این اے 154 لودھراں کا ضمنی الیکشن،ن لیگ کے صدیق بلوچ اور ان کے بھتیجے نے انتخاب لڑنے سے انکار کیوں کیاتھا؟جیتنے والے پیر اقبال شاہ دراصل کون ہیں؟اس الیکشن میں 3حیرت انگیز واقعات کیا تھے؟کیا ووٹ نواز شریف کے عدلیہ مخالف سٹانس کو پڑے ،جاوید چودھری کے انکشافات

  منگل‬‮ 13 فروری‬‮ 2018  |  21:47

خواتین وحضرات ۔۔ کل لودھراں میں این اے 154 کے ضمنی الیکشن نے سارا سیاسی منظر نامہ تبدیل کر دیا‘ یہ ۔۔اس اسمبلی کا آخری ضمنی الیکشن تھا‘ یہ الیکشن پی ٹی آئی جیت کر اور ن لیگ ہار کر بیٹھی ہوئی تھی لیکن نتائج نے دونوں پارٹیوں کو حیران کر دیا‘ یہ ن لیگ کے صدیق بلوچ اور پی ٹی آئی کے جہانگیر ترین کا حلقہ ہے‘ میاں نوازشریف نے صدیق بلوچ کو ٹکٹ دینے کی کوشش کی ۔۔لیکن بلوچ صاحب نے جواب دیا‘میں صرف تین ماہ کے وقفے میں دوبار الیکشن کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا‘ ن

لیگ نے صدیق بلوچ کے بھتیجے ۔۔۔۔۔۔کو ٹکٹ کی پیش کش کی ۔۔لیکن ۔۔انہوں نے جواب دیا‘ میں 2018ء میں ایم پی اے کا الیکشن لڑنا چاہتا ہوں‘ میں اگر یہ ضمنی الیکشن ہار گیا تو میں ایم پی اے کا الیکشن بھی نہیں جیت سکوں گا چنانچہ پارٹی نے مجبوراً ایک ان ناؤن اور ان پڑھ شخص پیر اقبال شاہ کو ٹکٹ دے دیا‘ ن لیگ ۔۔اس الیکشن سے ۔۔اس قدر مایوس تھی کہ نواز شریف سمیت ن لیگ کا کوئی وزیر‘ کوئی لیڈر الیکشن مہم کیلئے لودھراں نہیں گیا‘ سوشل میڈیا تک پر کمپیئن نہیں کی گئی‘ نواز شریف نے بھی اپنے کسی جلسے‘ کسی میڈیا ٹاک میں لودھراں کیلئے ووٹ نہیں مانگا ۔۔لیکن عوام نے کل میاں نواز شریف کے ان ناؤن کھمبے کو ووٹ دے کر پورے ملک کو حیران کر دیا ، یہ پہلی حیرت تھی‘ دوسری حیرت ووٹروں کا رویہ تھا‘ لودھراں میں ٹوٹل ووٹر کی تعدادچار لاکھ اکتیس ہزار دوہے‘۔۔ان میں سے دو لاکھ ساڑھے 24 ہزارووٹرز نے ایک ایسے ضمنی الیکشن جس کے ایم این اے نے صرف تین ماہ کیلئے الیکٹ ہونا تھا‘ اس میں ووٹ ڈال کر پورے ملک کو حیران کر دیا‘تیسری حیرت پی ٹی آئی اے جیت کر بیٹھی ہوئی تھی‘ عمران خان کے امیدوار علی ترین ۔۔اس قدر کانفیڈنٹ تھے کہ یہ الیکشن کے دن ن لیگ کے انتخابی کیمپ میں بیٹھ کر چائے پیتے رہے لیکن عوام نے ۔۔انہیں ہرا کر پوری جماعت کو حیران کر دیا‘ شاید عوام دل سے عمران خان کے موروثی سیاست کے خلاف جہاد پر یقین رکھتے ہیں چنانچہ ۔۔انہوں نے والد کی سیٹ پر بیٹا قبول کرنے سے انکار کر دیا اور سب سے حیران کن بات پیپلز پارٹی کے امیدوار نے صرف تین ہزار ایک سو نواسی ووٹ حاصل کئے اور یہ ووٹ بھی زرداری صاحب کے ۔۔ان دعوؤں کے بعد ملے ،ہمیں ماننا ہوگا لودھراں کے نتائج نے میاں نواز شریف کو نیا اعتماد دے دیا‘ کیا یہ نتائج 2018ء کے الیکشن پر اثر انداز ہوں گے‘ کیا یہ ووٹ میاں نواز شریف کے عدلیہ مخالف سٹانس کو پڑے اور کیا یہ نتائج عوامی ریفرنڈم ہے‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا جبکہ ہم ایم کیو ایم کی تازہ ترین صورتحال پر بھی بات کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں