پاکستانی جرنیل وزیراعظم عمران خان کے ذریعے امریکہ کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ برطانوی جریدے نے انتہائی سنگین الزامات عائد کر دیے

  اتوار‬‮ 9 دسمبر‬‮ 2018  |  21:16

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) پاکستانی جرنیل وزیراعظم عمران خان کے ذریعے امریکہ کے ساتھ کیا کر رہے ہیں، اس بارے میں برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پاکستانی جرنیل وزیراعظم عمران خان کے ذریعے امریکہ کو بے وقوف بنا نے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ پاکستانی جرنیل ہی ہیں جو پاکستان کے معاملات چلاتے ہیں،پاکستانی جرنیل کبھی خود سامنے آ کر اور کبھی کسی کمزور سویلین حکمران کے ذریعے، جیسا کہ وزیراعظم عمران خان۔ جریدے میں کہا گیا کہ سانحہ نائن الیون کی وجہ سے پاکستان کے جرنیلوں نے طالبان کی کھلم کھلا حمایت ترک کر

دی اور افغانستان تک امریکہ کو رسائی کے لیے زمین راستے دے دیے اور وہ اب تک امریکی امداد کی مد میں اربوں ڈالر لے چکے ہیں، جریدے میں یہ بھی کہا گیا کہ انہوں نے امداد کے بدلے میں طالبان اور شدت پسندوں کے خاتمے کے لیے امریکہ کی انتہائی محدود مدد کی، امریکہ کی معاونت کے لیے لڑی جانے والی اس لڑائی میں اب تک 30 ہزار سے زائد پاکستانی جاں بحق ہو چکے ہیں، پاکستان کے جرنیلوں کے ان تحفظات کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ سب سے زیادہ صلہ پانے والے نان نیٹو اتحادی ملک پاکستان نے امریکہ کی تاریخ کی ایک طویل ترین جنگ میں اسے مسلسل زچ کرنے کی کوشش کی ہے۔ برطانوی جریدے میں پاکستان پر یہ بھی الزام لگایا گیا کہ کراچی اور کوئٹہ میں موجود طالبان رہنماؤں کے خلاف پاکستان اقدامات نہیں کر رہا جو وہاں بیٹھ کر افغانستان میں شدت پسندی کروا رہے ہیں، پاکستان سے امریکہ مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ طالبان کو مذاکرات کے لیے مجبور کرے اور اس جنگ کے خاتمے میں مدد دے مگر افغانستان میں اس وقت جو تعطل کی صورتحال ہے وہ پاکستان کے لیے فائدہ مند ہے، جریدے میں کہا گیا کہاگر پاکستان امریکہ کی خواہش پر افغان جنگ کے خاتمے میں مدد دیتا ہے تو افغان حکومت مضبوط ہو گی جس کی پشت پر بھارت ہے، اس وجہ سے ایسا پاکستان کبھی نہیں چاہے گا، جریدے میں کہا گیا کہ پاکستان اس وقت مالی بحران کا شکار ہے اور اسے آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے لیے امریکہ کی مدد کی ضرورت ہو گی، اس مدد کے بدلے میں پاکستان سے امریکہ اپنے مطالبات منوا سکتا ہے، اگر امریکہ افغان جنگ ادھوری چھوڑ کر یہاں سے جاتا ہے تو حالات انتہائی کشیدہ ہو جائیں گے اور اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں