے آسانی پیدا کروں نعیم بخاری نے کہا کہ آپ نے کیس میں اب تک مشکلات ہی پیدا کی ہیں آپ کی بعض باتوں نے مجھے بہت دکھی کیا ہے،جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہاکہ تکلیف کیلئے معذرت کواہ ہوں،مقصد اصل حقائق تک جانا ہے،تکلیف دینا نہیں،یہ نہیں چاہتے کہ دلائل سنے اور جاکر فیصلہ کردیں۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ 26سال پہلے کی رقم شریف خاندان کو دستیاب تھی،رقم

کی منتقلی شریف خاندان کو ثابت کرنی ہے،نعیم بخاری نے کہا کہ عدالت کو فیصلہ دینا ہوگاوزیراعظم صادق اور امین ہیں یا نہیں۔جسٹس اعجاز افضل خان نے کہاکہ آپ صرف تقریر کی بنیاد پر وزیراعظم کے خلاف کارروائی چاہتے ہیں،نعیم بخاری نے کہا کہ وزیراعظم کی حدتک تو بات ایسے ہی ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ صرف ایک نہیں تین تقاریر اور ایک عدالتی موقف بھی ہے،نعیم بخاری نے کہا کہ مریم نواز کے زیرکفالت ہونے کا بھی ایشو ہے،نوازشریف کے حوالے سے اثاثے چھپانے کا بھی معاملہ ہے صرف شریف خاندان کی دستاویزات کا جائزہ میں تو بھی کیس بنتا ہے،نعیم بخاری نے کہاکہ عدالت نے ہی فیصلہ کرنا ہے۔ پارلیمنٹ اور قوم سے سچ بولا گیا یا نہیں،جسٹس اعجاز افضل خان نے کہاکہ تقریر کی بنیاد پر وزیراعظم کو نااہل کرنے کی مثال قائم نہیں کریں گے،تقریر پر کسی نا اہل کریں گے تو یہ خطرناک ہوگا۔ سپریم کورٹ نے پانامہ کیس کی سماعت (آج)بدھ کو تک ملتوی کردی۔دوسری جانب پاناما لیکس کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ میں جماعت اسلامی کی جانب سے وزیراعظم نوازشریف کو عدالت طلب کرنے کی درخواست دائرکردای گئی ۔ درخواست جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے دائرکی۔ جماعت اسلامی نے درخواست میں موقف اختیارکیا کہ وزیراعظم نے مئی 2016 میں پارلیمنٹ میں تقریرکی اوراس تقریر کے متضاد قطری خط عدالت میں پیش کیا۔ جماعت اسلامی کی جانب سے درخواست میں مزید موقف اختیارکیا گیا کہ پاناما کیس میں تمام انگلیاں وزیراعظم اوران کے خاندان کی طرف اٹھ رہی ہیں، عدالت میں نواز شریف موضوع بحث ہیں، ملک سے باہر رقوم منتقل کرنے کے بارے وزیر اعظم ہی صحیح بتا سکتے ہیں اس لیے سپریم کورٹ وزیراعظم کوعدالت طلب کرے

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں