ملک 84 ارب ڈالر کا مقروض مگر ان پیسوں کا مصرف آج تک نظر نہیں آرہااحتساب کرنا اگر جرم ہے تو ہوتا رہے گا،چیئرمین نیب کا نوازشریف کی پریس کانفرنس پر دھماکہ خیز ردعمل ،کیا کچھ کہہ دیا؟

  جمعرات‬‮ 10 مئی‬‮‬‮ 2018  |  17:18

پشاور،اسلام آباد(ا ین این آئی)چیئرمین نیب جاوید اقبال نے کہا ہے کہ شخصیت پرستی سے بالاتر ہو کر تحقیقات کرتے ہیں،اگر احتساب کرنا جرم ہے تو ہوتا رہے گا،نیب کے نوٹس ذاتی نہیں ہوتے،بیوروکریسی کی خدمات پاکستان کے ساتھ ہونی چاہیے نہ کہ حکومت کے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز نیب خیبر پختونخواہ میں تقریب برائے تقسیم چیک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ چیئرمین نیب جاوید اقبال نے کہا کہ ملک 84 ارب ڈالر کا مقروض ہوچکا مگر ان پیسوں کا مصرف آج تک نظر نہیں آرہا۔بیوروکریسی کی خدمات پاکستان کے ساتھ ہونی چاہیے نہ کہ

حکومت کے۔ انہوں نے کہا کہ ناخداں کو کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے ،نیب کی تمام تر وفاداریاں صرف پاکستان کے ساتھ ہیں، شخصیت پرستی سے بالاتر ہو کر تفتیش و تحقیقات کرتے ہیں۔نیب کو اپنے کسی اقدام پر کسی قسم کی تشہیر کی ضرورت نہیں،نیب قانون اور آئین کے دائرہ میں رہتے ہوئے اختیارات کا استعمال کرتا ہے۔اس سے پہلے پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے منی لانڈرنگ سے متعلق نیب کے نوٹس پر چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال سے آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دور ان کھلے عام معافی مانگنے اور مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ساکھ سے محروم ہونے والے کسی متعصب ادارے کا لقمہ بننے کیلئے تیار نہیں ٗاپنی قانون ٹیم سے مشاورت شروع کردی، تمام قانونی آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں ٗ آنے والے دنوں میں بھرپور اقدامات کریں گے، جو کچھ ہورہا ہے یہ احتساب نہیں، احتساب کے نام پر میرا، میری جماعت اور (ن) لیگ کی حکومتوں کی انتظامی مشینری کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا غیر منصفانہ سلسلہ ہے ٗپریس ریلیز کے بعد نیب کی طرف سے آنے والی وضاحت ’’عذر گناہ بد تر از گناہ‘‘ہی کہی جاسکتی ہیں ٗ الزام کی نوعیت اتنی سنگین اور شرمناک ہے، نظر اندز کرنا ملک کے سیاسی، جمہوری اور آئینی نظام کو خطرے میں ڈالنا ہے ٗکسی بھی محبت وطن پاکستانی پر اس طرح کے بے بنیاد گھٹیا اور مضحکہ خیز الزامات ناقابل برداشت ہیں ٗ کسی طرح کی تفتیش کے بغیر ایک گمنام سے اخباری کام کو بنیادبنا کر چیئرمین کے نام کے ساتھ پریس جاری ہونا کردار کشی اور میڈیا ٹرائل کی انتہائی مکروہ مثال ہے ٗ کیا نیب نہیں جانتا دو سال پہلے بھی اسٹیٹ بینک نے اس کی تردید کردی تھی؟ کیا نیب کو نہیں معلوم کہ دو سال پہلے بھی عالمی بینک نے دو ٹوک وضاحت کردی تھی؟کیا نیب کو نہیں معلوم ورلڈ بینک نے کہہ دیا تھا کہ نہ منی لاڈنگ ہوئی نہ اس میں کسی شخص کانام ہے؟ کیا نیب کو نہیں معلوم کہ ستمبر 2016 میں معتبر اخبارات نے کیا لکھاتھا ٗ چیئرمین بتائیں گے کہ کیا انہوں نے کالم نگار کو بلا کر کوئی ثبوت مانگے؟ کس نے چار ماہ بعد انہیں یہ کالم یاد دلایا؟ کیا انہوں نے کسی طرح کی ابتدائی تحقیق کی؟ کیا ورلڈ بینک یا اسٹیٹ بینک سے کچھ پوچھا؟ کیا دو سال قبل سامنے آنے والے اس قضیے یا اس پر ہونے والے رد عمل کا جائزہ لیا؟ انہیں رات کے لمحات میں ایسی پریس ریلیز دینے کی ایمرجنسی کیوں محسوس ہوئی؟ توقع ہے تمام سیاسی جماعتیں تقسیم کی لکیروں سے ہٹ کر مسئلے کا جائزہ لیں گی اور پارلیمنٹ کی بالادستی قائم کریں گی۔ جمعرات کو نیب کی جانب سے منی لانڈرنگ سے متعلق نوٹس کے جواب میں پنجاب ہاؤس میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے میاں نوازشریف نے کہا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ کئی بار نیب کی جانبداری ٗ اس کے غیر منصفانہ اور بڑی حد تک متعصب اور عناد پر مبنی رویے کی طرف اشارہ کرتا رہا ہوں، چیئرمین نیب کی طرف سے جاری ہونے والی اس پریس ریلیز نے میری باتوں کی توثیق کردی۔انہوں نے کہا کہ اس سے ثابت ہوگیا ہے کہ کس طرح ایک ادارے کے سربراہ نے اپنی قانونی ذمہ داریوں کو پس پشت ڈال کر میری کردار کشی اور میڈیا ٹرائل کو مشن بنالیا، انہوں نے کہاکہ پہلے تقریباً دو سال قبل ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کو مسخ کر کے اس کا جواز بنایا گیا ٗدباؤ پڑا تو چار ماہ پہلے اردو اخبار میں چھپنے والے غیر معروف کالم کو اتنی سنگین الزام تراشی کا جواز بنالیا گیا، انہوں نے کہاکہ آٹھ مئی کے پریس ریلیز کے بعد نیب کی طرف سے آنے والی وضاحت تیں ’’عذر گناہ بد تر از گناہ‘‘ہی کہی جاسکتی ہیں ۔ نوازشریف نے کہاکہ الزام کی نوعیت اتنی سنگین اور شرمناک ہے کہ اسے نظر اندز کرنا پاکستان کے پورے سیاسی ٗ جمہوری اور آئینی نظام کو خطرے میں ڈالنا ہے، الزام ہے کہ نوازشریف نے (جو تین بار اس ملک کا وزیر اعظم رہ چکا ہے)تقریباً پانچ ارب ڈالر کی بھاری رقم ملک سے باہر بھیجی، یہ رقم منی لاڈرنگ کے ذریعے بھیجی گئی، اس رقم کے ذریعے پاکستان زر مبادلہ کے ذخائر کو نقصان پہنچایا گیا اس رقم کے ذریعے بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر کو طاقتور بنایا گیا۔ نوازشریف نے کہاکہ کسی بھی محبت وطن پاکستانی پر اس طرح کے بے بنیاد گھٹیا اورمضحکہ خیز الزامات ناقابل بر داشت ہیں اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ احتساب کے نام پر قائم ہونے والا ادارہ میرے خلاف جھوٹے اور من گھرٹ الزامات کا مورچہ بن چکا ہے، کسی طرح کی ابتدائی تحقیق و تفتیش کے بغیر ایک گمنام سے اخباری کام کو بنیادبنا کر چیئرمین کے نام کے ساتھ پریس جاری ہونا کردار کشی اور میڈیا ٹرائل کی انتہائی مکروہ مثال ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نے کہا کہ آپ سب کومعلوم ہے کہ میرے خلاف نیب عدالت میں جاری ریفرنس کا تعلق بھی اسی طرح کی ایک بے سرو پا میڈیا رپورٹ سے ہے جسے ’’پاناما پیپرز ‘‘کا نام دیا گیا، دنیا کے بیسیوں ممالک اور سیکڑوں افراد کا اس میں ذکر تھا لیکن کسی نے بھی اسے توجہ کے لائق نہیں سمجھا۔ انہوں نے کہاکہ یہاں تک کہ جب میں نے از خود سپریم کورٹ سے اس پر کمیشن بنانے کی درخواست کی تو اسے غیر ضروری مشق قرار دے دیا گیا، میرے سیاسی مخالفین جب پٹیشن لے کر گئے تو اسی سپریم کورٹ نے فضول ٗ لغو اور بے معنی قرار دیکر واپس کر دیا پھر نامعلوم کیا ہوا کہ یہ فضول ٗ لغو اور ناکارہ پٹیشن مقدس ہوگئی آپ کو یاد ہوگا کہ پانا ما پیپرز میں سرے سے میرا نام بھی نہیں تھا ۔انہوں نے کہاکہ میرے کسی بچے پر کسی قانونی کارروائی کا کوئی الزام نہیں تھا جو کچھ ہوا وہ آپ کے سامنے ہے، انہوں نے کہاکہ جے آئی ٹی سے نیب ریفرنسز پر پھیلی کہانی تاریخ کا وہ سیاسی باب ہے جس پر آنے والی نسلیں افسوس کرتی رہیں گی ۔ نواز شریف نے کہاکہ پاناما پیپر ز میں بنائی گئی جے آئی ٹی ہیروں پر مشتمل ہونے کے باوجود میرے خلاف ایک پائی کی بدعنوانی ٗ کمیشن یا کک بیکس تلاش نہیں کرپائی، مجھے وزارت عظمیٰ سے فارغ کرنا طے پاچکا تھا، کوئی بہانہ نہ ملا تو اقامہ کو بنیاد بناکر خواہش پوری کرلی گئی ۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ بے سروپا پاناما پیپرزسے شروع ہونے والی کہانی جاری ہے، 9 ماہ سے ایک تماشہ لگا ہے، درجنوں گواہ پیش ہوئے، ہر ایک نے تصدیق کی کہ میرا لین دین سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا اس کے باوجود اس بوگس مقدمے میں 70 کے لگ بھگ پیشیاں بھگت چکا ہوں جو پاکستان کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے چونکہ طوطا مینا کی کہانیوں سے کچھ برآمد نہیں ہوا اس لیے کوشش ہورہی ہے کسی نہ کسی طرح کوئی نیا کیس بنایا جائے اور مجھے سزا دلوائی جائے۔نوازشریف نے کہا کہ پاناما پیپرز کے بعد ورلڈ بینک کی رپورٹ کو مسخ کرکے پیش کرنا بھی اسی متعصب سوچ کی علامت ہے، یہ اسی ڈرامے کی دوسرے قسط ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا نیب نہیں جانتا کہ دو سال پہلے بھی اسٹیٹ بینک نے اس کی تردید کردی تھی؟ کیا نیب کو نہیں معلوم کہ دو سال پہلے بھی ورلڈ بینک نے دو ٹوک وضاحت کردی تھی؟کیا نیب کو نہیں معلوم ورلڈ بینک نے کہ دیا تھا کہ نہ منی لاڈنگ ہوئی نہ اس میں کسی شخص کانام ہے؟ کیا نیب کو نہیں معلوم کہ ستمبر 2016 میں وال سٹریٹ جنرل ٗڈاناور بزنس ریکارڈرجیسے معتبر اخبارات نے کیا لکھاتھا اس سب کے باوجود کسی اخبار کے چار ماہ کے پہلے سے گمنام کالم کو بنیاد بناکر کسی رتی بھر ثبوت بلکہ رتی بھر شک کے بغیر میرا نام بھارت کو اربوں ڈالر کی منی لانڈرنگ میں ملوث کرنا اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ نیب اپنی ساکھ کھو چکا ہے، اس کا اعتبار ختم ہوچکا اس کا متعصب چہرہ پوری طرح بے نقاب ہوچکا ہے اب یہ ادارہ اور اس کا چیئرمین اس کریڈیبلٹی سے محروم ہوچکے جو کسی بھی احتسابی ادارے کیلئے ضروری ہے۔نوازشریف نے کہاکہ چیئرمین نیب نے میری کردار کشی ہی نہیں کی، قومی مفاد اور ملکی آبرو کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ نوازشریف نے کہاکہ چیئرمین بتائیں گے کہ کیا انہوں نے کا لم نگار کو بلا کر کوئی ثبوت مانگے؟ انہیں چار ماہ بعد کس نے یہ کالم یاد دلایا؟ کیا انہوں نے کسی طرح کی ابتدائی تحقیق کی؟ کیا ورلڈ بینک یا اسٹیٹ بینک سے اس معاملے کے بارے میں کچھ پوچھا؟ کیا انہوں نے دو سال قبل سامنے آنے والے اس قضیے اور اس پر ہونے والے رد عمل کا جائزہ لیا؟ انہیں رات کے لمحات میں ایسی پریس ریلیز دینے کی ایمرجنسی کیوں محسوس ہوئی؟سابق وزیراعظم نے کہا کہ چیئرمین نیب پر لازم ہے کہ وہ اگلے 24 گھنٹوں میں شواہد سامنے لائیں ٗاگر نہیں کرسکتے تو مطالبہ کرتا ہوں قوم سے کھلے عام معافی مانگیں ٗاس کھلے تعصب کا مظاہرہ کرنے کے بعد وہ اس منصب پر قائم رہنے کا جواز کھوچکے ہیں لہٰذا فوری استعفیٰ دے گھرچلے جائیں۔ (ن) لیگ کے قائد نے کہا کہ میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ ہم نے اپنی قانون ٹیم سے مشاورت شروع کردی ہے ہم تمام قانونی آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں ٗ آنے والے دنوں میں بھرپور اقدامات کریں گے، جو کچھ ہورہا ہے یہ احتساب نہیں، احتساب کے نام پر میرا، میری جماعت اور (ن) لیگ کی حکومتوں کی انتظامی مشینری کے خلاف انتقامی کاروائیاں کا غیر منصفانہ سلسلہ ہے۔انہوں نے کہاکہ پارٹی کے صف اول کے تما م رہنماؤں کو مقدمات میں الجھایا جارہا ہے، اس کا مقصد مقبول سیاسی قوتوں کو رسوا کرنا، جمہوریت کو کمزور کرنا اور خاص کر ہمیں نشانہ بنانا ہے۔ نوازشریف نے کہاکہ نیب کی 90 فیصد کارروائیاں اسی دائرے میں گھوم رہی ہیں، یہ سب کچھ انتخابات سے پہلے شرمناک اور قبل از وقت دھاندلی ہے میں دو ٹوک الفاظ میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ یہ سب کچھ آئین و قانون کے خلاف ہے، ہم ساکھ سے محروم ہونے والے کسی متعصب ادارے کا لقمہ بننے کیلئے تیار نہیں۔نوازشریف نے کہاکہ میں وزیر اعظم کا ممنون ہوں کہ انہوں نے یہ معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھایا ہے میں توقع رکھتا ہوں کہ تمام سیاسی جماعتیں تقسیم کی لکیروں سے ہٹ کر اس مسئلے کا جائزہ لیں گی اورحقیقی طورپر پارلیمنٹ کی بالادستی کی تاریخ رقم کر یں گے انہوں نے کہاکہ میں میڈیا کے بڑے حصے کا بھی شکر گزار ہوں جس نے نیب پریس ریلیز کے بعد چند گھنٹوں بلکہ چند منٹوں کے اندر اندر اس کا پوسٹ مارٹم کر کے اصل حقائق عوام کے سامنے پیش کر دیئے ۔ نوازشریف نے کہاکہ مجھے توقع ہے کہ آئندہ بھی معتبر قومی میڈیا ٗ معاملات کو کسی فرد کے حوالے سے نہیں بلکہ ملکی مفاد اور انصاف پسندی کی آنکھ سے دیکھے گا ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں