آج کل مہنگائی میں اضافے سے لوگ پریشان ہیں ،ڈالر کہاں پرچلا گیا ، مہنگائی ہے کہ ۔۔۔! چیف جسٹس ثاقب نثار نے انتباہ کردیا،بڑا حکم جاری

  بدھ‬‮ 10 اکتوبر‬‮ 2018  |  18:29

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ نے تیل، گیس اور بجلی کے بلوں کے حوالے سے دائر کیس میں نیب کوپاکستان اسٹیٹ آئل کے مینیجنگ ڈائریکٹرکی تعیناتی کی تحقیقات کی ہدایت کردیں۔بدھ کو چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے تیل، گیس اور بجلی کے بلوں میں اضافی ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ڈالرکی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کل مہنگائی میں اضافے کی وجہ سے لوگ بہت پریشان ہیں،ڈالر کہاں پرچلا گیا ہے، مہنگائی ہے کہ پکڑ میں نہیں ہے۔وکیل

پی ایس او نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ قیمتوں کے تعین کیلئے پیپرا مددگارثابت ہوسکتا ہے، اگر پیپرا ایک مہینے کے بجائے 15 روزکا ٹینڈر دے تو قیمتوں میں تھوڑا فرق آسکتا ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حکومت کیساتھ مل کر یہ معاملہ طے کریں اگرایک پیسے کا بھی فرق ہو تو عوام کو ریلیف ملنا چاہئے۔چیف جسٹس کے سابق حکومت کی غیرقانونی تعیناتیوں اور تنخواہ سے متعلق استفسار پر وکیل پی ایس او نے بتایا کہ سابق حکومت نے صرف ایم ڈی پی ایس اوکی تعیناتی کی تھی جس کی ماہانہ تنخواہ 37 لاکھ روپے تھی۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا یہ ریاست کا اتنا لاڈلا تھا کہ اسے اتنی تنخواہ دی گئی؟۔اس موقع پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پی ایس او میں اقربا پروری پرتعیناتیاں سابق حکومت نے کیں اورقومی خزانے کونقصان پہنچایا گیا، انہوں نے کہا کہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمدات سے متعلق انکوائری نیب کررہا ہے۔وکیل پی ایس او نے بتایاکہ 2016 میں حکومت کو تعیناتی کیلئے تین نام بھیجے گئے تھے جس پرعمران الحق کومنتخب کیا گیا تھا جن کی تنخواہ اور مراعات مارکیٹ ریٹ پر طے کی گئیں جبکہ 2012 میں ریٹائرڈ ہونے والے ایم ڈی کو 12 لاکھ روپے دیئے جاتے تھے ۔بعدازاں چیف جسٹس نے معاملہ نیب کے سپرد کرتے ہوئے کہاکہ نیب کواس کیس کو دیکھنا چاہیے اور نیب اپنی رفتارتیز کرے 4 ہفتے کے اندرتحقیقات مکمل کرکے عدالت کو آگاہ کریں اس کے علاوہ عدالت نے ایل این جی سے متعلق اٹارنی جنرل کی ان چیمبربریفنگ کی درخواست بھی منظورکرلی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں