نواز شریف کیخلاف ایک اور جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے کس سخت ترین افسر کو سربراہ مقرر کر دیا، بڑی خبر آگئی

  منگل‬‮ 18 دسمبر‬‮ 2018  |  14:38

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ نے پاکپتن اراضی کیس کی جے آئی ٹی کو ایک ہفتے میں ٹی او آر منظوری کے لئے پیش کرنے کا حکم د یتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کے وکیل بیرسٹر ظفر اللہ نے تحقیقات پر آمادگی کا اظہار کیا، نواز شریف کے تحریری موقف کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات جے آئی ٹی سے کرائی جائے گی، سینیئر پولیس افسرخالق داد لک جے آئی ٹی کےسربراہ ہوں گے ۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے پاکپتن اراضی کیس میں جے آئی ٹی تشکیل کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے۔ حکم نامے میں


کہا گیا ہے کہ نواز شریف کے وکیل بیرسٹر ظفر اللہ نے تحقیقات پر آمادگی کا اظہار کیا اور جے آئی ٹی سمیت کسی بھی ادارے سے تحقیقات کا کہا، نواز شریف کے تحریری موقف کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات جے آئی ٹی سے کرائی جائے گی۔ سینیئر پولیس افسرخالق داد لک جے آئی ٹی کے سربراہ ہوں گے، آئی ایس آئی اور آئی بی کے افسران بھی جے آئی ٹی کا حصہ ہوں گے۔سپریم کورٹ کے حکم میں کہا گیا کہ جے آئی ٹی ایک ہفتے میں ٹی او آر منظوری کے لئے پیش کرے، 27 دسمبر کو سماعت میں ٹی او آرز اور جے آئی ٹی کی منظوری دی جائے گی۔ یاد رہے سپریم کورٹ نے پاکپتن میں دربار کے گرد اوقاف کی زمین کی اراضی کی الاٹمنٹ اور دکانوں کی تعمیر سے متعلق ازخود نوٹس کیس لے رکھا ہے۔ 4 دسمبر کو نواز شریف خود عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ 13 دسمبر کو نواز شریف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل جے آئی ٹی کے لیے آمادہ ہیں، عدالت جس کو مناسب سمجھے تحقیقات سونپ دے۔واضح رہے کہ گزشتہ سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ وزیراعظم پاکستان تھے،آپ کے بہت سے فیصلے ہمارے سامنے آئے۔ عطاء الحق قاسمی کی بطور ایم ڈی پی ٹی وی تعیناتی کے آرڈر میں آپ کے دستخط نہیں تھے۔ساتھ ہی جسٹس ثاقب نثار نے پاکپتن دربار کی اراضی پر دکانوں کی تعمیر کے معاملے پر نواز شریف کے تحریری جواب پر ان کا موقف طلب کیا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے جواب دیا کہ یہ 32 سال پرانا واقعہ ہے اور میرے علم میں ایسا کچھ نہیں ہے۔جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میں آپ کو کیس کا پس منظر بتاتا ہوں، محکمہ اوقاف کی زمین کے دعوے داروں نے کیس کیا اور ہائیکورٹ نے بھی قرار دیا کہ زمین محکمہ اوقاف کی ہے۔چیف جسٹس نے نواز شریف کو مخاطب کرکے ریمارکس دیئے کہ مقامی عدالت نے فیصلہ کر دیا تو آپ کے پاس بطور وزیراعلیٰ ڈی نوٹیفیکیشن کا اختیار نہیں تھا۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ آپ کو نوٹیفیکشن نہیںسمری منظور کرنی تھی، تاثر یہی ملے گا کہ آپ کی منظوری سے نوٹیفیکیشن جاری ہوا۔ساتھ ہی چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کے پاس سمری آئی ہوگی، پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ پنجاب جاوید بخاری نے لکھا کہ وزیراعلیٰ کو دکھا کر دستخط کیے گئے۔جس پر نواز شریف نے جواب دیا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی آرڈر نہیں جو میں نے جاری کیا ہو۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئےکہ کیا محکمہ اوقاف کےساتھ فراڈ ہوا ہے؟نواز شریف نے جواب دیا کہ نوٹیفیکشن کا نمبر غلط ہونے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جاوید بخاری حیات ہیں؟جس پر نواز شریف نے جواب دیا کہ جی جاوید بخاری حیات ہیں۔نواز شریف نے موقف اختیار کیا کہ میرا خیال ہے کہ نچلے لیول پر کوئی گڑبڑ ہوئی ہے، شاید سیکریٹری اوقاف نے اختیارات کے تحت 1971کےنوٹیفیکیشن کو ڈی نوٹیفائی کیا۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سیکریٹری اوقاف کی ایسی کوئی پاورز نہیں ہیں۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ایک ایسی چیز آگئی ہے، جس کی تحقیق کی ضرورت ہے،کوئی ایسا طریقہ بتادیں جس پر آپ بھی متفق ہوں۔ساتھ ہی چیف جسٹس نے عندیہ دیا کہ ایف آئی اے سے تحقیقات کروا لیتے ہیں یا جےآئی ٹی بنا دیتے ہیں، جو اس معاملے کے حقائقمعلوم کرلےگی۔تاہم سابق وزیراعظم نے جواب دیا کہ مجھے تحقیقات پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن میرا جےآئی ٹی کا تجربہ اچھا نہیں۔سابق وزیراعظم کی اس بات پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔ساتھ ہی نواز شریف نے تجویز دی کہ کسی اور سے انکوائری کرالیں۔تاہم چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ خود منصف بن جائیں، انصاف کرنا صرف عدالتوں کا کام نہیں، آپ جیسے لیڈر بھی انصاف کرسکتے ہیں،آپ اپنے طور پر تحقیقات کرالیں۔ساتھ ہی چیف جسٹس نے نواز شریف کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ تحقیق خود کرائیں، لیکن بیرسٹر ظفر اللہ سے نہ کرائیں، یہ سیاسی آدمی ہوگئے ہیں۔چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ 2 بار کا وزیراعلیٰ اور 3 بار کا وزیراعظم کلیئر ہو۔سابق وزیراعظم نواز شریف نے جواب دیا کہ آپ جو کہہ رہے ہیں میں اس سے اتفاق کرتاہوں۔سماعت کے آخر میں چیف جسٹس نے نواز شریف سے استفسار کیا کہ تحقیقات کا طریقہ کار کیا ہو، تحریری طور پر عدالت کو بتا دیں۔اس کے ساتھ ہی پاکپتن اراضی کیس کی سماعت ایک ہفتے تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

موضوعات:

loading...