حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نگراں وزیراعظم کے متفقہ نام پر اتفاق نگراں وزیراعظم کوئی خاتون ہو گی یا مرد ہوگا؟ خورشید شاہ نے بتا دیا

  ہفتہ‬‮ 19 مئی‬‮‬‮ 2018  |  16:46

اسلام آباد(اے این این ) حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نگراں وزیراعظم کے متفقہ نام پر اتفاق کرلیا گیا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق نگراں وزیراعظم کی تقرری پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق کے بعد اب نگراں وفاقی کابینہ پر بھی مشاورت جاری ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اور خورشید شاہ کے درمیان پنجاب، سندھ اوربلوچستان کی نگران وزرات اعلیٰ پر بھی مشاورت جاری ہے جب کہ مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں نگران وزیراعلیٰ کے لیےبھی پیپلزپارٹی سے رائے مانگی ہے۔نگراں وزیراعظم کے معاملے پر جب اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سے سوال کیا گیا کہ کیا

نگراں وزیر اعظم چھوٹے صوبوں سے ہو گا؟ اس پر خورشید شاہ نے کہا کہ صوبے کا بتا دیا تو باقی کیا بچے گا۔اپوزیشن لیڈر سے سوال کیا گیا کہ نگراں وزیراعظم کوئی خاتون ہو گی یا مرد ہوگا؟ اس پر خورشید شاہ نے جواب دیا کہ نگراں وزیراعظم کے لیے جنس کی پابندی نہیں دونوں ہوسکتے ہیں۔خورشید شاہ سے سوال کیا گیا کہ نگراں وزیراعظم کے لیے میڈیا پر جو نام چل رہے ہیں کیا ان میں کوئی نام ہے؟ اس پر اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ جو نام فائنل ہورہا ہے اس کا میڈیا پربھی چرچا ہو۔اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھاکہ ہماری کوشش ہے کہ متفقہ طور پر غیر متنازعہ شخص کو وزیراعظم لگایا جائے، منگل کو وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد نگراں وزیر اعظم کینام کا اعلان کروں گا۔ادھر سپیکر قومی اسمبلی سردارایاز صادق نے کہا ہے کہ نگران وزیراعظم کیلئے قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف میں حتمی میٹنگ منگل کو ہوگی، لگتا ہے کہ فیصلہ الیکشن کمیشن کو ہی کرنا پڑے گا۔سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا خدا کرے کہ اتفاق رائے سے نگران وزیراعظم کا انتخاب ہو، ایسا نہ ہوا تو معاملہ ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔انہوں نے کہا قومی معاملات اتفاق رائے سے حل ہوں تو بہتر ہیں، نگران وزیراعظم کا انتخاب مل کر نہیں کر سکتے تو قومی فیصلے کیا کریں گے۔سردار ایاز صادق نے مزید کہا کہ حالات اس نہج تک پہنچانے میں سیاستدان بھی شریک ہیں، حکومت کا فیصلہ ووٹوں سے ہونا ہے، انتخابات جمہوری مستقبل کے حوالے سے اہم ہیں۔ انہوں نے کہا غیر یقینی صورتحال سے نجات آزادانہ اور شفاف انتخابات سے ہی ممکن ہے، انتخابات شفاف نہ ہوئے تو پھر سوالات اٹھیں گے۔ ان کا کہنا تھا پاکستان کسی قسم کے تنا کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں