شہبازشریف نے سیاست چھوڑنے کا مشروط اعلان کردیا

  جمعرات‬‮ 18 جولائی‬‮ 2019  |  19:05

لاہور(این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف نے کہا ہے عمران خان نے میرے بغض اور حسد میں پاکستان کے خلاف گھناؤنی سازش کی اور ملک کو بدنام کیا،یہ ایٹمی حملے سے کم نہیں،لندن کی عدالت میں جارہا ہوں اور برطانیہ کی عدالت میں پاکستان کی عزت کو بحال کرائیں گے، اگر میرے خلاف فیصلہ آیا تو قوم سے معافی مانگ کر سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لوں گا اور ہر سزا بھگتنے کیلئے تیار ہوں،اگر عدالت سے عمران خان کے خلاف فیصلہ آئے تو پھر قوم اس کی سزا تجویز کرے، جب زلزلہ آیا


تو میں اس وقت جلا وطن تھا، اس کے بعد صوبے کا وزیر اعلیٰ بنا جبکہ ایرا وفاق کے تحت محکمہ تھا، نوید اکرام ڈیپوٹیشن پر پنجاب میں آیا اور ہم نے نہ صرف اس کی کرپشن پکڑی بلکہ اس کی جائیدادوں کو بھی اٹیچ کیا، نوید اکرام نے میرے داماد کے پلازے میں بھی کچھ جائیداد خریدی ہم نے اسے بھی سیل کرا دیا،اگر میرے خلاف اتنی بڑی کرپشن کے ثبوت موجود تھے تو پھر مجھے آشیانہ اور گندے نالے کے کیس میں کیوں نیب کے ہاتھوں گرفتار کرایا، شاہد خاقان عباسی کو ایک بھونڈے طریقے سے گرفتار کیا گیا اور یہ گرفتاری حکومت اور نیب کی ملی بھگت ہے، عمران نیازی ہم آپ کو روٹی اور دوائیاں مہنگی کرنے، بیروزگاری پھیلانے ا ور مہنگائی کرنے پر این آر او نہیں دیں گے،، نیب کے چیئرمین حکومت کے آلہ کار نہ بنیں او ریہ تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ نیب کا سارا زور (ن) لیگ کے خاتمے کیلئے ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ماڈل ٹاؤن سیکرٹریٹ میں احسن اقبال، سردار ایاز صادق، مریم اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ او ردیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ آج عمران نیازی اور نیب کی ملی بھگت سے مسلم لیگ (ن)کی قیادت پر بھرپور وار ہوا ہے اور ایک بھونڈے طریقے سے شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کیا گیا۔شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کرنے کے لیے نیب کے پاس وارنٹ نہیں تھے، ڈی جی نیب نے انہیں پہلے واٹس ایپ پیغام دکھایا جبکہ پھر وارنٹ گرفتاری کی کاپی دکھا کر حراست میں لیا گیا۔یہ وہ تماشا ہے جو عمران خان اور نیب کی ملی بھگت سے لگا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان نے 11ماہ میں ملکی معیشت کا جنازہ نکال دیا اور اس تباہ شدہ معیشت کے جنازے کو ان گرفتاریوں کے پیچھے چھپانا چاہتے ہیں اورظلم و زیادتی کرکے عوام کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں 5ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ لگایا جبکہ گیس کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے میں شاہد خاقان کا کلیدی کردار ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو اس ملک کے غریب عوام کا دکھ درد تھا اور ہے،اسی کو دیکھتے ہوئے گیس کی قیمتوں میں نچلی سطح پر اضافہ نہیں کیا اور آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن نہیں لی گئی،شاہد خاقان کا قصور کیا ہے کہ وہ نواز شریف کا ساتھی ہے اور دلیر آدمی ہے جو سمجھوتہ نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ احتساب کہاں ہے، شفاف انصاف پر مبنی احتساب پاکستان میں کہاں ہے؟، یہ احتساب کے نام پر مسلم لیگ (ن)کے خلاف بدترین انتقام ہے، قوم سمجھ چکی ہے کہ مسلم لیگ (ن)کے رہنما انتقام کا نشانہ بن رہے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان نے دنیا میں پاکستان کو ایسا ملک بنادیا ہے،جس کی ہر موقع پر جگ ہنسائی ہوتی ہے، عمران خان اپوزیشن کو گالی دینے والے کو وزیر بنادیتے ہیں جبکہ اگلے دن وزارت واپس لے لیتے ہیں، آپ کبھی ایف بی آر چیئرمین لگاتے ہیں کبھی ہٹا دیتے ہیں۔عمران خان نے بجٹ میں عوام پر ٹیکسز کا کلہاڑا چلایا، چند دن پہلے ہونے والی تاجروں، سرمایہ کاروں نے ہڑتال کی اور اس میں کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت کی آمیزش شامل نہیں تھی۔شہباز شریف نے کہا کہ آپ نے دنیا میں پاکستان کو بدنام کردیا، یہاں کون آکر سرمایہ کاری کرے گا، معیشت، کسان کا بیڑہ غرق کردیا گیا،روٹی کی قیمت 7سے 15 اور نان کی قیمت 20 روپے تک پہنچ گئی ہے، غریب کے لیے جینا مشکل ہوگیا ہے۔ان تمام وجوہات اور بدترین غفلت کا نزلہ مسلم لیگ (ن)پر گر رہا ہے اور نیب کی جیلوں اور عقوبت خانوں میں جو لوگ بند ہیں اس میں اکثریت مسلم لیگ (ن)کی قیادت کی ہے جبکہ دوسرے نمبر پیپلزپارٹی کا ہے۔انہوں نے کہا کہ قوم جانتی ہے کہ اربوں، کھربوں کی کرپشن کے کیسز نیب کے پاس پڑے ہیں لیکن ان پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی کیونکہ وہ حکومت وقت کے کیس ہیں، اس کی ایک مثال بس ریپڈ ٹرانسپورٹ پشاور کا منصوبہ ہےجس کی کرپشن کی خود ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے بات کی ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان اور نیب کا یہ کلہاڑا مسلم لیگ (ن)پر اس لیے چلایا جارہا ہے کیونکہ ہم نے عوام کی خدمت کی ہے اور یہی چیز عمران خان کو سونے نہیں دیتی۔عمران خان نے پاکستان کو برباد کردیا لیکن وقت آئے گا کہ قوم آپ سے اس کا حساب لے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے نواز شریف کی قیادت میں خدمت کی، غلطیاں ہم سے بھی ہوئی ہوں گی کیونکہ ہم بھی انسان ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان ایک ناکام، ضدی، غصے سے بھرے ہوئے، مغرور اور سلیکٹڈ وزیر اعظم ہیں،انہوں نے کبھی سب کی بات نہیں کی، 1992 کا ورلڈ کپ جیتنے پر بھی انہوں نے میں، میں کیا لیکن ہم کی بات نہیں کی۔ان کے دماغ میں بھوسہ بھرا ہوا ہے۔میں نے پہلے دن کہا تھاکہ نیب اور عمران خان کا چولی دامن کا ساتھ ہے، اگر ایسا نہیں ہوتا تو میگا کرپشن کے کیسز کے باوجود نیب سویا ہوا نہیں ہوتا، ہمیں صرف ایک بات کی سزا مل رہی اور وہ قوم کی خدم ہے،ہم نے پہلے بھی نیب کو بھگتا ہے اور بھگتیں گے لیکن عمران خان کو یہ سودا بہت مہنگا پڑے گا۔شہباز شریف نے ایرا کی امداد میں خرد برد کے حوالے سے ڈیلی میل کی خبر کے حوالے سے کہا کہزلزلہ زدگان کی رقوم کے حوالے سے بدترین الزام لگایا گیا اور عمران خان نیازی نے مجھ پر اپنے ساتھیوں کے ذریعے وار کیا، عمران نیازی جھوٹوں کا سردار ہیں اور باقی سب ان کے چیلے ہیں، دن رات جھوٹ بول کر قوم کا وقت ضائع کیا جارہا ہے۔اگر اس میں میری کرپشن تھی تو نیب اور عمران خان کو آشیانہ اور گندے نالوں کے کیس کی کیا ضرورت تھی، سیدھا سیدھا اس میں گرفتار کرلیتے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان آپ نے مجھے تو بدنام کرنا تھا لیکن برطانیہ میں پاکستان کو بدنام کروانے کی کیا ضرورت تھی، عمران خان کا مجھ پر یہ بدترین وار ہے جو ایٹمی حملے سے کم نہیں ہےلیکن خود برطانیہ نے اس خبر کی تردید کردی اور کہا کہ اس میں کوئی سچائی نہیں۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ اس معاملے میں حقائق یہ ہیں کہ زلزلہ 2005 میں آیا اور اسی سال میں برطانیہ میں غریب الوطنی میں تھا جبکہ 2007 کے آخر میں ہمارا خاندان واپس پاکستان آیا، جس کے بعد 2008 کے انتخابات کے نتیجے میں اگست، ستمبر میں اس صوبے کا وزیر اعلی بنا۔2005 سے 2008 اگست تک میرے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا جبکہ یہ الزام خوردبرد کا ہے کہ میں نے زلزلہ زدگان کا پیسہ کھا کر اپنے بچوں کو دے دیا، ایرا وفاق کے زیر انتظام ہے اور اس پر صوبوں کا کنٹرول نہیں ہے۔برطانیہ کے ادارے ڈیفڈ نے 2008 سے 2018 تک پنجاب کو 50 کروڑ پانڈ دیا، اس کا مجھ سے حساب لیا جائے لیکن اس بارے میں کوئی بات نہیں کی جاتی۔اگر اس میں کوئی کرپشن ثابت ہو جائے تو میں ہر سزا بھگتنے کے لئے تیا رہوں۔ اگر میں نہ بھی رہوں تو میری لاش کو قبر سے نکال کر پھانسی دی جائے۔ پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اس سے پہلے میرے خلاف 3 الزامات لگائے تھے، پہلا یہ کہ جاوید صادق میرا فرنٹ مین ہے جس 27 ارب روپے کمیشن وصول کیا، دوسرا الزام یہ لگایا گیا کہ پاناما کیس میں عمران خان کا منہ بند کرنے کے لیے 10 ارب روپے کمیشن کی پیشکش کی جبکہ تیسرا الزام یہ لگایا کہ ملتان میٹرو میں ایک کمپنی ہے جو شہباز شریف کی فرنٹ کمپنی ہے جس میں ایک کروڑ 70 لاکھ ڈالر کمیشن اور کرپشن کی ہے۔عمران خان کو میں نے جاوید صادق اور پاناما کا نوٹس دیا لیکن کوئی جواب نہیں دیا گیا جبکہ اس کے بعد عدالت میں بھی انہوں نے میرے ہتک عزتپر کوئی جواب داخل نہیں کی او رعدالت سے تاریخوں پر تاریخیں لے رہے ہیں۔ چینی کمپنی کا الزام لگایا گیا لیکن وہ بھی غلط ثابت ہوا۔انہوں نے کہا کہ جب ان لوگوں نے دیکھا کہ معاملہ خراب ہوگیا تو انہوں نے یہ روپ اختیار کیا اور زلزلہ زدگان کا مال ہڑپنے کا بہت گھناؤنا الزام لگایا گیا اور برطانوی اخبار میں جھوٹی خبر شائع کرائی گئی جس پر لندن کی عدالت سے رجوع کیا جارہا ہے اور وہاں پر ایک نظام ہے۔ میرے ہاتھ میں بٹیرا آگیا ہے اور اس سے پہلے یہ بھاگتے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالت عظمی کی جانب سے ویڈیو کا نوٹس لیا جا چکا ہے اور ہمیں عدالت عظمیٰ سے انصاف کی پوری امید ہے اور اس کے نتیجے میں نواز شریف کی رہائی ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ اس سے پہلے حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ فرانز ک آڈٹ کرائیں گے لیکن اس سے یوٹرن لے لیا گیا اور کہا کہ ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔

موضوعات:

loading...