بھارت اور ٹرمپ پاکستان کے خلاف کیا گھنائونا کام کر رہے ہیں بلوچستان میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے ذریعے کیا کام کیا جانا تھا عمران قادری گٹھ جوڑ کا کیا مقصد ہے؟احسن اقبال کے تہلکہ خیز انکشافات

  اتوار‬‮ 14 جنوری‬‮ 2018  |  14:51

لاہور/نارووال( این این آئی) وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت کسی کو بھی جمہوری عمل سے نہیں کھیلنے دے گی ،بلوچستان میں پاکستان کے مفاد کے خلاف کھیل کھیلا گیا ،اکثریت کی بجائے پانچ اراکین رکھنے والی جماعت کا وزیر اعلی منتخب ہو جانے سے بہت کچھ پتہ چلتا ہے ،پاکستان کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہر کوئی اپنا کام چھوڑ کر دوسروں پر نظر رکھنا اور اس کاکام کرنا چاہتا ہے ،بلوچستان میں پاکستان کے مفاد کے خلاف کھیل کھیلا گیا ، جب دشمن آزاد بلوچستان کی مہم چلا رہے ہوں توکیا ایسے میں

وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد ان عناصر کا کھیل آسان کرنے کا سبب نہیں ؟،اگر ملک کو آگے لے کر جانا ہے تو 70سال سے جاری کھیل بند کرنا ہوں گے ،سینیٹ انتخابات کو سبوتاز کیا گیا تو یہ وفاق کے لئے اچھا شگون نہیں ہوگا،ہمیں اس طرح کے کسی بھی ایڈ ونچر سے بچنا چاہیے ،نواز شریف کے خلاف عدلیہ کا فیصلہ ملک کیلئے مہنگا ترین فیصلہ ثابت ہوا اور اس سے صرف سٹاک ایکسچینج میں 16ارب ڈالر کا نقصان ہوا ، بیرونی طاقتیں ہمیں للکار رہی ہیںلیکن ہم متحد ہونے کی بجائے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں لگے ہیں ،عام انتخابات میں نوجوان اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں کیونکہ نا تجربہ کار افراد کو ملک کی باگ ڈور نہیں دی جاسکتی ۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوںنے لاہور میں میڈیا سے گفتگواور نارروال کے علاقہ رنسیوال میں عوامی اجتماع سے خطا ب کرتے ہوئے کیا ۔احسن اقبال نے کہا کہ آج دنیا میں ابھرتا ہوا پاکستان ہے اور اس کیلئے امن اور جمہوری استحکام نا گزیر ہے ۔ اپوزیشن سے اپیل ہے کہ جب انتخابات میں پانچ ماہ باقی رہ گئے ہیں ایسے میں دھرنوں اور احتجاجی سیاست کا کوئی جواز نہیں ۔ آپ کیوں پاکستان کی ترقی کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں ۔ سرمایہ کاروں نے بڑی مشکل سے پاکستان کا رخ کیا ہےآپ کیوں انہیں بھگانا چاہتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ ایک صاحب پاکستان کو نقصان پہنچا کر کینیڈا چلے جائیں گے جبکہ عمران خان اپنا ایجنڈا پورا کرنے کیلئے ان کا کندھا استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔ آج قوم کا سوال ہے کہ آپ عوام اورنوجوانوں کامستقبل کیوں تاریک کرنا چاہتے ہیں ۔ اگر سرمایہ کار یہاں سے چلے گئے تو کون انہیں واپس لائے گا ۔ انہوںنے کہا کہ ہم نے منفی سیاست کو ناکام کرنا ہے اوراستحکام کے ذریعے اقتصادی پالیسیوں کو کامیاب کرنا ہے اور یہ سب کا فرض ہے ۔ حکومت کسی کو بھی جمہوری عمل سے نہیںکھیلنے دے گی ۔انہوں نے کہا کہ ایسے آثار لگ رہے ہیں کہ جیسے سینیٹ کے انتخابات سے کوئی ایٹم بم چلنے والا ہے ،یہ جمہوری عمل اور آئین کا تقاضہ ہے لیکن کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ یہ عمل سبوتاژ ہو ۔ صوبوں کی حد تک کہ اسمبلی ٹو ٹ جائے اور اسے غیر فعال کر دیں گےیہ وفاق کے لئے اچھا شگون نہیں ہے ہمیں اس طرح کے کسی بھی ایڈ ونچر سے بچنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں پانچ ماہ باقی رہ گئے ہیں ہمیں دنیا کو بتانا چاہیے کہ ہم وقار کے ساتھ آگے بڑھیں گے ۔ ہمیں دنیا کو یہ موقع نہیں دینا چاہیے کہ وہ کہیں کہ پچھلی دفعہ آپ کا تُکا لگ گیا ہے اور پاکستان میں جمہوریت کے سٹرکچر میں خرابی ہے اور یہاں جمہوریت چل ہی نہیں سکتی ،ہم نے انطعنوں اور الزام کو غلط ثابت کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قصور کے واقعہ پر ہر پاکستانی کا دل رنجیدہ ہے ، اس واقعہ کے ملزم کی گرفتاری کیلئے بھرپور کوششیں جاری ہیں اور ایسے واقعات کے تدارک کیلئے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس افسوسناک واقعہ کواپنی سیاست کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے بلکہ آئیں انتخابات کی تیاری کریں اور پھر پتہ چلے گا کہ کون کتنے پانی میں ہے ۔معصوم بچی کی ہلاکت اور گھنائونے جرم پر سیاست نہ چمکائی جائے اگر کچھ کارکردگی ہے تو وہ دکھائیں ،معصوم بچی کی ہلاکت کو اپنی سیاست کی بنیاد نہ بنایا جائے ۔ انہوں نے بھارتی آرمی چیف کے بیان کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ جہاں تک میری معلومات ہیں بھارتی آرمی چیف نے حملے کی دھمکی نہیں دی لیکن ان کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے ۔ ایٹمی قوت کی حامل قوتیںبہت ذمہ دار ہوتی ہیں اور دنیا توقع رکھتی ہے کہ ایٹمی طاقتیںبہت ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گی ۔ بھارتی آرمی چیف کے بیان سے ثابت ہو گیا ہے کہ بھارت غیر ذمہ دار ایٹمی ملک ہے اور اس کی نیو کلیئر سپلائر گروپ میں شمولیت یا کسی اور حیثیت میں مزید شکوک و شبہات حائل ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور بھارتی آرمی چیف کے بیانات بیرونی سطح پر پاکستان پر دبائو بڑھانے کی کوشش ہے ،جب خارجہ محاذ پر ایسی کوششیں ہوں تو کوشش ہونی چاہیے اور حالا ت کا تقاضہ ہے کہ اندرونی محاذ پر اتحاد کو قائم کیا جائے لیکن جو لوگ پاکستانی قوم میں تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں ، اندرونی استحکام کو نقصان پہنچانا چاہے ہیںوہ بتائیں وہ کس کا کام آسان کر رہے ہیں ۔ بیرونی دشمن چاہتے ہیں کہ پاکستان کمزور ہو اس کے جواب میں اپوزیشن کے رہنما دھرنے اور احتجاج کر کے کس کا کام آسان کریں گے۔اس وقت ملک کو اتحاد کی ضرورت ہے ،فوجی قیادت، معززججز اور سیاستدانوں پر ذمہ داری ہے کہ سب مل کر آگے بڑھیں ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی نا اہلی کا عدالتی فیصلہ ملک کیلئے مہنگا ترین فیصلہ ثابت ہوا اور صرف سٹاک ایکسچینج میں 16ارب ڈالر کا نقصان دیکھا گیا ۔زرداری دور میں میڈیا ہر وقت کروڑوں ،اربوں کے کرپشن کے سکینڈلزکی خبریں دیتا تھا لیکن آج اربوں کےترقیاتی منصوبے شروع ہونے اور مکمل ہونے کی خبریں آرہی ہیں ۔ انہوں نے بلوچستان میں وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ یہاں پاکستان کے مفاد کے خلاف کھیل کھیلا گیا ۔اکثریت کی بجائے پانچ اراکین رکھنے والی جماعت کا وزیر اعلی منتخب ہو جانے سے بہت کچھ پتہ چلتا ہے ۔ جب ہمارے دشمن آزاد بلوچستان کی مہم چلا رہے ہیں ایسے موقع پر وزیر اعلی کےعدم اعتماد کی تحریک سے کیا دشمنوں کا کھیل آسان نہیں ہوتا کیا ہمار ے دشمنوں کو بلوچستان کے استحکام کے حوالے سے سوال اٹھانے کا موقع نہیں ملتا ۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری عمل کو کمزور نہیں کرنا چاہیے ، بیک ڈور کھیل نہیں کھیلے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چیف جسٹس آف پاکستان کا احترام کرتے ہیں ،آئین میں ہر ادارے کو دائرہ کار فراہم کر دیا گیا ہے ،ہر ادارہ دائر ے میں رہ کرکام کرے تو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا ۔ بنیاد ی مسئلہ یہی ہے کہ ہر کوئی اپنا کام چھوڑ کر دوسرے پر نظر رکھتا ہے اور کام کرنا چاہتا ہے ۔ جب ہیجان کی کیفیت ہو گی اورجمہوری حکومتوں کو بقاء کی جنگ میں الجھا کر رکھا جائے گا تو جمہوریت کیسے مستحکم ہو گی ۔ جب سینیٹ کے انتخابات میں صرف دو ماہ باقی رہ گئے ہیں ایسے میں کوئی بھی شخص ان کے انعقاد کے حوالے سے قطعی یقینسے نہیں کہہ سکتا تو پھر ایسے میں کیا اصلاح ہو گی ۔ جمہوری عمل پر ہر وقت بے یقینی کی تلوار لٹکنے کی کیفیت ختم ہونی چاہیے ۔ انہوںنے کہا کہ عمران خان پاکستان کے چیلنجز سے نمٹنے کے اہل نہیں ۔ سیاسی موت مر کر وہ وہ تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔نارروال میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2013میں جب (ن) لیگ کو حکومت ملی تو ملک معاشی اور معاشرتی بدحالی کا شکارتھا۔ہر طر ف خوف کے سائے تھے ،ملک دہشتگردی اور اندھیروںمیںڈوبا ہوا تھا۔ 20،20گھنٹے بجلی کی لوڈ شیدنگ ہوتی تھی لیکن اب 20،20گھنٹے بجلی مہیا ہورہی ہے۔ سی پیک کی کامیابی سے پوری دنیا کے سرمایہ کار وں کا رخ پاکستان کی طرف ہے۔ اس وقت خودکونام نہاد بڑے لیڈر کہلوانے والے جو یورپ کی مثالیں دیتے ہیںوہ بتائیںکیا ان ممالک میں ترقی دھرنوں کی وجہ سے آئی ؟۔2025ت تک پاکستان 25ترقیاتی ممالک کی صف میں شامل ہوجائے گا۔ احسن اقبال نے کہا اگرہم نے خود دار قوم بننا ہے توہمیں اپنی معیشت کو مضبو ط کرناہوگا، پاکستان کی فورسز نے ملک سے دہشت گردوں کا خاتمہ کردیا جس سے دہشت گردی کی کمر ٹوٹ گئی ہے ،سی پیک کے منصوبے کی کامیابی سے مخالفین پریشان ہیں ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں