سانحہ ساہیوال ، سی ٹی ڈی افسران خلیل اور اس کے خاندان کے قتل کے ذمہ دار قرار،مقتول خلیل اور اس کے خاندان کا دہشتگردی سے کوئی تعلق ثابت نہ ہوسکا

  منگل‬‮ 22 جنوری‬‮ 2019  |  23:08

لاہور (آن لائن) ساہیوال واقعے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ( جے آئی ٹی) نے واقعے کی ابتدائی رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کردی۔جے آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ میں سی ٹی ڈی افسران کو خلیل کے خاندان کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے جبکہ مقتول خلیل اور اس کے خاندان کا دہشتگردی سے کوئی تعلق ثابت نہ ہوسکا۔وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے بتایا کہ خلیل کے خاندان کے قتل کا ذمہ دار سی ٹی ڈی افسران کو ٹھہرایا گیا ہے، ایڈیشنل آئی جی آپریشنز پنجاب،ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، ڈی آئی جی سی ٹی

ڈی، ایس ایس پی سی ٹی ڈی اور ڈی ایس پی سی ٹی ڈی ساہیوال کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایڈیشنل آئی جی آپریشنز پنجاب، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی پنجاب، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی، ایس ایس پی سی ٹی ڈی اور ڈی ایس پی سی ٹی ڈی ساہیوال کو فوری طور پر معطل کردیا گیا ہے اور انہیں وفاق کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔راجہ بشارت نے کہا کہ قتل میں ملوث 5 سی ٹی ڈی اہلکاروں کا چالان کرکے انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیرصدارت ایوانِ وزیراعلیٰ میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں سینئر وزیر علیم خان، وزیر قانون راجہ بشارت، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، آئی جی پولیس، متعلقہ ایجنسیز کے اعلیٰ افسران سمیت جے آئی ٹی کے ارکان بھی شریک ہوئے۔مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے واقعے سے متعلق ابتدائی رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کی جس پر غور و خوض کیا گیا۔اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے کہا کہ حکومت پنجاب کیلئے یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے اور حکومت اس کیس کو مثال بناکر متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرے گی۔ایک سوال کے جواب میں راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی کا آپریشن 100 فیصد صحیح تھا لیکن بدقسمتی سے آپریشن میں ایک فیملی ماری گئی جس کی وجہ سے اہلکاروں کیخلاف کارروائی کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سانحہ ساہیوال کی ابتدائی رپورٹ موصول ہوئی ہے اورجے آئی ٹی کے سربراہ نے اجلاس میں بریفنگ دی ہے، ابتدائی رپورٹ کے مطابق خلیل کے خاندان کے قتل کا ذمہ دار سی ٹی ڈی کے افسران کو ٹھہرایا گیا ہے۔راجہ بشارت نے کہا کہ واقعے میں ایک اور شخص ذیشان ہلاک ہوا تھا جس کے حوالے سے معلومات اکٹھی کرنے کیلئے جے آئی ٹی سربراہ نے مزید وقت مانگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ دن قبل ہم نے کہا تھا ان کیمرہ بریفنگ دیں گے، کل میڈیا کیلئے ان کیمرہ بریفنگ کررہے ہیں۔وزیر قانون پنجاب نے کہا کہ ہم نے اپنے قول کو پورا کیا ہے،ماضی میں کبھی 72 گھنٹوں کے اندر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، ہماری کمٹمنٹ عوام کے ساتھ ہے، پنجاب حکومت کا ایک دائرہ کار ہے اسی میں رہ کر ہم نے کام کرنا ہے۔قبل ازیں وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے سانحہ ساہیوال پر جوڈیشل کمیشن بننے کا امکان ظاہر کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعلیٰ رپورٹ سے مطمئن نہ ہوئے تو جوڈیشل کمیشن ان کی صوابدید ہوگی۔ قبل ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار نے سانحہ ساہیوال پر ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی رائے طاہر کو فوری طورعہدے سے ہٹانے کا حکم دے دیا جب کہ جے آئی ٹی نے مقتول خلیل اور ان کی فیملی کو بے گناہ قرار دے دیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیر صدارت سانحہ ساہیوال سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس ہوا جس میں جے ا?ئی ٹی اور سی ٹی ڈی کے سربراہ سمیت ا?ئی جی پنجاب، وزیر قانون راجا بشارت، وزیر بلدیات علیم خان و دیگر شریک ہوئے۔اجلاس میں سانحہ ساہیوال کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اعجاز شاہ نے واقعے سے متعلق ابتدائی رپورٹ پیش کی،رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد وزیراعلیٰ نے واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا۔وزیراعلیٰ پنجاب نے دوحا میں موجود وزیراعظم عمران خان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے کہ اور فیصلوں سے آگاہ کیا، وزیراعظم نے وزیر اعلی کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے اعلی پولیس افسروں کے خلاف ایکشن کی منظوری دی۔اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے متعلق میڈیا سے بات کرتے ہوئے راجا بشارت کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے مطابق خلیل کے قتل میں سی ٹی ڈی کےافسران ملوث ہیں، جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں ایڈیشنل آپریشن پنجاب سی ٹی ڈی، ایس ایس پی سی ٹی ڈی کو ہٹا دیا گیا ہے جب کہ ایڈیشنل آئی جی ، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اور ڈی ایس پی ساہیوال کو معطل کردیا گیا ہے اور واقعیمیں ملوث سی ٹی ڈی کے5افسران کے کیس کو انسداددہشت گردی عدالت بھجوانیکاحکم دیا گیا ہے۔وزیرقانون پنجاب نے بتایا کہ سانحہ میں جاں بحق ہونے والے ذیشان جاوید کے حقائق جاننے کے لئے جے آئی ٹی نے مزید مہلت مانگی ہے، راجا بشارت کا کہنا تھا کہہم نے جو مؤقف پیش کیا تھا کہ اس پر سختی سے عملدرآمد کررہے ہیں، پنجاب حکومت مظلوم کوانصاف مہیا کرکے سانحہ ساہیوال کیس کو ٹیسٹ کیس بناکر انصاف کامعیارقائم کرے گی۔دوسری جانب ایوان وزیراعلیٰ نے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ سید اعجاز شاہ سے رابطہ کیا ہے اور ان کی میڈیا سے بات چیت پر سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں بیان بازی سے روک دیا ہے۔ جے آئی ٹی کے سربراہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حساس نوعیت کے معاملے پر بیان بازی سے گریز کریں۔واضح رہے کہ ایڈیشنل آئی جی اعجاز شاہ کی سربراہی میں جے آئی ٹی ٹیم نے ساہیوال میں جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور 4 عینی شاہدین کے بیان قلم بند کئے۔اس موقع پر میڈیا سے با ت کرتے ہوئے اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ آج جو رپورٹ پیش کریں گے اسے ہم حتمی نہیں کہیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں