2017 ء میں صرف پنجاب میں کتنے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات ہوئے ،کون سے تین بڑے شہر ان گھناؤنے کاموں میں سرفہرست ہیں؟چونکادینے والے انکشافات

  پیر‬‮ 16 اپریل‬‮ 2018  |  18:55

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف سنٹرل پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر مرادراس نے کہاہے کہ پنجاب میں حالیہ زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال خطرناک حدتک خراب ہو چکی ہے، پنجاب کے تمام اداروں کی کارکردگی عام آدمی کو انصاف اور ان کے مسائل حل کرنے میں بالکل ناکام دکھائی دیتے ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن کے گھرپر ہونے والی فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہیں،یہ 1997 ء میں سپریم کورٹ پر ہونے والے حملے کی ایک کڑی ہے جسٹس اعجازالاحسن پانامہ سے لے کر ہفتہ کے دن تک عدالت عظمیٰ میں مفادِعامہ کے نہایت اہم کیسوں

میں چیف جسٹس کی معاونت کررہے ہیں۔ان خیالات کااظہار ڈاکٹر مراد راس نے چیئرمین سیکرٹریٹ گارڈن ٹاؤن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ پولیس کی کاکردگی انتہائی ناقص ہے ، پولیس تھانوں میں سائلین کی ایف آئی آر درج کرنے سے گریزاں ہوتی ہے ۔انہوں نے طلال چوہدری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ جڑانوالہ واقع پر طلال چوہدری کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلا اور یہی طلال چوہدری نوازشریف کے لئے بار بار میڈیا پر آکرشریف خاندان کے حق میں گفتگو کرتا ہے اور ان کی گردن ہر وقت نااہل وزیراعظم کے پیچھے نظرآتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ پنجاب میں روز بروز خواتین اور بچوں کے خلاف سنگین نوعیت کے جرائم میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ، اس کی بڑی وجہ استغاثہ عدالتوں میں اپنا کیس مکمل طور پر ثابت نہیں کرسکتا، چونکہ پراسیکیوشن برانچ میں نااہل لوگ موجود ہ حکومت سے وابستہ ہیں، 2017 ء میں خواتین کے خلاف تشدد اور زنا بالجبر کے تقریباً 245 کیسز رجسٹرڈ ہوئے جن میں ملزمان کی تعداد 300 ، گرفتار شدگان 209 ، چالان جمع ہوا 187 ، ملزمان جو بری ہوئے 11ہیں اس سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ عزت کے نام پر جو قتل عورت کاہورہا ہے ، اس میں د ن بدن اضافہ جارہا ہے ، حکومت صرف زبانی جمع خرچ کے اصول پر کاربند ہے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے لئے محکمہ در محکمہ کھومتی جا رہی ہے ،ان سنگین نوعیت کے مقدمات کے خلاف کوئی ٹھوس اقدامات کرنے سے قاصر ہے۔ انہوں نے کہاکہ 2017 ء میں صرف پنجاب میں111 سے زائد بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات ہوئے ، قصور ،ننکانہ ، شیخوپورہ سرفہرست ہے ،یہ اضافہ پچھلے سال کی نسبت 36 فیصد زیادہ ہے ، بدقسمتی سے ان جرائم میں قریبی رشتہ دار ، محلے دار اور گلی محلے میں پھرنے والے آوارہ گردلوگ شامل ہیں اور حکومت ، وقت نے اس بات پر کوئی ایسے اقدامات نہ کئے ہیں جنسے جرائم میں کمی اور اسے جرائم کے خلاف بچوں کو تحفظ دیاجاسکے۔ایسی ہی صورتحال 2018 ء میں ہے کہ اب تک 32 سے زائد بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات جن میں جڑانوالہ ، قصور، ملتان ، وہاڑی ، گوجرانوالہ ،فیصل آباد ، ٹوبہ ٹیک سنگھ ، سرگودھا، راجن پور ودیگر اضلاع شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ بہت سارے مقدمات میں پولیس ایف آئی آر درج کرنے گریزاں ہوتی ہے۔323 کیسز میں ایف آئی آر رجسٹرڈ نہ ہوسکی ، 165 کیسز میں لوگ تھانوں تک نہ پہنچ پائے۔709 واقعات کی اطلاع بروقت پولیس کو دی گئی ان اعداد وشمار سے آپ بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ حالات کس قدر سنگین نوعیت اختیار کرتے جارہے ہیں ۔ایسی ہی صورتحال معصوم بچو ں کے ساتھ ہورہی ہے ، چونکہ حکومت نے سانحہ قصور سے کوئی سبق نہیں سیکھا ہے، جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ قصور میں ایک میں ایک ہی مقام پر 10 سنگین نوعیت کے واقعات ہوئے جس میں زینب جیسی بچیوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا اور یہ سلسلہ اس وقت بے نقاب ہوا جب سپریم کورٹ نے ایسے سنگین نوعیت کے جرائم کاازخود نوٹس لیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں