نواز شریف پر اربوں ڈالر کی بھارت منی لانڈرنگ کے الزامات چیئرمین نیب کو مہنگے پڑ گئے، جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے خلاف بڑا قدم اٹھا لیا گیا

  جمعرات‬‮ 24 مئی‬‮‬‮ 2018  |  12:11

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اربوں ڈالر کی بھارت منی لانڈرنگ کے الزامات پر نواز شریف کے صبر کا پیمانہ لبریز ، قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو قانونی نوٹس بھیج دیا، چیئرمین نیب کے الزامات انتخابات سے قبل دھاندلی قرار۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم و قائد ن لیگ نواز شریف نے اربوں ڈالر کی بھارت منی لانڈرنگ کے الزامات پر قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو قانونی نوٹس بھیج دیاہے جس مین مطالبہ کیا گیا ہےکہ چیئرمین نیب توہین آمیز پریس ریلیز پر 14 روز میں معافی مانگیں اور ایک ارب

روپے کا ہرجانہ ادا کریں۔ نوٹس کے مطابق انگریزی اور اردو کے اخبارات میں باقاعدہ معافی نامہ شائع کرایا جائے۔قانونی نوٹس میں مزید کہا گیا کہ معافی نہ مانگنے اور ہرجانہ ادا نہ کرنے پر چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔نواز شریف کی جانب سے بھیجے گئے قانونی نوٹس میں چیئرمین نیب کے الزامات کو 'قبل از انتخابات دھاندلی قرار دیا گیاہے۔ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے 8 مئی کو سابق وزیراعظم نواز شریف اور دیگر کے خلاف مبینہ طور پر 4.9 ارب ڈالر بھارت بھیجنے کی میڈیا رپورٹ پر نوٹس لے کر جانچ پڑتال کا حکم دیا تھا۔نیب کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں ایک میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ 'یہ رقم مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کے ذریعے بھارت بھجوائی گئی تھی۔اعلامیے کے مطابق 'بھارتی حکومت کے سرکاری خزانے میں 4.9 ارب ڈالر کی خطیر رقم بھجوائی گئی، جس سے بھارتی حکومت کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے اور اس اقدام سے پاکستان کو نقصان ہوا۔مزید کہا گیا کہ 'میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ بات ورلڈ بینک مائیگریشن اینڈ ریمیٹنس بک 2016 میں موجود ہے۔تاہم نیب کے اس نوٹس کے بعد عالمی بینک نے ترسیلات، امیگریشن رپورٹ اور منی لانڈرنگ الزامات پر وضاحتجاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی بینک کی ترسیلات اور امیگریشن رپورٹ 2016 سے متعلق خبریں غلط ہیں۔عالمی ادارے نے کہا کہ ورلڈ بینک کی ترسیلات اور امیگریشن رپورٹ کا مقصد دنیا بھر میں امیگریشن اور ترسیلات کا تخمینہ لگانا ہے، رپورٹ میں منی لانڈرنگ یا کسی کے بھی نام کا ذکر نہیں ہے۔ادارے کے مطابق رپورٹ میں عالمی بینک نے دو ممالک کے درمیان میںترسیلات کا تخمینہ لگانے کے لیے ورکنگ پیپر کی میتھاڈولوجی کا استعمال کیا تھا۔ورلڈ بینک کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے بھی 4 اعشاریہ 9 ارب ڈالر کی ترسیلات کے حوالے سے وضاحت کی گئی ہے، یہ بھی واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے بھی 21 ستمبر 2016 کو 4 اعشاریہ 9 ارب ڈالر کی ترسیلات کی تردید کردی تھی۔

موضوعات: