حکومت کا ڈیل کیلئے شریف خاندان سے رابطہ،مذاکرات کیلئے ایسی کونسی شرط رکھ دی گئی جسے مریم نواز نے قبول کرنے سے انکار کردیا

  جمعہ‬‮ 19 جولائی‬‮ 2019  |  15:44

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ وہ موجودہ حکومت کو 5 سال دینے کیلئے تیار ہیں تاہم عوام یہ مدت پوری نہیں کرنے دیں گے، مذاکرات کیلئے متعدد مرتبہ ہم سے رابطہ کیا گیا ، میں اورنواز شریف بات چیت کے لوازمات پورے نہیں کر سکتے ،میرا کسی بھی ادارے سے کوئی ٹکرائوکا ارادہ نہیں اور نہ کرنا چاہتی ہوں،اگر ویڈیو اصلی ہے تو پھر نواز شریف کو جیل میں رکھنا غیرقانونی ہے، ویڈیو فورنزک کرالیں دودھ کا دودھ پانی کا


پانی ہوجائیگا،نوازشریف کو انصاف ملنا چاہیے ،جتنے مرضی قائدین گرفتار کر لیں ڈرنے والے نہیں ،ڈیل دینے کی باتیں کرنے والے کو خود ڈیل کی ضرورت پڑ گئی ہے، حکومت مکمل طورپر ناکام ہو چکی ہے ،جب پارٹی فیصلہ کرے گی تو احتجاج کریں گے۔ جمعہ کو احتساب عدالت میں نیب کی دائر کردہ درخواست پر طلب کیے جانے پر مریم نواز پیش ہوئیں اس موقع پر غیر رسمی بات چیت کر تے ہوئے انہوںنے کہاکہ ملک میں آزادی اظہار معطل ہوچکا ہے۔ انہوںنے کہاکہ متعدد مرتبہ ہم سے رابطہ کیا گیا لیکن ہم نے بات چیت نہیں کی، میں اور نواز شریف بات چیت کے لوازمات پورے نہیں کر سکتے۔اس دوران ان سے سوال کیا گیا کہ وہ کیا لوازمات ہیں؟، جس پر مریم نواز نے جواب دیا کہ اس کیلئے اصولوں کی قربانی دینا پڑتی ہے اور ہم اس کیلئے تیار نہیں ہیں۔نائب صدر نے کہا کہ جتنے مرضی قائدین گرفتار کرلیں، ڈرنے والے نہیں، میں موجودہ حکومت کو 5 سال دینے کو تیار ہوں لیکن عوام یہ مدت پوری نہیں کرنے دیں گے۔ایک سوال کے جواب میںانہوںنے کہاکہ اب کسی کی جرت نہیں کہ آمریت کی طرف دیکھے، آمر ناکام ہوچکے اور آج وہ بیمار ہیں، اللہ انہیں صحت دے۔نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ڈیل دینے کی باتیں کرنے والے کو خود ڈیل کی ضرورت پڑ گئی ہے،حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے، جب پارٹی فیصلہ کرے گی تو احتجاج کریں گے۔ ایک صحافی نے سوال کیا کہ جن شخصیات کے بارے آپ نے انٹرویوز میں ذکر کیا ان کی ویڈیوز اور نام کب منظر عام پر لا رہی ہیں؟ ۔ مریم نواز نے جواب دیاکہ میں صرف مسلم لیگ ن کی ممبر ہی نہیں بلکہ اس ملک کی ذمہ دار شہری بھی ہوں، میرا کسی بھی ادارے سے کوئی ٹکراو کا ارادہ نہیں اور نہ کرنا چاہتی ہوں۔مریم نواز نے کہاکہ میری جو ڈیمانڈز ہیں ان کو محدود کر رہی ہوں، جو ویڈیوز ثبوت میں دیکھا چکی ہوں وہی کافی ہیں۔انہوںنے کہاکہ میں چاہتی ہوں نواز شریف کی بے گناہی ثابت ہونے کے بعد ان کو انصاف نہیں ملا ان کو انصاف ملنا چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ میں ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہی ہوں۔ مریم نواز نے کہاکہ اگر ویڈیو اصلی ہے تو پھر نواز شریف کو جیل میں رکھنا غیرقانونی ہے۔ صحافی نے سوال کیا کہجج ارشد ملک نے آپ کے خلاف ایف آئی آر درج کرادی ہے۔مریم نواز نے کہاکہ مقدمہ میرے نہیں بلکہ جج کے خلاف درج کیا جانا چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ اگر ویڈیو ٹیمپرڈ ہے تو جج صاحب کو کیوں نکالا؟میں نے تو ثبوت عوام کے سامنے پیش کیا،ویڈیو فورنزک کرالیں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائیگا۔ انہوںنے کہاکہ اتنے بڑے ثبوت کے بعد نواز شریف کو حبس بے جا میں رکھنا غیرقانونی ہے۔انہوںنے کہاکہ سوشل میڈیا کو نشانہ بنانے والی حکومت کمزور ہے،آوازیں کمزور نہیں ہیں؎ انہوںنے کہاوہ آوازیں بہت مضبوط ہیں جنہیں بند کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایک اور سوال پر انہوںنے کہاکہ ایک ویڈیو دکھائی،ویڈیو خراب تھی تو جج کو کیوں نکالا،میں نے مناسب ثبوت دکھا دیا،بجائے اس پرایکشن لینے کے جج کو نکال دیا۔ایک اور سوال پر انہوںنے کہاکہ عوام ہی حکومت کو گرادیں گے،احتجاج کا فیصلہ اے پی سی میں مشاورت کے بعد کیا جائیگا،تاجروں کی ہڑتال عوامی غصے کی جھلک ہے۔ایک اور سوال پر انہوںنے کہاکہ اگر ہم اسمبلی میں نہ جاتے تو اس حکومت کی نا اہلی سامنے نہ آتی ۔ صحافی نے سوال کیا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے بارے میں کیا کہیں گی ۔ مریم نواز نے جواب دیاکہ جو آئین اور قانون کے مطابق لکھا ہے اس سے ایک لفظ بھی ادھر ادھر نہیں ہونا چاہیے۔ایک اور سوال پر انہوںنے کہاکہ کیا یہ مجھے ایک الزام میں دوبارہ سزا دیں گے ،اگر سزا اب دینی ہے تو جو تین ماہ جیل میں گزارے ہیں،ان کا حساب کون دیگا۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ ڈیڑھ سو کے قریب کارکنان کی گرفتاری کی اطلاع ہے،مسلم لیگ ن کے جتنے قائدین کو گرفتار کرنا ہے کر لیں لیکن ہم ڈرنے والے نہیں ۔

موضوعات:

loading...