شریف برادران فوج کو دعوت دے رہے ہیں، اقامہ ویزے کے لئے نہیں بلکہ کس کام آتاہے؟معروف قانون دا ن اعتزاز احسن کے انکشافات

  جمعہ‬‮ 23 فروری‬‮ 2018  |  23:58

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ شریف برادران فوج کو دعوت دے رہے ہیں۔ پنجاب کی بیورو کریسی شریف برادران کی ذاتی ملازم ہے۔ دفاتر بند کرنے والے افسران کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیئے۔ اقامہ ویزے کے لئے نہیں پیسہ چھپانے کے لئے کام اتا ہے ۔ افسران ملک سے غداری ، شریفوں سے وفاداری کر رہے ہیں ۔ لیگی امیدواروں کو آزاد قرار دے کر حدود سے تجاوز کیا فیصلہ چیلنج ہو سکتا ہے ۔نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں اعتزاز احسن نے کہا کہ میاں صاحب

نے خودکش جیکٹ پہن رکھی ہے اور چوک میں کھڑے ہیں کہ سب کو لے کر جانا ہے پہلے تو ان کا توپ خانہ فائر کر رہا تھا اور عدلیہ اور فوج کو نشانہ بنا رہا تھا۔ عدلیہ کی جانب سے تحمل کا مظاہرہ کیا گیا انہوں نے کہا کہ اب توپ خانہ اور پیادہ فوج قبضہ کرنے والی ہے۔ پنجاب بیورو کریسی میں شریف برادران کے ذاتی ملازم ہے جن افسران نے دفاتر کو تالے لگائے انہوں نے حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ شریف برادران فوج کو دعوت دے رہے ہیں اور چیمہ ایک پرائیویٹ کمپنی کا ایم ڈی تھا انہیں لاکھوں روپے تنخواہ ملتی تھی ایسے افسران ملک سے غداری اور شریف خاندان سے وفاداری نبھا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ آصف زرداری نے بے نظیر کی شہادت پر بھی پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا اور یہ ایک احد چیمہ کی گرفتاری پر چلا گئے۔ دفاتر بند کرنے والے افسران سے بھی تحقیقات ہونی چاہیءں۔ ان افسران کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ 28جولائی کو5ججوں کا فیصلہ نرم تھا۔ جن ریفرنس پر نواز شریف کو سزا ہو سکتی تھی وہ نیب کورٹ کو بھجوا دیئے ۔ انہوں نے کہا کہ اقامہ منی لانڈرنگ سے بڑا جرم ہے قانون میں بیٹے کی حیثیت نہیں تنخواہ لیں یا نہ لیں اقامہ دوسرے ملک سے وفاداری ہے ان پر آرٹیکل 6لگنا چاہیئے تھا انہوں نے کہا کہ دبئی میں ہمیں پہنچنے پر ویزا مل جاتا ہے اقامہ نہ ہو تو اس ملک میں اکاؤنٹ نہیں کھولا جا سکتااس کے پیچھے پیسے چھپے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے عہدہ صدارت کے جو فیصلے آئین اور قانون سے متصادم ہیں وہ کالعدم کرنے کی حد تک فیصلے درست ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہروں کو پکڑنے کا کوئی فائدہ نہیں عدلیہ کو پرویز مشرف کو بھی پکڑنا چاہیئے۔ نواز شریف قانون کے بند کمرے میں قید ہے مگر سیاسی طور پر فائدہ حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو مقدمہ میں منی ٹریل پیش کرنا ہے جو وہ ابھی تک پیش نہیں کر سکے اور منی ٹریل اصل مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کی تقریر پر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے مگر کسی کو تقریر کرنے سے روکا نہیں جا سکتا۔نواز شریف جس دن جی ٹی روڈ پر نکال تھ ااس کی ریلی ناکام ہوئی تاہم 3جلسے کامیاب ہوئے تھے نواز شریف کو اسی روز عدالت کو طلب کرنا چہایئے تھا پہلے دن بلاتے تو بھیگی بکری بن کر کھڑے ہو جاتے ۔ گالم کلوچ بریگیڈ کو بلایا گیا تو وہ خاموش ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے عدالت کے تحمل کا فائدہ اٹھایا جے آئی ٹی کی کارروائی ان کیمرہ کی بجائے لائیو ہونی چاہیئے تھی۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف ڈبل گیم کھیلنے کے ماہر ہیں ۔ اپنے اوپر الزام لگنے پر انہوں نے فوراً پریس کانفرنس کی مگر نواز شریف اور مریم نواز پر لگے الزامات پر آج تک ایک لفظ بھی نہیں بولے ۔ انہوں نے کہا کہ سینٹ کے انتخابات میں (ن) لیگی امیدواروں کو آزاد قرار دینا چیلنج ہو سکتا ہے امیدواروں کے آزاد ہونے سے بھی امیدواروں اور نواز شریف پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ تاہم آزاد امیدوار جس پارٹی میں چاہیں جا سکتے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں