وزیرا عظم نے قوم کی بیٹی کی رہائی کا کام مکمل کرلیا! عافیہ صدیقی پاکستان کب واپس آرہی ہیں؟شاندار اعلان کردیا گیا

  جمعرات‬‮ 14 مارچ‬‮ 2019  |  11:55
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)آج سے دو تین ماہ قبل جب قیدیوں کے تبادلے کی بات آئی تو طالبان نے عافیہ صدیقی کی رہائی کا نام دیا تھا۔ معروف صحافی اور تجزیہ نگار اوریا مقبول جان کا دعویٰ، نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اوریا مقبول جان کا کہنا تھا کہ طالبان کہتے ہیں کہ ہمیں پاکستان کی طرف سے عافیہ صدیقی کا نام دیا گیا۔اوریہ مقبول جان نے کہا کہ عمران خان وہ پہلے سیاستدان تھے جنہوں نے عافیہ صدیقی کی رہائی کی آواز اٹھائی اور اس کے لیے ان کی تعریف کرنا بنتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ 2013ء کی بات ہے تب عافیہ صدیقی امریکی جیل میں قید نہیں تھی،تب عمران خان نے کہا تھا کہ مجھے ایک قیدی عورت کا علم ہوا ہے جو بگرام جیل میں ہے اور اس عورت کی چیخیں سنائی دیتی ہیں۔اوریا مقبول جان نے کہا کہ عافیہ صدیقی 16 مارچ کو پاکستان آ جائیں گی۔جبکہ اسی متعلق ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن کا کہنا ہے کہ عافیہ کی رہائی کے لیے 16 مارچ کی تاریخ کہی جا رہی ہے پر میرے خیال سے ان کو جنوری میں ہی آجانا چاہئے تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان اس کام میں مخلص ہیں تاہم وہ جذبات سے کوئی کام نہیں لینا چاہتے۔دریں اثنا دفاعی امور کے ماہرصحافی اورسینئرامریکی ایڈیٹر گورڈن ڈف نے دعویٰ کیا ہے کہ سی آئی اے نے پاکستانی خاتون سائنس دان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے اغواکاروں کو $ 55000 ادا کئے تھے۔معروف امریکی دفاعی میگزین ’’ویٹرنز ٹوڈے‘‘ میں شائع ہونے والے ایک آرٹیکل’’ عمران خان اور عافیہ صدیقی اور امریکہ کی خوفناک غلطی‘‘ میں تبصرہ کرتے ہوئے چیف ایڈیٹر گورڈن ڈف نے بتایا ہے کہ انہوں نے ایڈمرل سروہی کے ساتھ کیسے کام کیا تھا ۔جنرل کولین پاول کو جے سی او ایس کی جانب سے ایک خط فراہم کیا اور 2010 میں انہوں نے عمران خان کے ساتھ مل کر کام کیا تھا۔وہ اپنے آرٹیکل میں لکھتے ہیں: "ایک موقع پر خان نے صدیقی کے والدین کے گھر سے مجھے فون کیا، اس گفتگو کے کچھ حصے کو میں نے ریکارڈ کرکے یوٹیوب پر ڈال (upload) دیاجسے بعد ازاں ہٹا دیا گیا تھا۔انہوں نے مزید حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "امریکی حکومت نے جنگ کیلئے جواز فیبریکٹ (fabricated) کئے اور 2 ملین افراد کو قتل کیا " حقیقت کبھی نہیں بتائی جاتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ "بش انتظامیہ اور اس کے اسرائیلی آقا عراق پر حملے کیلئے ثبوت تیار کرنے کی کوشش کی جو کہ دو دہائی کے بعد بھی انہیں، نہیں مل سکے۔ایسا کرنے کے لئے انہوں نے ایم آئی ٹی سے پی ایچ ڈی کرنے والی ایک نوجوان خاتون پر الزام عائد کرکے جس کا نام ڈاکٹر عافیہ صدیقی تھا، کو ایک سڑک سے اس کے تین بچوں سمیت سی آئی اے کی درخواست پر اغواء کیا گیا ۔اغواء کاروں کو 55ہزار ڈالر اداکئے گئے تھے ۔انہیں بتایا گیا تھاکہ جس کو میں ثابت کرسکتا ہوں، اگر وہ اسے تلاش نہیں کریں گے تو کوئی اور یہ کام کرلے گا۔انہیں ایک مہرے کی ضرورت تھی۔ عافیہ موومنٹ سیکرٹریٹ سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گورڈن ڈف کے دعوے سے لوگوں میں تشویش اور غصہ پایا جاتا ہے ۔کیا یہ ایک پاکستانی شہری کی قیمت ہے؟ ایک بیٹی کے بدلے 55 ہزار ڈالر کی معمولی رقم جس نے پاکستان میں تعلیمی اور معاشی سہولیات کو فروغ دینا تھا جس کی ملک کو سخت ضرورت تھی۔اسے بدعنوان لوگوں نے آمرانہ نظام میں فروخت کیا گیا۔یہ ہمارے قومی وقار پر سیاہ دھبہ ہے۔ عافیہ موومنٹ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہم اپنے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے دعویٰ کو دنیا پر ظاہر کریں کہ ’’قومی وقار برائے فروخت نہیں ہے‘‘اپنے ان الفاظ کوسچ ثابت کریں۔ہم امید کرتے ہیں کہ وزیراعظم امریکی مطالبات کے موقع پر عافیہ سے متعلق وعدوں کو فراموش نہیں کریں گے جس کا انہوں نے پوری قوم سے وعدہ کیا ہوا ہے۔

موضوعات:

loading...