امریکہ کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے اعلان کے بعد بھارت نے اپنی اوقات دکھا دی ، پاکستان سے مذاکرات کس صورت ممکن ہیں ؟ مودی سرکار سیخ پا ہو گئی

  منگل‬‮ 23 جولائی‬‮ 2019  |  9:42

نئی دہلی (این این آئی) بھارتی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی جانب سے ایسی کوئی درحواست نہیں دی گئی کہ امریکہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کرے۔ پیر کو وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے موقع پر صدر ٹرمپ کی جانب سے دئیے گئے بیان پر انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا کہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ایسی کوئی درحواست نہیں دی گئی کہ امریکہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کرے اور اس معاملے پر انڈیا کی مستقل پوزیشن یہی رہی ہے کہ پاکستان سے مذاکراتاسی وقت ممکن ہوں گے


جب وہ سرحد پار ہونے والی دہشت گردی ختم کرے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان اور انڈیا کے مابین تعلقات دو طرفہ نوعیت کے ہیں اور ان کو حل کرنے کے لیے شملہ معاہدہ اور لاہور اعلامیہ موجود ہیں۔ادھر انڈین کشمیر میں سیاسی جماعت جموں اینڈ کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب ٹویٹ کے ذریعے صدر ٹرمپ کے بیان کا خیر مقدم کیا گیا ہے اور کہا گیا کہ وہ اس مثبت قدم کو خوش آمدید کرتے ہیں جس کی مدد سے خطے میں مستقل امن قائم ہو سکتا ہے۔

موضوعات:

loading...