جی حضوری قبول نہیں، جیل جانا پڑے یا پھانسی پر چڑھایا جائے ، یہ کام ہر صورت کروں گا،نوازشریف نے دھماکہ خیز اعلان کردیا

  بدھ‬‮ 11 جولائی‬‮ 2018  |  22:22

لندن (نیوز ڈیسک) سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن)کے قائد محمد نوازشریف نے کہاہے کہ اب جیل جانا پڑے یا پھانسی پر چڑھایا جائے ٗ ان کے قدم نہیں رکیں گے ٗہر سزا کیلئے تیار ہوں ٗ اپنی بہادر اور دلیر قوم کا سر نہیں جھکنے دونگا ٗ انتقام کی آگ میں جلتے لوگوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ بیٹی کا کیا مقام ہے ٗمیری بیٹی کا کیا قصور ہے؟ مریم وزیر اعظم نہ پارلیمنٹ کی رکن تھیں ٗآٹھ سال قید کی سزا سنا دی گئی ٗآئین اور قانون کا مذاق کب تک اڑایا جائیگا ٗپاکستان کے ہر

ادارے کا احترام کرتا ہوں ٗ جی حضوری کرکے اقتدار میں رہنا ایک لمحے کیلئے قبول نہیں ٗ پاکستان اس وقت تک دنیا میں باوقار مقام حاصل نہیں کرسکتا ٗجب تک آئین کی حکمرانی کو تسلیم نہیں کیا جاتا، ادارے مضبوط ہوں گے تو پاکستان مضبوط ہوگا، کٹھ پتلیوں کا زمانہ گزر گیا، پاکستان پر رحم کرکے یہ کھیل بند کردیا جائے اور ملک کو عالمی تنہائی سے بچایا جائے ٗاہلیہ کو اللہ کے سپرد کر کے(آج) جمعرات کو وطن واپس جارہا ہوں ٗ لاہور ائیر پورٹ پر عوام سے خطاب کرونگا ۔ بدھ کو اپنی بیٹی مریم نواز کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہاکہ میری اہلیہ اب تک ہوش میں نہیں ہیں،انہیں اللہ کے سپرد کرکے جارہا ہوں،معلوم نہیں کب اور کس حال میں انہیں دیکھوں۔نوازشریف نے کہاکہ جیل کی کوٹھری اپنے سامنے دیکھ کر بھی پاکستان آرہا ہوں، کیا پاکستان کی تاریخ میں کوئی شخص 11 سال قید بامشقت کی سزا سننے کے بعد پاکستان واپس آیا ہے؟ مجھے جس قوم نے تین بار وزیر اعظم بنایا اس کا قرض اتارنے اور ووٹ کو عزت دو کا وعدہ پورا کرنے کیلئے واپس جارہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میری 3 پشتوں کو بے رحمانہ احتساب سے گزارا گیا لیکن اس کے باوجود میرے خلاف کوئی کرپشن ثابت نہیں ہوئی لیکن سزائیں دینے اور جیل میں ڈالنے کا فیصلہ کہیں اور ہوچکا تھا، تاہم اب جیل جانا پڑے یا پھانسی پر چڑھایا جائے اب میرے قدم نہیں رکیں گے،ہر سزا کیلئے تیار ہوں اور اپنی بہادر اور دلیر قوم کا سر نہیں جھکنے دوں گا۔انہوں نے کہاکہ انتقام کی آگ میں جلتے لوگوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ بیٹی کا کیا مقام ہے ٗمیری بیٹی کا کیا قصور ہے؟ مریم وزیر اعظم نہ پارلیمنٹ کی رکن تھیں ٗآئین اور قانون کا مذاق کب تک اڑایا جائیگا۔سابق وزیر اعظم نے کہاکہ میری بیٹی اور داماد کو ظالمانہ سزاسنائی گئی ۔نواز شریف نے کہا کہ سزا میری بیٹی کو نہیں پوری قوم کی بیٹوں کو سنائی گئی ،ان سزاؤں کے لئے تیار ہوں،مجھے اپنے حقیقی جرائم کا اندازہ ہے۔نواز شریف نے کہا کہ احتساب عدالت کا فیصلہ آپ نے سن لیا ہے، میں نے یہ مقدمہ اس لیے نہیں لڑا کہ انصاف کی توقع تھی، میں نے یہ مقدمہ اس لیے لڑا کہ عوام کو میرے جرائم کی حقیقت کا پتہ چل جائے۔انہوں نے کہا کہ میں اقتدار کی نہیں اقدار کی سیاست کا قائل ہوں ٗ پاکستان کے ہر ادارے کا احترام کرتا ہوں لیکن جی حضوری کرکے اقتدار میں رہنا ایک لمحے کے لیے قبول نہیں۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ پاک فوج کے شہداء اور غازیوں کیلئے دل میں بے پناہ محبت ہے، شہیدوں نے ہمارے کل کیلئے اپنا آج قربان کیااور اہم فرزندان قوم کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر سکتے ہیں۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اس وقت تک دنیا میں باوقار مقام حاصل نہیں کرسکتا جب تک آئین کی حکمرانی کو تسلیم نہیں کیا جاتا، ادارے مضبوط ہوں گے تو پاکستان مضبوط ہوگا، دنیا بھر کی دھمکیوں کے باوجود ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا، اپنے دفاع کو مضبوط کیا ٗکٹھ پتلیوں کا زمانہ گزر گیا، پاکستان پر رحم کرکے یہ کھیل بند کردیا جائے اور ملک کو عالمی تنہائی سے بچایا جائے۔نواز شریف نے کہا کہ ہم انگریزوں کی غلامی سے نکل کر اپنوں کی غلامی میں آگئے ہیں،ایسے ملک چلتے ہیں؟ پہلے ریاست کے اندر ریاست کی بات ہوتی تھی اب ریاست کے اوپر ریاست کی بات ہورہی ہے، اگر ہم نے ترقی کرنی ہے اور پاکستان کی عوام کو خوشحال بنانا ہے تو یہ سب کچھ بدلنا ہوگا اور جلدی بدلنا ہوگا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ کہنے کو پاکستان میں جمہوریت ہے لیکن جمہوریت کے تمام تقاضے کچل دیے گئے ہیں، سچ بولنا مشکل بنادیا گیاہے، کردار کشی کا شرم ناک کھیل جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ جیل کی طرف جاتے ہوئے سوچ رہا ہوں پورا ملک ایک جیل بن چکا ہے، وقت آگیا ہے ٗپاکستان کو جنگل اور جیل کے بجائے اکیسویں صدی کا ملک بنایا جائے۔نواز شریف نے کہا کہ انگریزوں کی غلامی سے نکل کر اپنوں کی غلامی میں آگئے ہیں، ایسے ملک چلتے ہیں؟ اگر ہم نے ترقی کرنی ہے اور پاکستان کی عوام کو خوشحال بنانا ہے تو یہ سب کچھ بدلنا ہوگا اور جلدی بدلنا ہوگا۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ صرف 13 جولائی کو نہیں بلکہ 25 جولائی کو بھی اسی جذبے کے ساتھ گھروں سے نکلیں انہوں نے کہاکہ شہباز شریف خود کارکنوں کی سربراہی کرتے ہوئے ایئرپورٹ آئیں گے۔قبل ازیں پشاور میں بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میں دکھ کی گھڑی میں اسفند یار ولی ٗ ہارون بلور اور ان کی فیملی کے ساتھ ہوں ٗ میر ی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ زخمیوں کو جلد صحت یاب کرے ٗانہوں نے کہاکہ جتنے بھی شہید ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے ۔ نوازشریف نے کہا کہ یہ بہت عرصہ بعد واقعہ ہوا ہے بہت دکھ بھرا واقعہ ہے ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جب تک حقائق سامنے نہ آئیں تو کچھ نہیں کہہ سکتا ۔مسلم لیگ (ن) کے قائد نے کہا کہ ہمیں سزائیں دینے کا فیصلہ کہیں اور ہوچکا تھا جسے 5 بار تبدیل کرکے سنایا گیا، ان لوگوں نے صرف میری بیٹی کو سزا نہیں سنائی بلکہ پوری قوم کی بیٹیوں کو توہین کی ہے، مجھے تو سزائیں قبول ہیں لیکن مریم نواز کا کیا قصور تھا ۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ بڑے صبر و تحمل سے کام لیا لیکن اب زیادہ دیرتک چپ رہنا قوم سے زیادتی ہوگی،اب پردے ڈالنے کا وقت گزرگیا، پردے اٹھانے کا وقت آگیا ہے اور ان لوگوں کے چہرے بے نقاب ہوں گے جو ڈوریں ہلارہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کون لوگ ہیں جو نوازشریف کو راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں، کون لوگ ہیں جنہوں نے نوازشریف کو جیل کی کوٹھڑی تک لانے کیلئے ڈرامہ رچایا جبکہ میرے نکل جانے سے چند دلوں کو ٹھنڈ تو پڑ گئی لیکن اس قوم و ملک کوکیا ملا؟۔نوازشریف نے کہا کہ کون ہے جو عوام کی رائے کو کچل کر اپنی رائے مسلط کرنا چاہتے ہیں، کسی کو سیاست سے باہراور کسی کو اقتدار کا تاج پہننانے کیلئے کوششیں کرتے ہیں، اگر آپ نے یہی کچھ کرنا ہے تو آئین کو پھاڑ کر پھینک دو اور بٹھادو جس لاڈلے کو بٹھانا ہے،قومی خزانے کا اربوں روپے کیوں ضائع کرتے ہو ۔مسلم لیگ (ن) کے قائد نے کہا کہ ملکی تاریخ میں کسی کو پھانسی چڑھا دی گئی، کسی کوجیل میں ڈالا اور کسی کو ملک بدرکردیا گیا اور اب تک کوئی وزیراعظم مدت پوری نہیں کرسکا، کیا سب نوازشریف تھے اور ان سب کا جرم کیا تھا، سب کا جرم ایک تھا کہ عوام نے انہیں محبت دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی کی ہوتی ہے لیکن اختیار کسی کا ہوتا ہے، پالیسیاں کوئی اور بناتا ہے، فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں، صفائیاں سیاستدانوں کو دینی پڑتی ہیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ حلف سے غداری کرکے اقتدار کے کھیل کا حصہ بننے والے اور سیاست میں دخل دینے والے ملک کے وقار کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں تاہم اب یہ کھیل نہیں چلے گا،یہ کھیل بند کردو، ملک و قوم کو سزا نہ دو۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے بیٹے سے خیالی تنخواہ نہ لینے پر تاحیات نااہل کردیا گیا، کیا اس طرح ہوتے ہیں فیصلے؟ کیا اس طرح قانون کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں ٗمفروضوں کی بنیاد پر کئی، کئی سال کی سزا سنا دی جاتی ہے۔ لاڈلوں، چہیتوں اور ہمیں کسی اور ترازو میں تولا جاتا ہے۔ آئین اور قانون کا مذاق کب تک اڑایا جائے گا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ جے آئی ٹی کے پیچھے بیٹھ کر ڈوریں ہلانے والوں کے چہرے بھی بے نقاب ہوں گے۔ الیکشن سے من پسند نتائج حاصل کرنے کیلئے ملکی تقدیر سے کھیلا جارہا ہے۔ نوازشریف نے کہاکہ کون ہے جو جیپ کے نشان پر لوٹوں کو اکٹھا کر رہے ہیں ٗ کون ہے جو بلوچستان میں راتوں رات حکومت بناتے ہیں ٗکون ہے جو چیئرمین سینیٹ کی کرسی پر صادق سنجرانی کو بٹھاتے ہیں ٗکون ہے جو چینل بند کر کے اپنے چینلز پر منتخب حکومت کو گالیاں دلواتے ہیں ٗکون ہے جو عوام کی رائے کو کچل کر اپنی رائے مسلط کرنا چاہتے ہیں ٗ کون ہے وہ جو منتخب وزیراعظم کو کہتے ہیں استعفیٰ دے کر گھر چلے جاؤ۔ کون ہے جو فسادیوں کی پشت پناہی کرتے ہیں ٗکیا وہ بھول گئے ہیں کہ پاکستان دو ٹکڑے کیوں ہوا؟ کیا آج وہ کام نہیں ہورہا جس کیوجہ سے پاکستان ٹوٹا تھا ٗکیا وہ نہیں جانتے قربانیاں دینے کے باوجود ہماری بات دنیا میں نہیں سنی جارہی۔ اب پاکستانی عوام ان سوالوں کا جواب لیکر رہے گی۔نواز شریف نے کہا کہ مجھے جیل میں ڈال دینے سے کیا ان سوالوں کو بھی جیلوں میں ڈال دو گے۔ نوازشریف نے کہاکہ جیل کی کال کوٹھری سامنے دیکھ کر بھی پاکستان جارہا ہوں،اس مشکل وقت میں اپنی قوم کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا۔نواز شریف نے کہا کہ (آج) جمعرات کو پاکستان جارہا ہوں، مریم میرے ساتھ ہوں گی، لاہور ایئرپورٹ پر عوام سے خطاب کروں گا

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں