پاکستان کے ہاتھ باندھ کر بھارت کو کھلا نہیں چھوڑا جاسکتا،اپنی فضائی حدود میں رہتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں کتنے اہداف کو نشانہ بنایا؟ترجمان پاک فوج نے بڑا اعلان کردیا

  پیر‬‮ 25 مارچ‬‮ 2019  |  13:03
راولپنڈی(اے این این) ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستان کے ہاتھ باندھ کر بھارت کو کھلا نہیں چھوڑا جاسکتا، دونوں کو یکساں دیکھا جانا چاہیے،جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلائو کے لیے اقدامات کریں گے، بشرطیکہ بھارت بھی ایسا کرے، ہم نے اپنی فضائی حدود میں رہتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں 4 اہداف کو نشانہ بنایا اور ایسی جگہ کا انتخاب کیا جہاں انفرااسٹرکچر اور آبادی نہیں تھی، بھارتی طیارے مار گرانے کی کارروائی میں جے ایف 17 تھنڈر استعمال کیا گیا تھا۔ہمارے سارے طیارے فضا میں تھے جس کی ویڈیو بھی موجود ہے۔روسی ویب سائٹ اسپٹنک کو انٹرویو دیتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے بھارت کے خلاف جنگ کی صورت میں پاکستان کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کو استعمال کرنے کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار صرف اپنے دفاع کے لیے ہیں۔پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں ہی 1998 میں ایٹمی قوت بنے لیکن پاکستان کا ایٹمی ہتھیار رکھنے سے متعلق موقف دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی روایتی جنگ کو روکنا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ایٹمی ہتھیار بھارتی جارحیت کو روکنے کا ایک ہتھیار ہے، اس صلاحیت کا حامل کوئی بھی ملک اسے استعمال کرنے کی بات نہیں کرے گا۔اپنے انٹرویو کے دوران میجر جنرل آصف غفور نے یقین دلایا کہ پاکستان بھی دیگر ایٹمی ممالک کی طرح جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلائو سے متعلق اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہے، تاہم یہ تب ہی ممکن ہوسکتا ہے جب پڑوسی ملک بھارت بھی اسی طرح کے اقدامات اٹھائے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جو بھی اقدامات اٹھائے گا وہ برابری کی بنیاد پر ہوں گے۔ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ پاکستان کے ہاتھ باندھ دیں اور بھارت کو کھلا چھوڑ دیں۔پاک فوج کے ترجمان نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ (جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلائو سے متعلق) جو بھی ہوتا ہے وہ دونوں ممالک کے لیے برابری کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔پاک فوج کے ترجمان نے آزاد کشمیر میں بھارتی ایئر فورس کے طیارے کو گرانے اور مقبوضہ کشمیر میں کارروائی کے دوران امریکی ساختہ ایف-16 طیارہ استعمال کرنے کے بھارتی دعوئوں کو بھی مسترد کیا۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی طیاروں کو گرانے کے لیے پاکستان اور چین کے اشتراک سے بنائے جانے والے جے ایف-17 تھنڈر طیارہ استعمال کیا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے امریکا کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں، اور اسلام آباد واشنگٹن کے ساتھ جے ایف 17 تھنڈر کے استعمال کے حوالے سے بات چیت کر رہا ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ اسلام آباد واشنگٹن کو باور کروارہا ہے کہ پاکستان کے دفاع کے لیے جو بھی ضروری ہوا وہ استعمال کیا جائے گا۔آزاد کشمیر میں بھارتی طیاروں کی دراندازی پر بات کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ رواں برس 26 فروری کو بھارتی طیاروں نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی لیکن پاک فضائیہ کی بروقت کارروائی سے بھارتی طیارے خالی جگہ پر پے لوڈ گرا کر فرار ہوئے جس سے کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد پاکستان نے جواب دینے کا فیصلہ کیا، تاہم ساتھ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اس کارروائی میں کوئی جانی نقصان نہ ہو۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگلے روز پاکستان ایئر فورس نے اپنی فضائی حدود میں رہتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں 4 ٹارگٹ کو نشانہ بنایا۔انہوں نے اپنی بات کی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایئر فورس نے 4 ٹارگٹ لاک کیے، جہاں پاکستانی طیارے بھارتی فوج کی تنصیبات کو باآسانی نشانہ بناسکتے تھے، لیکن پی اے ایف نے حفاظتی فاصلہ رکھتے ہوئے اپنے ٹارگٹ کو ایسی جگہ منتقل کیا جہاں لوگ موجود نہیں تھے تاکہ انسانی جان کا ضیاع نہ ہوسکے۔پاک فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان نے اپنی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے خالی جگہ پر فائر کیے کیونکہ یہاں ہمارا مقصد بھارت کو اپنی صلاحیت کے بارے میں یہ بتانا تھا کہ ہم ان کی فوجی تنصیبات کو باآسانی نشانہ بنا سکتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان کے پاس اس آپریشن کی فوٹیجز بھی موجود ہیں۔روس سے دفاعی شعبے میں تعلقات بڑھانے سے متعلق میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان روس کے ساتھ دفاعی صنعتی تعاون پر بات چیت کر رہا ہے جو مثبت ثابت ہوگی۔میجر جنرل آصف غفور نے ہتھیاروں سے متعلق یہ واضح نہیں کیا کہ اسلام آباد اور ماسکو کے درمیان بات چیت کے ایجنڈے پر کون سے ہتھیار شامل ہیں، تاہم انہوں نے یہ واضح کیا کہ پاکستان مختلف پیشکش پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ بھی دائرے سے باہر نہیں، جو بھی دفاعی ساز و سامان خریدنے کے لیے ممکن ہوا وہ پاکستان خرید لے گا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاک بھارت کشیدگی کو کم کروانے کے لیے پاکستان کسی بھی تیسرے ملک کی کوششوں کا خیرمقدم کرے گا جو خطے میں امن لاسکے۔میجر جنرل آصف غفور نے خطے میں امن کی کوششوں بالخصوص افغان امن عمل میں روس کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد خطے بالخصوص افغان مفاہمتی عمل میں ماسکو کے کردار کا معترف ہے، جو دنیا میں ہمیشہ طاقت کے توازن کی جانب دیکھتا ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ 'ہم ہمیشہ روس کی قدر کرتے ہیں اور اگر روس بطور ایک طاقتور ملک اپنا کردار ادا کرے جو جنوبی ایشیا اور اس سے باہر امن لائے تو ہم اسے خوش آمدید کہیں گے اور پاکستان کو روس سے ان اقدامات کی امید ہے۔

موضوعات:

loading...