ن لیگ کے اہم رہنماکی ساتھیوں کے ہمراہ دن دیہاڑے ایک گھنٹہ اندھا دھند فائرنگ ،3افراد قتل ، 22افراد زخمی ،زخمی تڑپتے رہے ملزمان بھنگڑے ڈالتے رہے،لرزہ خیز واقعہ

  منگل‬‮ 24 اپریل‬‮ 2018  |  21:22

جڑانوالہ (آئی این پی) ن لیگ کے اہم رہنماکی ساتھیوں کے ہمراہ دن دیہاڑے ایک گھنٹہ اندھا دھند فائرنگ ،3افراد قتل ، 22افراد زخمی ،زخمی تڑپتے رہے ملزمان بھنگڑے ڈالتے رہے،لرزہ خیز واقعہ، ن لیگی یو سی چیئرمین کی ساتھیوں کے ہمراہ دن دیہاڑے ایک گھنٹہ اندھا دھند فائرنگ کے نتیجہ میں گندم کی کٹائی کرنیوالی ماں بیٹی سمیت 3افراد قتل ، 6خواتین سمیت 22افراد زخمی ، پولیس اڑھائی گھنٹے لیٹ پہنچی اور زخمی ہونیوالے افرادتڑپتے رہے ملزمان بھنگڑے ڈالتے فرار ہوگئے،ہسپتال کی ایمرجنسی وارڈم میں رش کے باعث زخمیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، مقتولین کے ورثاء کی

سینہ کوبی اور احتجاج ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ سی پی او نے رپورٹ طلب کرلی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی،تہر ے قتل کی لرزہ خیز واردات سے علاقہ میں خوف کی فضاء برقرار مکین گھروں میں محصور ۔ بتایا گیا ہے کہ جڑانوالہ کے نواحی علاقہ تھانہ روڈ الہ روڈ کی حدود چکنمبر 377گ ب میں ن لیگی یو سی چیئرمین پیر خرم عباس شاہ کی دیہہ ھذا ہی میں سرور چڈھر گروپ کیساتھ اراضی پر قبضہ کا تنازعہ چل رہا ہے گزشتہ روز چڈھر گروپ کے افراد گندم کی کٹائی کررہے تھے کہ اسی دوران پیر خرم عباس گروپ کے مسلح افراد نے گندم کی کٹائی میں مصروف افراد پر دھوا بول دی اور اندھا دھند فائرنگ کرکے ماں بیٹی سمیت 3افراد صغراں بی بی زوجہ احمد علی، پٹھانی بی بی دختر احمد علی، ضدی احمد ولد محمد علی کو قتل کردیا، جبکہ فائرنگ کی زد میں آکر 6خواتین سمیت 22افراد مونداں بی بی ، کوثر بی بی، مغلاں بی بی ، طعلال بی بی، وزیراں بی بی، فاطمہ بی بی، صالح، بشیر علی، جعفر علی، زاہد اقبال ، افضل ، خادم حسین، عبدالستار ، عمر حیات ، سارنگ علی، علی شیر ، دوست محمد ، انور علی، اکبر علی، آصف ، مہندی احمد، اعظم شدید زخمی ہوگئے، مقتولین کے ورثاء نے بتایا کہ ملزمان ایک گھنٹے تک فائرنگ کرتے رہے اور اطلاع کے باوجود پولیس حسب روایات اڑھائی گھنٹہ تک لیٹ پہنچی زخمی ہونے والے افراد تڑپتے رہے اور ملزمان نعشوں پر بھنگڑا ڈالتے رہے، زخمی ہونیوالے افراد کو ریسکیو 1122نے طبعی امداد کی۔ جب ٹی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا تو ایمرجنسی وارڈ میں رش کے باعث ورثاء کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، مقتولین کے ورثاء نے پولیس کیخلاف احتجاج کیا اور قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ تہرے قتل کی لرزہ خیز واردات سے علاقہ میں خوف کی فضاء برقرار ہے اور مکین گھروں میں محصور ہوچکے ہیں۔ورثاء نے الزام عائد کیا کہ پیر خرم عباس شاہ ن لیگی چیئرمین ہے اور اسے سیاسی پشت پناہی حاصل ہے اور پولیس اس کے ڈیرے پر مبینہ طور پر موجود تھی، اطلاع پر پولیس نے نعشوں کو تحویل میں لیکر پوسٹمارٹم کیلئے ہپتال میں منتقل کردیا ہے، پولیس کے مطابق پیر خرم عباس شاہ گروپ کے چند افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، تہرے قتل کی لرزہ خیز واردات پر سی پی او فیصل آباد نے رپورٹ طلب کرلی ہے اور ملزمان کی گرفتاری کیلئے ٹیمیں تشکیل دے دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں