26ملکوں کیساتھ پاکستانیوں کی لوٹی گئی دولت کی معلومات کے معاہدے کی حقیقت کچھ اور ہی نکلی؟عمران خان کے دعوے کا بھانڈا پھوٹ گیا،سنسنی خیز انکشافات

  اتوار‬‮ 9 دسمبر‬‮ 2018  |  6:34

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ دنوں ٹی وی اینکر ز کو خصوصی انٹرویو دیا جس میں انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے 26 ممالک کے ساتھ پاکستانیوں کی جانب سے بیرون ملک چھپائے گئے پیسے کی معلومات دینے سے متعلق معاہدے کر لیے ہیں ، انہوں نے اس کا کریڈٹ لیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدے سابقہ حکومتوں کی جانب سے نہیں کیے گئے۔تاہم اب اس معاملے پر ایک انگریزی اخبار نے رپورٹ شائع کی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے کسی ایک ملک کے ساتھ بھی یہ

معاہدہ نہیں کیا ۔ رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کی حکومت نے کسی بھی غیر ملکی حکومت کے ساتھ اب تک کوئی معاہدہ نہیں کیا تاکہ پاکستانیوں کے بیرون ملک چھپے اربوں ڈالرز کی ریکوری کی جا سکے۔ اس کی بجائے بیرون ممالک سے ملنے والی معلومات مسلم لیگ ن کی حکومت کی جانب سے کیے گئے معاہدے کا نتیجہ ہے۔یہ واضح نہیں کہ کس نے وزیراعظم کو اس معاملے پر غلط معلومات فراہم کیں جس کی وجہ سے عمران خان کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ جس بات کیلئے انہوں نے اپنی حکومت کیلئے کریڈٹ لینے کی کوشش کی وہ اصل میں مسلم لیگ ن کی حکومت کا کریڈٹ ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ وزیراعظم کو فراہم کردہ غلط معلومات کی تصدیق ان کے ساتھیوں نے بھی نہیں کی جس کی وجہ سے مخالفین نے عمران خان کو رسوا کیا۔حکومت پاکستان کو پاکستانیوں کی بیرون ملک موجود دولت کی معلومات ملنا شروع ہو گئی ہیں اور یہ اس بین الاقوامی معاہدے کا نتیجہ ہے جس کا نام ”ٹیکس امور کیلئے کثیر الفریقی معاہدہ برائے باہمی انتظامی معاونت“ ہے۔ یہ معاہدہ اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم کا معاہدہ ہے۔ معاہدے کا مقصد ٹیکس سے بچنے کے بڑھتے واقعات کو روکنا تھا اور یہ معاہدہ رواں سال ستمبر سے نافذ العمل ہو چکا ہے۔معاہدے کے حوالے سے رکن ممالک کی تعداد 100 ہے جبکہ اس پر پاکستان کی طرف سے 14 ستمبر 2016ءکو اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے او ای سی ڈی کے فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں قائم ہیڈکوارٹرز میں دستخط کیے تھے۔اس معاہدے کے تحت پاکستان کو یہ اختیار حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ رکن ممالک سے پاکستانیوں کی جانب سے ان کے ملک میں کی جانے والی سرمایہ کاری اور جمع کی جانے والی دولت کے بارے میں معلومات حاصل کر سکے۔پاکستان کے معاملے میں، یہ معاہدہ ستمبر میں نافذ العمل ہوگیا یعنی پی ٹی آئی حکومت کے آنے کے چند ہفتوں بعد۔ ایف بی آر کے سینئر ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حکومت کو 26 یا اس سے زائد ملکوں سے موصول ہونے والی معلومات اس قانونی فریم ورک کا نتیجہ ہے جس پر 2016ءمیں دستخط کیے گئے تھے اور یہ چند ماہ قبل ہی نافذ ہو چکا ہے۔14 ستمبر کو او ای سی ڈی نے خود اعلان کیا تھا کہ پاکستان 104واں ملک بن گیا ہے جو ٹیکس سے بچنے اور ٹیکس چوری کے واقعات کے خلاف اس طاقتور کثیر الفریقی معاہدے کا حصہ بن چکا ہے ۔ایک اور معاملے میں دیکھیں تو پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان پاکستانیوں کے سوئس بینکوں میں اکاﺅنٹس کی معلومات کے تبادلے کے معاہدے کی توثیق مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں ہوئی اور اس پر دستخط ہوئے تھے۔ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک سوئس تعاون کا معاہدہ بھی گزشتہ حکومت میں ہوا تھا لیکن معاہدے کی توثیق اب سوئس حکام نے حال ہی میں کی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ رولز آف بزنس کے مطابق پاکستان اور بیرون ممالک کے درمیان ایسے کسی بھی معاہدے کو وفاقی کابینہ کی ضرورت ہوتی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے کے بعد گزشتہ چند ماہ کے دوران کابینہ کے کئی اجلاس منعقد کیے ہیں لیکن منظوری کیلئے ایسا کوئی معاہدہ کبھی پیش نہیں کیا گیا۔ ایک ذریعے کے مطابق، وزیراعظم عمران خان کو چاہئے کہ وہ اس شخص کیخلاف کارروائی کریں جس نے انہیں غلط معلومات فراہم کیں اور انہیں رسوا کیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں