نوازشریف کی نااہلی کے بعد مسلم لیگ(ن) کا اگلا صدر کون ہوگا،فیصلہ ہوگیا

  جمعرات‬‮ 22 فروری‬‮ 2018  |  13:19

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)نوازشریف کی مسلم لیگ (ن)کی صدارت سے نااہلی کے بعد پارٹی کے سینئر رہنمائوں کا مشاوری اجلاس ہوا جس میں نئے صدر کے نام پر غور کیا گیا ،ذرائع کے مطابق اجلاس میں پارٹی صدارت کے لیے شہباز شریف کا نام تجویز کیا گیا جبکہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پارٹی کے صدر کے لیے راجہ ظفر الحق کا نام تجویز کر دیا۔علاوہ ازیں معلوم ہوا ہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما سردار یعقوب ناصر کو پارٹیکا قائم مقام صدر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ن لیگ کی سینٹرل ایگزیکٹو کمٹی کا

اجلاس اگلے ہفتے طلب کیا گیا ہے جبکہ نواز شریف نے اپنا دورہ لندن بھی ملتوی کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ روز سپریم کورٹ نے نواز شریف کو پارٹی صدارت کے لیے نا اہل قرار دیا تھا۔دریں اثنا سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ نا اہلی کے فیصلے میرے لئے غیر متوقع نہیں ٗ پہلے وزارت عظمیٰ چھینی ٗ پھر پارٹی صدارت بھی چھین لی ٗ اب میرا نام بھی چھین لو ٗ سارے فیصلے غصے اور بغض میں دیئے جارہے ہیں ٗ ساری زندگی کیلئے نااہلی پر غور ہورہاہے ۔جمعرات کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دور ان محمد نواز شریف نے مسلم لیگ ن کی صدارت سے نااہل قرار دیئے جانے کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلے غصے اور بغض میں دیئے جارہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم نوازشریف نے کہا کہ فیصلے نے مقننہ پارلیمنٹ کا اختیار بھی چھین لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 28 جولائی کو بلیک لاء ڈکشنری استعمال کی گئی اور میری وزارت چھینی گئی جبکہ گزشتہ روز آنے والے فیصلے سے میری پارٹی صدارت بھی چھین لی گئی۔انہوں نے کہاکہ میرے پاس اب میرا نام محمد نواز شریف باقی رہ گیا ہے، آئین میں کوئی شق نکال کر مجھ سے وہ بھی چھیننا چاہتے ہیں تو چھین لیں۔انہوں نے کہاکہ اگر میرا نام چھیننے کیلئے آئین میں کوئی شق نہیں ملتی تو بلیک لا ڈکشنری کی مدد لے کر میرا نام چھین لیا جائے جس طرح 28 جولائی کو وزارتِ عظمیٰ چھیننے کیلئے بلیک لا ڈکشنری کا سہارا لیا گیا تھا۔نوازشریف نے کہا کہ یہ فیصلے میری ذات کے گرد گھومتے ہیں ٗدنیا میں ایسا کوئی قانون نہیں کہ بیٹے سے تنخواہ نہیں لی تو نااہل کر دیں۔ سابق وزیر اعظم نے کہاکہ وزارت عظمیٰ اور پارٹی صدارت چھین لینے کے بعد اب اس چیز پرغور کیا جارہا ہے کہ نواز شریف کو زندگی بھر کے لیے نااہل قرار دے دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے کہ والد کو بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے پر اور اقامہ رکھنے کی بنیاد پر نااہل قرار دے دیا جائے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ انتخابی اصلاحات بل کے حوالے سے گزشتہ روز سامنے آنے والے فیصلے کی بنیاد بھی 28 جولائی کا ہی عدالتی فیصلہ ہے۔نواز شریف نے کہاکہ کل یہ بھی کہا گیا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کا قانون ایک شخصیت کیلئے تھا ٗ یہ قانون بھٹو نے بھی بنایا تھا ٗ جسے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے ختم کیا اور بعد میں 2014 میں اسے سب پارٹیوں نے مل کر بنایا ٗ یہ قانون کسی کی ذات کیلئے کیسے ہوسکتا ہے؟

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں