آج کے دن آپ کو 18 اپریل 2012ء کوجب اسد عمر پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے تو کیا ہواتھا؟ اور اب کیا حال ہے؟گردنوں کا سریا‘ تکبر اور اوور کانفی ڈینس انسان کو کس طرح خوار کرتا ہے؟حکومت کے پاس اسد عمر کا متبادل کیا ہے اور اگر وہ بھی ناکام ہو گیا توکیا ہوگا؟جاویدچودھری کا تجزیہ

  جمعرات‬‮ 18 اپریل‬‮ 2019  |  21:57

یہ ملک وزراء اعظم اور خزانہ کے وزراء کیلئے ہمیشہ بھاری ثابت ہوتا ہے‘ اس وقت چار سابق وزراء اعظم زندہ ہیں‘ ان میں سے شوکت عزیز اشتہاری ہیں‘ یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف نیب کے مقدمات بھگت رہے ہیں اور میاں نواز شریف کو سزا ہو چکی ہے‘وزراء خزانہ میں اسحاق ڈار اشتہاری ہیں اور یہ ٹیلی ویژن پر بھی نہیں آ سکتے‘ مفتاح اسماعیل ای سی ایل پر ہیں اور ڈاکٹر نے انہیں مزید سزا سے بچنے کیلئے ٹیلی ویژن چینلز سے پرہیز کا مشورہ دے دیا ہے جبکہ اسد عمر بھی آج سے سابق ہو


چکے ہیں‘ یہ باقی زندگی طعنوں سے بچنے کی کوشش کرتے رہیں گے‘ میں آج کے دن آپ کو 18 اپریل 2012ء کا وہ دن یاد کرانا چاہتا ہوں جب اسد عمر پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے تو پوری پارٹی نے ان کا والہانہ استقبال کیا تھا لیکن آج جب یہ وزارت سے فارغ ہوئے تو ان کے ساتھ پارٹی کا کوئی عہدیدار‘ کوئی کارکن نہیں تھا‘ یہ اکیلے بیٹھے تھے، گردنوں کا سریا‘ تکبر اور اوور کانفی ڈینس انسان کو کس طرح خوار کرتا ہے‘ صرف 24 گھنٹے پہلے وزیراعظم ان کے بارے میں کیا کہہ رہے تھے اور ان کے وزیراعظم کے بارے میں کیا خیالات تھے، وزیراعظم نے کل قوم سے کہا تھا‘ مشکل وقت آتے ہیں‘ قوم نہ گھبرائے‘ قوم پچھلے آٹھ ماہ عمران خان کے ساتھ کھڑی رہی ‘ یہ بابر اعوان‘ اعظم سواتی اور علیم خان کے استعفے پر بھی نہیں گھبرائی‘ یہ گیس‘ بجلی‘ پٹرول‘ بے روزگاری‘ مہنگائی اور ڈالر کی قیمت میں اضافے پر بھی نہیں گھبرائی لیکن وزیراعظم اگر اب اجازت دیں تو کیا قوم تھوڑا سا گھبرا لے کیونکہ آج کپتان کی ٹیم کا سٹار پلیئر آؤٹ ہو گیا ہے، حکومت کے پاس اسد عمر کا متبادل کیا ہے اور اگر وہ بھی ناکام ہو گیا تو کیا بنے گا۔

موضوعات:

loading...