جج صاحب!اللہ تو دیکھ رہا ہے ، اگر مجھے ان کیسز میں سزا ہو گئی تو۔۔ نواز شریف نے احتساب عدالت میں جج ارشد ملک کو براہ راست مخاطب کر کے اپنی بے گناہی میں کیا آخری دلیل پیش کر دی؟

  بدھ‬‮ 19 دسمبر‬‮ 2018  |  13:57
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)فلیگ شپ ریفرنس اور العزیزیہ ریفرنس کی سماعت مکمل ، فریقین کے وکلا کے حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد احتساب عدالت نے دونوں ریفرنسز کے فیصلے محفوظ کر لئے۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم اور ن لیگ کے قائد نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس اور العزیزیہ ریفرنس کی سماعت مکمل ہو گئ ہےاور فریقین کے وکلا کے حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے دونوں ریفرنسز کے فیصلے محفوظ کر لئے ہیں۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے احتساب عدالت کو 24دسمبر تک ریفرنسز کی سماعت مکمل کرنے کی مہلت دے رکھی تھی۔ احتساب عدالت اب 24دسمبر بروز پیر کے روز فلیگ شپ ریفرنس اور العزیزیہ ریفرنس کے محفوظ کئے گئے فیصلے سنائے گی ۔ احتساب عدالت میں سماعت مکمل ہونے پر نواز شریف عدالت میں روسٹرم پر آگئے اور انہوں نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جج صاحب! میرے خلاف تمام کیسز مفروضوں اور بدنیتی کی بنیاد پر بنائے گئے ، اگر ان کی بنیاد پر مجھے سزا ہو گئی تو پھر اللہ تو دیکھ رہا ہے، مجھے امید ہے کہ آپ انصاف کے تقاضے پورے کرینگے۔ واضح رہے کہ نواز شریف کی جانب سے آج احتساب عدالت میں اضافی دستاویزات بھی پیش کی گئی ہیں جو کہ نواز شریف کے خلاف کیسز میں نواز شریف کی جانب سے پیش کی گئی پہلی دستاویز قرار دی جا رہی ہے۔ یہ دستاویز ان کے وکیل خواجہ حارث نے اس سے قبل جب عدالت کے روبرو پیش کی تو ساتھ ہی مؤقف اپنایا کہ کیونکہ یہ برطانوی حکومت کی جانب سے تصدیق شدہ نہیں اور میرے مؤکل کے صاحبزادوں نے اپنے والد کے دفاع کیلئے بھیجی ہیں لہٰذا انہیں ایک دو روز میں تصدیق کے بعد عدالت میں جمع کروادیا جائے گا۔

موضوعات:

loading...