سچ کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے،کیس میں مدعی ہوں لیکن ملزم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، جسٹس شوکت عزیز صدیقی پھٹ پڑے،کیس کی سماعت کے دوران کیا کچھ کہہ گئے؟

  منگل‬‮ 24 جولائی‬‮ 2018  |  15:12

اسلام آباد (سی پی پی)اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا ہے کہ سچ کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے وہ کسی معاملے میں مدعی ہیں لیکن انہیں ملزم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ضلع کچہری کے ساتھ وکلا چیمبرز کی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف دائر خاتون شہری کی درخواست کی سماعت کی ۔ دوران سماعت درخواست گزار خاتون نے جذباتی انداز میں کہا کہ ایف ایٹ کچہری میں غیرقانونی کثیرالمنزلہ عمارات بنائی گئی ہیں۔قبضہ کرنے والوں کے خلاف ایکشن لیں۔درخواست گزار خاتون نے کہا کہ جج صاحب


آپ سچے اور کھرے انسان ہیں، جو کچھ آپ نے اس سسٹم کے حوالے سے کہا میں آپ کے ساتھ کھڑی ہوں، 30 جولائی کو آپ کے ساتھ سپریم کورٹ میں پیش ہوں گی۔ خاتون کی بات پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ آپ کو پتا ہے سچ کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے ؟ دیکھ لیں میں کسی معاملے میں مدعی ہوں لیکن ملزم بناکر پیش کیاجارہا ہے۔

موضوعات:

loading...