لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز کی لاش برآمد کر لی گی، لاش کب اور کہاں سے ملی؟ حیرت انگیز انکشافات، کچھ ہی دن قبل پرویزمشرف نے سنگین الزامات عائد کیے تھے

  ہفتہ‬‮ 19 مئی‬‮‬‮ 2018  |  21:43

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز کی موت کی خبر سامنے آ گئی۔ میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہد عزیز کی لاش کو پاک افغان بارڈر سے برآمد کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ شاہد عزیز کافی عرصہ سے لاپتہ تھے، ان کے اہل خانہ نے بھی ان کی موت کی تصدیق کر دی ہے،لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز 37 برس پاک فوج کا حصہ رہے‘ یہ تین نسلوں سے فوجی ہیں‘ ان کے والد بھی فوج میں تھے‘ وہ بریگیڈیئر کے عہدے تک پہنچے‘جنرل شاہد عزیز نے 1971ء کی جنگ لڑی‘ یہ سیکنڈ لیفٹیننٹ سے تھری

اسٹار جنرل تک پاک فوج کے پورے کمانڈ سسٹم کا حصہ رہے‘ یہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز بھی رہے‘ چیف آف جنرل اسٹاف بھی‘ لاہور کے کور کمانڈر بھی اور ریٹائرمنٹ کے بعد دو سال کے لیے چیئرمین نیب بھی رہے۔یہ جنرل پرویز مشرف کے رشتے دار بھی ہیں‘ پاک فوج میں اس وقت ان کی تیسری نسل خدمات سرانجام دے رہی ہے‘ ان کے صاحبزادے بھی پاک فوج میں ہیں‘ جنرل شاہد عزیز نے ریٹائرمنٹ کے بعد ’’یہ خاموشی کہاں تک‘‘ کے نام سے اپنی آٹو بائیو گرافی لکھی‘ میں نے گزشتہ ہفتے یہ کتاب ختم کی‘ جنرل شاہد عزیز کی یہ کتاب خاصی متنازعہ تھی‘ کتاب کی اشاعت کے بعد جنرل مشرف‘ ان کے ساتھیوں اور فوج کے چند حاضر سروس اور ریٹائر عہدیداروں نے جنرل شاہد عزیز کو آڑے ہاتھوں بھی لیا‘ اس کتاب کو فوج کے خلاف سازش قرار دیا گیا اور جنرل شاہد عزیز کے کورٹ مارشل کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ پرویز مشرف کے قریبی جرنیلوں میں آپ کا نام بھی لیا جاتا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر)شاہد عزیز 37 برس تک پاک فوج کا حصہ رہے وہ 2005 میں پاک فوج سے ریٹائر ہوئے‘ جنرل شاہد عزیز نے 1971ء کی جنگ لڑی، یہ سیکنڈ لیفٹیننٹ سے تھری اسٹار جنرل تک پاک فوج کے پورے کمانڈ سسٹم کا حصہ رہے، یہ خاموشی کہاں تک، جس میں انہوں نے کارگل کی جنگ سمیت کئی بڑے دعوے کیے تھے جبکہ پرویز مشرف کے حوالے سے بھی کئی انکشافات کیے تھے۔جس پر حال ہی پرویز مشرف نے اپنے ایک انٹرویو میں ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو خاص معلوم تو نہیں لیکن شاہد عزیز شائد داڑھی اگا کر شام میں گئے ہوئے ہیں اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ وہاں مرچکے ہیں تاہم اب انکشاف ہواہے کہ جنرل شاہد عزیز کچھ عرصہ قبل افغانستان میں مارے گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق جنرل شاہد عزیز کے خاندانی ذرائع نے دعویٰ کیاہے کہ جنرل شاہد عزیز نے کہاتھا کہ انہوں نے جو امریکی فوج کا ساتھ دیا تھا اس کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں اور وہ اسی کو پورا کرنے کیلئے افغانستان میں موجود تھے جہاں وہ کچھ عرصہ قبل مارے گئے ہیں۔پرویز مشرف نے حالیہ انٹریو میں جنرل ریٹائر شاہد عزیز کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بیان جاری کیا تھا کہ شاہد عزیزتو میرا رشتہ دار بھی ہے،میں جانتا ہوں اسے وہ ایک اَن بیلنس آدمی ہے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ کو پتہ ہے وہ کدھر ہیں؟کوئی پتہ نہیں کہ وہ داڑھی اگاکر شاید وہ سیریا(شام)میں گیا ہوا ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں مر گیا ہے وہاں،تو یہ ہے شاہد عزیز اور آپ نہیں جانتے کہ ایک زمانے میں یہ کیا تھا، میں جانتا ہوں کہ جب یہ میجر اور کرنل تھا، اس وقت یہ کیا کر رہا ہوتا تھا، یہ ایک ان بیلنسڈ آدمی ہے کبھی ایک طرف تو کبھی دوسری طرف۔ اب یہ لکھتا ہے تو، سب شاہدعزیز شاہد عزیز کرتے تھے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں