نیب والے مجھ سے پی ٹی آئی کے کس وزیر سے متعلق پوچھتے رہے اب پی ٹی آئی کے کون کونسے لوگ اندر جانیوالے ہیں؟سعد رفیق کا باہر آتے ہی دھماکہ خیز انکشاف ، حکومتی ایوانوں میں ہلچل مچ گئی

  جمعہ‬‮ 21 دسمبر‬‮ 2018  |  13:53

اسلام آباد(مانیٹرنگ  ڈیسک) اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی جانب سے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے پر سعد رفیق کو لاہور سے اسلام آباد لایا گیا جہاں قومی اسمبلی پہنچنے والے پر سعد رفیق کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔قائد حزب اختلاف شہبازشریف، مریم اورنگزیب اور دیگر رہنماؤں نے اسمبلی کے گیٹ پر خواجہ سعد رفیق کو خوش آمدید کہا۔خواجہ سعد رفیق کی پارلیمنٹ لاجز میں رہائش گاہکو ہی سب جیل قرار دیا گیا ہے۔خواجہ سعد رفیق نے اسمبلی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ دورانِ تفتیش ان سے پی ٹی آئی رہنما علیم خان کے بارے میں پوچھا


گیا جس پر میں نے کہا کہ وہ ایک معقول آدمی ہیں، مجھ سے پوچھا گیا کہ ان کے بارے میں بتائیں تو میں نے کہا کہ میں کوئی انفارمر نہیں ہوں، آئندہ مجھ سے سیاسی مخالف کے بارے میں پوچھنے کی جرات نہ کریں۔سعد رفیق کا کہنا تھا کہ میرے اور میرے بھائی کی گرفتاری پر گزارا کرلیں کیونکہ مجھے شک ہے کہ اب بیلنس کرنے کے لیے پی ٹی آئی کے لوگوں کو پکڑا جائیگا اور میں یہ بات سنجیدگی سے کررہا ہوں، گرفتاریوں کے اسکور بورڈ میں پی پی اور (ن) لیگ کے مزید رہنماؤں کی گرفتاریوں کے اضافے کا انتظار نہ کریں کیونکہ یہ مہنگا پڑتا ہے۔لیگی رہنما نے کہا کہ ملک میں جاہلانہ انتقام کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، کبھی ہم غدار تو کبھی شرپسند کہلاتے ہیں، ہم غدار اور شرپسند نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ آزاد نہیں ہے، اگر آزاد ہوتی تو پہلے دن ہی پروڈکشن آرڈر جاری ہوتے۔سابق وزیر کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ اور پی پی حکومت گرانے کی کوشش نہیں کررہی، اگر حکومت کے ذہن میں یہ خدشہ ہے تو اسے دور کریں، ہم جیلوں کا یہ عذاب بھگت رہے ہیں اور میں پہلی بار جیل نہیں گیا، ہم نے تو یہ عذاب بھگت لیا اوروں کو اس سے روکا جائے، انا اور انتقام ملک کے راستے میں سب سےبڑی رکاوٹ ہے اور یہ جہاں بھی ہے ان سب کو سوچنا چاہیے کہ کیا ہم پاکستان کی خدمت کررہے ہیں؟ یہ سانپ سیڑھی کا کھیل کب بند ہوگا؟ ملک میں بارہ مرتبہ انتخابی عمل ہوچکا اب یہ کھیل بند ہونا چاہیے۔خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ہمارے لوگوں کو چھ چھ سو ووٹوں سے ہرایا گیا، یہ چھ سو کا ہندسہ کسے پسند ہے یہ نہیں معلوم۔انہوں نے کہا کہ ابھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا، ہمارا مقابلہ آپسمیں نہیں بلکہ غربت، جہالت، انتہا پسندی اور معاشی بحران سے ہے، ملک بحرانو ں میں گھرا ہوا ہے،ہمیں ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہیے کہ اس صورتحال سے پاکستان کو نکال سکتے ہیں، کیا لوگ ہمیں اس لیے ووٹ دیتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے پر الزام لگائیں اور گھسیٹیں، پاکستان میں سیاسی درجہ حرارت بڑھنے جارہاہے، اگر زرداری کو گرفتار کیا گیا تو اس سے ہیجانی کیفیت پیدا ہوگی اس سے گریز کریں،سنا ہے کہ بلاول کو جس کیس میں بلایا گیا اس وقت ان کی عمر ایک سال کی تھی اس سے زیادہ تماشہ کیا ہوسکتا ہے اسے بند کرایا جائے۔لیگی رہنما نے کہا کہ میرا پیغام محض حکومتی جماعت کے لیے نہیں، میری یہ اپیل عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے لیے بھی ہے کہ ٹھنڈے دل کے ساتھ سوچیں ہم پاکستان کو کس طرف لے جارہے ہیں اس سے پاکستان کا ناقابلِ تلافی نقصان ہوسکتاہے، ہر جگہ دانشمند لوگ موجود ہیں جو ملک کو بحران سے نجات دلانے کے لیے کردار ادا کرسکتے ہیں، ہمیں مکالمہ کرنا چاہیے اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاستی اداروں اور اپوزیشن کو آن بورڈ لے،حالات نے یہ ذمہ داری حکومت پر ڈال دی ہے یہ اس سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔

موضوعات:

loading...