وفاقی وزراء اب یہ کام خود کریں گے، بڑی پابندی عائد، وزیراعظم عمران خان نے حکومتی و پارٹی ترجمانوں کو نئی ہدایات جاری کر دیں

  پیر‬‮ 15 اپریل‬‮ 2019  |  19:47
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزراء کو وزارتوں کی کارکردگی عوام تک پہنچانے اور حکومتی اور پارٹی ترجمان کو ٹاک شوز پر بغیر تیاری نہ جانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں، میڈیا ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت میڈیا اسٹرٹیجی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری، ندیم افضل چن اور یوسف مرزا شریک ہوئے۔اجلاس میں ایک چار رکنی میڈیا ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔فواد چوہدری، یوسف بیگ مرزا،ندیم افضل چن اور فردوس عاشق اس ٹیم کے ارکان ہیں۔ دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات نے کابینہ میں رد وبدل میں خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی وزراء کے قلمدان تبدیل کئے جانے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے پیر کوٹوئٹر پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ وزراء کی تبدیلی وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار ہے میڈیا ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان اہم مرحلے سے گزر رہا ہے اور اس نوعیت کی قیاس آرائیوں سے ہیجان جنم لیتا ہے جو ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔دوسری جانب وزیر اعظم کے ترجمان ندیم افضل چن نے اسد عمر کو ہٹانے کی خبروں کی تردید کر دی ہے۔ ترجمان وزیراعظم ندیم افضل چن نے اپنے بیان میں کہا کہ وزراتوں میں تبدیلی سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، یہ وزیراعظم کا استحقاق ہے کہ وہ کسی کی بھی وزارت تبدیل کریں اور اس وقت کسی ایک یا دو وزراء کو تبدیل کرنے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔وزیراعظم کے ترجمان نے کہا کہ وزارتوں کی کارکردگی کے حوالے سے وزیراعظم ہر کابینہ اجلاس میں پوچھتے رہتے ہیں۔ وزیر مملکت برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گل نے بھی اسد عمر کو ہٹائے جانے کی تردید کی اور کہا کہ اسد عمر کی وزارت انہی کے پاس ہے، پاکستان کو سخت ترین معاشی بحران سے بچا چکے ہیں، ان کے جانے کی خبر جعلی ہے۔قبل ازیں نجی ٹی وی نے وزیراعظم آفس کے ذرائع کے حوالے سے بتایاکہ وزراء کی کارکردگی رپورٹس وزیراعظم آفس کو موصول ہوگئی جسے منگل کو ہونے والے کابینہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق تمام وزارتوں کو سہہ ماہی رپورٹ بنانے کے لیے دو ہفتوں کا وقت دیا گیا تھا، ہر وزارت کو اب تک کی کارکردگی رپورٹ پیش کرنے کے لیے کابینہ اجلاس میں 30 منٹ کا وقت دیا جائے گا اور کارکردگی رپورٹ دیکھ کر وزیراعظم کابینہ میں رد و بدل کا فیصلہ کریں گے۔ذرائع کے مطابق بعض وزراء کی وزارتیں تبدیل کیے جانے کا امکان ہے، پنجاب کے چیف سیکرٹری اور ایف بی آر کے سربراہ کی تبدیلی کا بھی امکان ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف سے مذاکرات مکمل ہونے کے بعد وزارت خزانہ میں اہم تبدیلیاں کیے جانے کا امکان ہے جبکہ وزارت پیٹرولیم میں بھی بڑی تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے وزارت داخلہ کی ذمے داری بھی کسی کے سپرد کیے جانے کا امکان ہے۔

موضوعات:

loading...